رمضان میں شیطان نے سو بھیس بنا رکھے ہیں


\"kalsoom\"عام خیال میں رمضان کا تعلق صرف پیٹ کی بھوک اور حلق کی پیاس سے ہے۔ یہی وجہ ہے کے جب رمضان آتا ہے تو اشیا کی قیمتیں اور خریداروں کا رونا، دونوں ہی آسمانوں کو چھو رہا ہوتا ہے۔ غریب اپنا پسینہ بیچ کر رحمتیں خریدتا ہے تو امیر اصراف کر کے دین سے انصاف کرتا ہے۔

کیا پکوڑے، چاٹ، روح افزا سے آگے بھی روزہ ہے؟

اصل میں روزہ ان سب سے بھی پہلے ہے۔ بچپن میں دینیات کی کتاب میں پڑھا تھا کہ روزہ انسان کے جسم اور نفس دونوں کا ہوتا ہے لیکن آج کل تو نفس کا تذکرہ ایسے غائب ہے جیسے ڈائناسور کی نسل کے ساتھ ہی اس کی بھی تدفین ہوگئی تھی۔

دنیا بھر کی مشہور ہستیوں کی جانب سے رمضان کے مقدّس مہینے پر مسلمانوں کے نام پیغامات آتے ہیں جن میں اسلام کی بنیادی باتوں کا ذکر ہوتا ہے جیسے صبر، تقویٰ، فلاحی خدمات وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان میں شروعات ہوتی ہیں قتل سے، مار دھاڑ سے، اور دھمکیوں سے۔

آٹھ جون کو پہلا روزہ انتہائی جوش و خروش سے رکھا گیا اور ٹھیک اس کے اگلے دن لاہور میں دن دہاڑے ایک ماں نے اپنی سترہ سالہ بیٹی کو پیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا۔ اس انسانیت سوز واقعے کی وجہ نئی نہیں ہے۔ ہمیشہ کی طرح پسند کی شادی اور غیرت کے نام پر قتل۔

قاتل بھی وہ ماں جس کو پشیمانی بھی نہیں اور ندامت نام کی چڑیا وہ جانتی نہیں۔

ماں کو اور بھائی کو پولیس نے حراست میں لے لیا، چند روز بعد مولویوں نے فتویٰ بھی دے دیا کے غیرت کے نام پر قتل غیر اسلامی ہے۔ حالانکہ کوئی ان مسلمانوں سے پوچھے کہ تمھیں انسانیت کے اصولوں کے لئے بھی فتویٰ چاہیے؟ ہم اپنے ساتھ ساتھ مذہب کو بھی نچلے درجے پر کھینچ لائے ہیں اس دعوے کے ساتھ کہ اسلام ضابطہ حیات ہے۔ یہ کونسا ضابطہ ہے کہ جس میں حیات ہی نہیں رہتی؟

صبر و استقلال کا یہ عالم ہے کہ اندرون سندھ میں ایک انتہائی ضعیف انسان شام چھ بجے کے قریب خیرات میں ملی بریانی کھا رہا تھا تو اس کو پولیس والوں نے لہولہان کردیا۔ قصور؟ افطار میں گھنٹہ باقی تھا اور وہ بوڑھا شخص ہندو تھا۔

کوئی پوچھے ان دو نیک مسلمان پولیس والوں سے کہ کس اصول کی روشنی میں انہوں نے ایک غریب لاچار بوڑھے شخص کو رمضان کی پاداش میں بری طرح سے مارا پیٹا تھا؟ اگر آپ میں بھوک کی برداشت نہیں ہے تو روزہ رکھ کر خدا اور اس کی خدائی پر احسان نہ کریں۔

مغرب میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں انہیں تو پھر چاہئے ہر دوسرے انگریز یا ہندو کی دھلائی کریں اور کہہ دیں میرا روزہ ہے۔

آخر ہم رویوں کی انتہا پر کیوں پہنچ جاتے ہیں؟ ہمارے اندر سے رواداری، انکساری، اور سب سے بڑھ کر اختلافات کو قبول کرنے کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔
آج جب ہم نے 12 روزے مکمّل کر چکے ہیں گجرانوالہ میں ایک سات ماہ کی حاملہ عورت کو اس کے گھر والوں نے قتل کر دیا ہے کیوںکہ اس نے آج سے 3 سال پہلے پسند کی شادی کی تھی۔ اس مقتولہ کا پہلا بچہ، اس کا شوہر کس کے پاس فریاد لے کر جائے گا کہ اس مقدّس مہینے کا بھی مان نہ رکھا اور دو جانوں کو صفہ ہستی سے مٹا دیا۔

ویسے تو مجھے اپنی قوم پر یقین ہے کہ وہ رمضان کے چاند پر لگا گرہن ہے لیکن پھر بھی ایک امید جاگتی ہے کہ شاید ہم کبھی سمجھ پائیں کہ روزہ نفس کا ہے آپ کے معدے کا نہیں۔ جنگ خود سے ہے کسی شیطان سے نہیں۔

یہ قصّے کہانیاں ہیں کہ شیطان تیس روز کے لئے قید ہوجاتا ہے۔ یہ تو خدا کو اپنے بندوں سے امید تھی کہ وہ اپنے اندر کا شیطان قید کر لیں گے پر ہائے رے افسوس!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔