پیمرا سے خبردار رہیں: سوال کرنا منع ہے


 \"Hamzaپاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ۔ پیمرا نے فوری طور پر دو ٹیلی ویژن چینلز کی رمضان نشریات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی۔ اس پابندی کی وجہ بتاتے ہوئے پیمرا کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسے واٹس ایپ ، ٹوئٹر اور ٹیلی فون وغیرہ پر 1133 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ پیمرا کے مطابق ان شکایات میں رمضان نشریات کی آڑ میں صرف ریٹنگ کےلئے مبارک مہینے کے تقدس کو پامال کرنے اور متنازع فرقہ وارانہ اور متشددانہ گفتگو نشر ہونے پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان شکایات کی روشنی میں پیمرا نے آج ٹی وی کے پروگرام ’’رمضان ہمارا ایمان‘‘ اور اس کے میزبان حمزہ علی عباسی اور ٹی وی ون کے پروگرام ’’عشق رمضان“ اور اس کے میزبان شبیر ابو طالب پر فوری طور سے پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ایک شریک گفتگو کوکب نورانی اوکاڑوی پر بھی متنازع گفتگو کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر یہ تینوں اشخاص کسی دوسرے پروگرام یا دوسرے چینل پر بھی کوئی اختلافی گفتگو کریں گے تو اس چینل پر بھی پابندی لگا دی جائے گی۔ پیمرا کا اقدام ملک میں آزادی اظہار کے حق پر براہ راست حملہ ہے اور اسے اس واضح اور مسلمہ انسانی حق کی خلاف ورزی کی وجہ سے مسترد کیا جانا ضروری ہے۔

افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ پیمرا نے اس حوالے سے جو پریس ریلیز جاری کی ہے، اس کے مطابق یہ کیس فوری طور پر شکایت کونسل کو بھجوا دیا گیا ہے، جو 20 جون کو اس معاملہ کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کرے گی۔ حیرت انگیز بات ہے کہ پیمرا ایک ایسے ’’جرم‘‘ پر سزا دینے کا اعلان کر رہا ہے، جس کے بارے میں وہ خود شبے کا شکار ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ متعلقہ لوگوں نے ان پروگراموں میں کسی قانون یا ضابطہ کی خلاف ورزی کی تھی۔ یعنی پیمرا کی اپنی قائم کردہ شکایت کونسل کی طرف سے فریقین کا موقف سنے بغیر اور یہ جانچ کئے بغیر کہ ان پروگراموں میں کیا قابل اعتراض اور مفاد عامہ کے خلاف کون سی بات کی گئی تھی، انہیں کسی وارننگ کے بغیر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ فیصلہ پیمرا کے اپنے اعلان کے مطابق 1133 شکایات کے موصول ہونے پر کیا گیا ہے۔ 20 کروڑ آبادی کے ملک میں سے گیارہ سو شکایتیں جو واٹس ایپ ، ٹوئٹر اور ٹیلی فون جیسے مشکوک ذرائع مواصلت کے ذریعے بھجوائی گئی تھیں ۔۔۔۔ پیمرا کے اس یک طرفہ فیصلہ کےلئے کافی تھیں۔ پیمرا جیسے قومی ادارے کا یہ غیر پیشہ وارانہ رویہ نہایت افسوسناک اور ہر اخلاقی یا قانونی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات عام فہم ہے کہ کسی بھی معاملہ پر اگر توصیف و تعریف کرنے والے لوگ ہوتے ہیں تو اس کی مخالفت میں رائے دینے والوں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ کوئی سرکاری یا نیم سرکاری ادارہ کسی متنازع معاملہ پر فیصلہ کرتے ہوئے صرف یہ کہہ کر جواز پیش نہیں کر سکتا کہ اس کے پاس معاملہ میں شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

پیمرا نے ان شکایت کنندگان کے کوائف اور دائر کی گئی شکایت کا ثبوت حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں لی۔ نہ ہی اس نے یہ ضروری سمجھا کہ اس کا کوئی ذمہ دار اہلکار ان متنازع نشریات کو دیکھ اور سن کر یہ رپورٹ تیار کرتا کہ ان میں کس طرح اور کن قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس قسم کی کوئی رپورٹ تیار کئے بغیر، مواد کے بارے میں واضح اور ٹھوس موقف اختیار کرتے ہوئے چند سو شکایتوں کی بنیاد پر پروگرام بند کرنے کا حکم، ملک میں الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے والے اس ادارے کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ اس قسم کا فیصلہ بنیادی اصول قانون کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

پیمرا کی زیادتی، نااہلی، اختیارات کے اندھا دھند اور ناجائز استعمال سے قطع نظر یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ پیمرا ایک سرکاری ادارہ ہے جسے ملک میں الیکٹرانک میڈیا پر سامنے آنے والی آرا کو کنٹرول کرنے کےلئے قائم کیا گیا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں آزاد میڈیا اپنی حدود کا خود تعین کرتا ہے اور صحافیوں کے لئے خود ہی رہنما اصول اور اخلاقی ضابطہ بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ کسی سرکاری ادارے کو خواہ اسے خود مختار ادارے کا نام ہی کیوں نہ دے دیا جائے، یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ملک میں میڈیا پر نشر ہونے والی مختلف باتوں کو کنٹرول کرے اور پھر اپنے قائم کردہ ’’اخلاقی اصولوں‘‘ کی کسوٹی پر انہیں پرکھ کر یہ فیصلہ سنائے کہ کون اور کس طرح کوئی پروگرام کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا۔ یہ طرز عمل اور طریقہ کار آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے مسلمہ عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر میں آزادانہ رائے رکھنا اور اس کا اظہار کرنا ہر انسان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ اسے اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا جو ادارہ بھی اس قسم کی قدغن لگانے کا فریضہ ادا کر رہا ہے، اسے کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ کسی رائے کی قانونی حیثیت یا یہ کہ اس کے ذریعے کسی انسان کی توہین کا پہلو نکلتا ہے یا نہیں یا اس کے ذریعے معاشرتی انتشار کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔ ان تمام امور کا فیصلہ مروجہ قوانین کے تحت عدالتیں کر سکتی ہیں۔ اگر پیمرا کو سرکار نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کا اختیار دیا ہے تو اس کا یہ اختیار صرف اس حد تک قبول کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی کرے اور ملک کی کسی بھی عدالت میں متعلقہ شخص یا ادارے کے خلاف چارہ جوئی کی کوشش کرے۔ اور قانونی دلیل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرے۔ پیمرا کو صحافیوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کےلئے عدالتی اختیارات نہیں دیئے جا سکتے۔ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے علاوہ تمام صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والے اداروں کو اس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

پیمرا کا زیر نظر فیصلہ دراصل ملک کے ایک انتہا پسند مذہبی گروہ کو خوش کرنے کےلئے کیا گیا ہے۔ گویا یہ ادارہ حکومت کی سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کےلئے اپنے اختیارات کا غیر ضروری اور غیر آئینی استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملک میں آزادی اظہار کے سینکٹروں دعویدار موجود ہیں۔ ہر مضمون نگار یا پروگرام کے میزبان کو اپنی جرات اظہار پر فخر ہے اور اس کا اظہار بھی سامنے آتا رہتا ہے۔ لیکن یہ دعویٰ تب ہی درست سمجھا جا سکتا ہے جب پرزور طریقے سے ملکی میڈیا کی قوت اور صلاحیت کی بات کرنے والے یہ سب لوگ، سب کےلئے اظہار کی آزادی کے بنیادی اصول پر متفق ہوں۔ اور کوئی بھی حکومت یا ادارہ اگر کسی بھی طریقے سے اس شعبہ سے وابستہ کسی بھی فرد کا یہ حق سلب کرنے کی کوشش کرے تو سب مل کر اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور اختیار کے اس ناجائز استعمال کو مسترد کریں۔

آج نیوز اور ٹی وی ون کی رمضان نشریات پر پابندی کی وجہ دراصل حمزہ علی عباسی کی طرف سے اٹھائے گئے بعض متنازع سوالات ہیں۔ انہیں جب آج نیوز کے پروگرام ’’رمضان ہمارا ایمان‘‘ کے لئے منتخب کیا گیا تھا تو انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا تھا کہ اس پروگرام میں انہیں اپنی مرضی کے مطابق بات کرنے اور سوال اٹھانے کی اجازت ہوگی۔ وہ اپنے فیس بک پروفائل پر بھی اس موضوعات پر گفتگو کرتے رہے ہیں، جن پر ملک میں اختلاف رائے موجود ہے۔ رمضان نشریات کے دوران انہوں نے یہ طرز عمل برقرار رکھتے ہوئے ملک میں احمدی اقلیت کے بارے میں سوال اٹھایا۔ ان کا موقف ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم احمدیوں کے قتل یا استحصال کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ اگر ایسی بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص خود احمدی ہو گا۔ حمزہ عباسی کا کہنا ہے کہ وہ سنی العقیدہ مسلمان ہیں۔ لیکن وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ملک میں احمدیوں کو اقلیت قرار دیئے جانے کے باوجود ان کے خلاف ظلم کے بارے میں کیوں بات نہیں کی جا سکتی۔ پاکستانی فلم و ٹیلی ویژن کے ممتاز اداکار یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی گروہ کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔ اس سوال پر گزشتہ دنوں تفصیل سے مباحث ہوتے رہے ہیں۔ اس بحث سے قطع نظر کہ ریاست کسی گروہ کے عقیدہ کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے یا نہیں، یہ بات طے ہے کہ فی الوقت آئین پاکستان کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ ملک کے سب شہری آئین اور قانون کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں وہ مروجہ آئین یا قوانین کے بارے میں سوال کرسکیں۔ نہ ہی انہیں اہم فیصلوں کے حسن و قبح پر گفتگو سے روکا جا سکتا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اختلاف رائے ہی کسی جمہوری معاشرے کا حسن ہے لیکن پاکستان کو ایک ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں اخلاق اور مذہب کی آڑ میں لوگوں کی سوچ ، غور کرنے کی صلاحیت اور سوال کرنے کے حق کو مسدود کیا جاتا ہے۔ جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر آنے والی حکومت اور اس کے سب اداروں کو ملک میں جمہوری روایات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر بعض گروہوں کے دباؤ کی وجہ سے پابندیاں لگانے اور سرکاری سطح پر یہ طے کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا کہ کون سی بات کرنا درست ہے اور کون سا سوال نہیں کیا جا سکتا تو معاشرے میں گھٹن اور تناؤ میں اضافہ ہو گا۔ آزادی اظہار کا بنیادی مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آ سکیں اور پھر اکثریتی رائے اور صوابدید کے مطابق درست فیصلے کئے جائیں۔ احمدیوں کے استحصال پر بات کرنے سے متعلق حمزہ عباسی کا سوال دراصل آئین پاکستان کی فراہم کردہ ضمانت کے حوالے سے درست اور جائز ہے کہ ہر شخص کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔ تو کیا وجہ ہے کہ یہ نہ پوچھا جا سکے کہ جب اشتعال انگیز گروہ احمدی آبادیوں، عبادت گاہوں یا ان کے کاروبار پر حملہ کرتے ہیں، ان کی قبروں کی بے حرمتی کرتے ہیں اور دینی جماعتوں کے اجتماعات میں احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کی جاتی ہیں۔۔۔۔ تو کون سے آئین اور قانون کی پاسداری کی جاتی ہے۔ یا احترام آدمیت کا کون سا اصول پیش نظر ہوتا ہے۔ اگر ان مظالم کے بارے میں سوال کرنا بھی جرم ٹھہرا دیا جائے گا تو ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر تو ظالم کا ہاتھ روکنے کی بجائے، اسے مزید قوت عطا کرنے کا ماحول جنم لے گا۔

حمزہ عباسی کے ان سوالات کے جواب میں بعض دوسرے پروگراموں میں کسی نام نہاد عالم دین نے وہی طرز عمل اختیار کیا جس کی روک تھام کے لئے احمدیوں کی حفاظت کے بارے میں سوال اٹھانا ضروری ہے۔ اب پیمرا نے اس حوالے سے سوال اٹھانے اور سوال کرنے والے کو مسترد کرنے والے کو ایک سی سزا سنا کر انصاف کی انوکھی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تصویر کا افسوناک پہلو یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی حمزہ علی عباسی کے سوالوں کے جواب میں دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ’’سنی بریلوی ٹائیگرز‘‘ کے نام سے بعض لوگوں نے متنبہ کیا ہے کہ ’’تم ان 27 گولیوں کو بھول چکے ہو جو گورنر کے سینے میں داغی گئی تھیں‘‘۔ یہ گروہ ممتاز قادری کی تصویر سے اپنی شناخت کرواتا ہے۔ پیمرا کا فیصلہ ان دھمکیوں کی عملی شکل میں سامنے آیا ہے۔ مباحث اور مختلف امور پر اختلاف سے قطع نظر پیمرا کا اقدام ایک انتہائی مذہبی شدت پسند رجحان کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گا۔

ابھی حال ہی میں اورلانڈو میں ایک مسلمان کے ہاتھوں 49 افراد کے قتل کے بعد امریکہ کے حوالے سے یہ بحث کی جا رہی ہے کہ کس طرح ایک جرم کو ایک عقیدے اور اس کے ماننے والوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے لوگوں اور خاص طور پر اس کے اداروں کو اس بحث سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ میں یا دنیا کے دیگر ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کو روکنا ہے اور اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہے تو پاکستان میں اقلیتوں کو احترام دینا ہو گا۔ اور جب کوئی ’’عمر متین“ جیسا فاتر العقل پاکستان میں احمدی یا کسی دوسری اقلیت پر حملہ آور ہو تو اسے مسترد کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر بطور قوم ہماری رائے اور رویہ کی کیا اہمیت رہ جائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 623 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali