تاریک چادر تلے ہماری تاریخ


پاکستانی بچے جس کے ساتھ ہم گھر میں بیٹھ کر کوئی بات تک نہیں کرتے بلکہ، اس کو مصروف رکھنے کے لئے انہیں ڈجیٹل گیجٹس دے دیتے ہیں۔ جو صرف اور صرف یک طرفہ رابطہ ہے جس میں نہ کوئی سوال ہوتا ہے نہیں جواب۔ کیونکہ والدین کے لئے بچوں کے بار بار کے سوالات سے بچنے کے لیے، یہ سودا مہنگا نہیں ہوتا۔ پھر جب وہ اسکول جاتے ہیں۔ تو سب سے پہلا جھوٹ پڑھایا جاتا ہے جس میں اس ملک کے بانی کی جائے پیدائش غلط بتائی جاتی ہے اور یہاں سے جھوٹی تاریخ شروع ہو جاتی۔

جس میں عرب، ترخان سب ہیرو کہلواتے ہیں، اور راجہ داہر، بھگت سنگھ غدار ہوتے ہیں، جو دھرتی کے لیے قربان ہوئے وہ ہیں۔ دنیا بھر میں ڈرائیونگ کا پہلا اصول ہے کہ گاڑی چلاتے وقت پچھلا شیشہ دیکھا جاتا ہے۔ ورنہ گاڑی آگے ہی نہیں چلتی۔ ہم نے تو اپنے بچوں کے اس بیک مرر پے کالا پردہ ڈال دیا۔ بہت سادہ سی بات پتا نہیں ہمیں کیوں سمجھ نہیں آتی۔ کہ پوری دنیا اپنے تاریخ کے سائے تلے چلتے ہے۔ اور ہم اس تاریک چادر تلے چل رہے ہیں۔

اور جب یہ بچے اپنے لاشعور سے شعور کا فاصلہ طے کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ تو ہم طلبہ سیاست ( شاگرد سیاست) ان پر ممنوع کر دیتے ہیں۔ شاگرد سیاست واحد حل ہوتا ہے جس سے نوجوانوں کا رابطہ گھر سے آگے بڑھ کے سماج سے جڑتا ہیں۔ سیاسی تربیت ان کی شعور کو اجاگر کردیتی ہیں۔ ان ساری سرگرمیوں پے پابندی کے نتیجے میں ہم غیر سیاسی نسل کو فروغ دے رہے ہیں۔ کیا ہم اس ملک کو غیر سیاسی طریقے سے چلانا چاہتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر یہ پابندیاں لگانے کی وجہ میری سمجھ سے باہر ہے۔

اب جو ہم غیر سیاسی شعور یافتہ نسل پروان چڑھا رہے ہیں ان کو صرف ایک سبق یاد کرواتے ہیں۔ اچھی انگریزی بولو ملک سے باہر جاؤ خوب پیسے کماؤ مادری زبان سے گریز کرو کیونکہ لہجہ خراب ہو جائے گا۔ شاہ لطیف، رحمان بابا، بلہے شاہ سے کوئی سروکار نہ رکھے کیونکہ یہ مادری زبانوں کے شاعر ہیں۔ کتاب چھین کر آئی فون تھما دیا ہے۔ ان کے منہ سے سرسوں کا ساگ، سمندر اور دریائی مچھلی کا ذائقہ چھین کر میکڈونلڈ دے دیا، لسی سے ہٹا کر انرجی مشروبات پی لگا دیا۔

ذرا توجہ دیں کہ ہم آخر کس قوم کی تعمیر کی بات کررہے ہیں۔ آئندہ کی ہمیں یہ نسل چاہیے جو بے خبر ہے اپنے صدیوں پرانی تاریخ سے۔ اس بات سے قطعی انکار نہیں ہے کہ ہمارے بچے جدید ٹیکنالوجی سے واقف نہ ہوں۔ ضرور پڑھائیں اور آگے بڑھا کر دنیا کی اس تیز رفتار ترقی کا حصہ بنائیں۔ لیکن اپنے شناخت کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ پچھلے دنوں کسی دوست سے بات ہو رہی تھی، تو انہوں بڑے فخر سے کہا کہ یہ ملک ہم مسلمانوں کا ہے۔

جناب یہ بالکل بھول گئے کہ ان کے ملک کے جھنڈے میں سفید رنگ کس کے لیے ہے۔ کس کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر ضرور بنا پر اس کے وارث صرف مسلمان نہیں ہے۔ ہمیں اس کو اب اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آخر اس نسل کو کون سمجھائے گا، اور یہ کس کی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ سچ سے پوری طرح واقف ہو سکے۔ انگریزوں کے خلاف جو لڑائی لڑی گئی اس میں کتنے مذاہب کے لوگوں نے اپنا حصہ ڈالا۔ ہماری تاریخ دھرتی کے بہادر سپوتوں کے خون کی لالی سے رنگی ہوئے ہے۔ اور اس لال رنگ پے صرف ایک ہی چھاپ ہے دھرتی کے سپورت تھے ہم جنہیں تاریخ سے نکالا ملی۔

آخر ہماری تاریخ میں ایسی کون سی معیوب بات ہے جسے ہم چھپاتے ہیں اور نصاب میں شامل نہیں کرتے۔ ہمارے نصاب کے اندر یہ کیوں نہیں شامل کہ جی ایم سید نے سب سے پہلے پاکستان کی قرارداد منظور کروائی، مشرقی پاکستان کیوں الگ ہوا، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کیوں دے دی گئی، باچا خان کون تھے اور جمشید نسروانجی کا کردار کراچی کی ترقی میں کیا تھا، جن کے دور میں کراچی کی سڑکیں گلاب کے پانی دھلتیں تھیں۔ بھگت سنگھ کے نام پر بنایا گیا تھیٹر اس ملک میں چلانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ کے وہ لائل پور میں پیدا ہوئے۔ جو اب بھگت سنگھ کا لائل پور نہیں فیصل آباد ہے۔
ایک اور نئے پاکستان کی ہمیں ضرورت کیوں ہے ہم نے تو پہلے سے نیا پاکستان بنا ڈالا اب کونسی تبدیلی رہتی ہے سب کچھ تو تبدیل کر ڈال ہم نے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

زبیدہ بروانی کی دیگر تحریریں
زبیدہ بروانی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں