پچاس لاکھ گھر غریبوں کے لیے ہیں یا امیروں کے لیے؟


بہت ہی پر کشش جملہ۔ بہت ہی دلفریب سا خیال۔ بہت ہی نیک تمنا۔ مگر اس جنت کو بنانے میں نسل انسانی کی اکثریت کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ کتابی بات ہے کہ گھر اینٹ پتھر سے نہیں رشتوں سے بنتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اینٹ پتھر کا گھر رشتوں کو کھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس دور سرمایہ میں گھر اس لئے نہیں بنائے جاتے کہ اس میں انسان رہیں گے بلکہ اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ اس گھر کو بیچ کر کتنا منافع کمایا جا سکتا ہے۔ گھر اس لئے نہیں بنائے جاتے کہ وہاں رشتے پروان چڑھیں گے بلکہ گھر اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار پروان چڑھ سکے۔

حکومت کی طرف سے گھر بنانے کی سکیم کا اعلان کیا جانا اور پھر اس سکیم کی شرائط کو آسان شرائط بتا کر عام لوگوں کی خواہشوں کے ساتھ زنا بالجبرکیے جانے پہ ماتم کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ چھ لاکھ ایڈوانس اور ماہانہ اقساط اور اس کے بعد درخواست گزار کی ماہانہ آمدنی کم سے کم پچاس ہزار ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جس ملک میں حکومت خود مزدور کی کم سے کم تنخواہ اٹھارہ ہزار روپے مقرر کرتی ہے اس حکومت کو گھر بیچنے کے لئے وہ لوگ چاہئیں جو ماہانہ پچاس ہزار کما سکتے ہوں۔

یہ فیصلے کیسے ہو جاتے ہیں۔ یہ پالیسیاں کون بناتا ہے۔ یہ اعداد شمار کے جنات یہ علم و فراست کے نا خدا یہ گنت بنت کے کاریگر یہ وزیران کرام یہ مشیران کرام یہ دولت کے انبار پر بیٹھے دھرتی کے منہ بولے خدا اپنی میز کے اوپر لگی پالش کی چمک اور اس پر رکھی بڑی بڑی فائلوں کے صفحات پر منافع کے بڑھتے پھلتے پھولتے گراف دیکھ کر انسان کی فطری جبلی ضرورت سے صرف نظر کر کے ہر منصوبہ ہر فیصلہ ہر فرمان اپنے حق میں جاری فرماتے ہیں۔

بجائے لینڈ ریفارمز کرنے کے بجائے ایک ایک انسان کے پاس موجود کئی ایک محلوں کو چھوٹا کرکے کسی کے گھر کی چھت بنانے کے ؛ ٹریکل ڈاون اکانومی کے بھگوان کی آرتی اتار کر اپنی اپنی تجوری کے آگے ناریل۔ پھوڑے جاتے ہیں۔

سرمائے کو گردش دینے کے لئے مصنوعی طور پر ضرور کو قلت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں ہر وہ چیز جس کے بنا انسان کا جینا مشکل۔ ہے چاہے گھر ہو علاج ہو یا تعلیم اسے ایک عیاشی بنا دیا جاتا ہے۔ انسان کے بنیادی حق اور اس کی بنیادی ضرورت کو بیچا جاتا ہے۔

اسی کاروباری واردات کو لوگوں پر احسان بنا کر مسلط کیا جاتا ہے۔

اس خود ساختہ اور مصنوعی معاشی نظام میں ایک کمپنی خود کاریں بناتی ہے اور پھر جب مارکیٹ میں کار کا خریدار نہیں ہوتا تو وہی کمپنی بینک کو اپنا سرمایہ دے کر کار فنانس کرواتی ہے اور پھر وہی کار بنانے والی کمپنی کار کی اصل پروڈکشن کے علاوہ اس کی اقساط پر بھی منافع کماتی ہے۔ یوں سرمایہ جہاں سے نکلتا ہے پھر وہیں جا کر پہنچ جاتا ہے۔ یہی کلیہ ہر چیز پر لاگو کر کے اس معاشی نظام کو ایک دھکا سٹارٹ گاڑی کی طرح چلایا جاتا ہے اور پھر اس سے حاصل۔ ہونے والے زاید منافع کو یا قدر زائد کو کہیں بھی خرچ کیا جاتا ہے چاہے پھر وہ گھر بنانا ہو یا انہیں گھروں کو تباہ کرنے کے لئے ڈرون میزائل اور بم بنانا ہو۔

اس معاشی گھن چکر میں ہر اس انسان کو ایک ناپاک جانور سمجھ کر باہر نکال کھڑا کیا جاتا ہے جو ادائیگی کرنے کی اوقات نہ رکھتا ہو۔ چاہے وہ فٹ پاتھ پر مرے چاہے وہ کسی گٹر کے پائپ کو اپنا گھر بنائے یا پھر خانہ بدوشوں کی طرح جگہ جگہ کرائے پر ذلیل ہوتا رہے۔ اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ انسان کو رہنے کے لئے چھت چاہیے۔ مقصد پہلا اور حتمی یہی ہے کہ ہر ضرورت کو بیچ کر اس سے کتنا کمایا جا سکتا ہے۔ کتنا منافع مل۔ سکتا ہے۔ بحریہ فضائیہ ڈیفنس بنا کر ملک ریاضوں کو پیدا کیا جاتا ہے۔ اور خدا بخش اللہ دتہ اللہ رکھا جیسے جھونپڑی میں رہنے والے مزدوروں کو محل سینچنے کے بعد چائے میں سے مکھی کی طرح اس پورے معاشی ڈھانچے سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔

میرا گھر میری جنت؟ ایک گھر بنانا کئی نسلوں کی زندگی کو جہنم بنا دیتا ہے اس سرمائے یے دور میں۔ اور جب جنت کے شراکت دار بڑھتے ہیں تو اسی جنت کی قیمت کو دیکھ کر اس میں دیواریں اٹھائے جاتی ہیں بٹوارے ہوتے ہیں۔ قتل ہوتے ہیں رشتے ٹوٹتے ہیں۔

اور جنت کو بیچنے والے یہ نا خدا ایک جنت کی تباہ کاری دیکھ کر ایک اور جنت بنا ڈالتے ہیں اور پھر وہی چل سو چل۔ یہ نظام جہنم ہے اور جب تک یہ نظام ہے کوئی گھر جنت نہیں بن سکتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عاطف جاوید کی دیگر تحریریں
عاطف جاوید کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں