گھٹن کا عذاب


اقلیت ہونا کوئی بُری بات نہیں، بلکہ مہذب معاشروں میں اکثر اوقات اقلیتوں کو زیادہ حقوق دیے جاتے ہیں، لیکن ایسا مہذب معاشروں میں ہوتا ہو گا، ہم خود کو مہذب تو دُور کی بات، شاید معاشرہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ کئی بار ایسا شائبہ ہوتا ہے کہ مُلک خداداد کی اکثریت کو معاشرہ کہنا دوسرے معاشروں کی توہین نہ ہو، میرے نزدیک ہم اپنے لیے غیر مہذب و غیر منظم ہجوم کی اصطلاح استعمال کریں تو حقیت کے شاید زیادہ قریب ہو۔

خیر، مُلک خداداد اور اِس قسم کے دوسرے مسلم اکثریت کے حامل ممالک میں اقلیت ہونا، پرت در پرت عذاب ہے۔ باقی معاملات میں جائے بغیر آج کل کے حالات کے تناظر میں اپنے ہی قبیل و مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے حق میں چاہتے ہوئے بھی نہ بول پانا کیا عذاب نہیں؟

کیا یہ عذاب عظیم نہیں کہ آپ اپنے جذبات واحساسات کو دبانے پر مجبور ہو جائیں اور جو آپے کے جی میں آ رہا ہو آپ کا کلام اُس کے خلاف ہو؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آسیہ نورین مسیح کے فیصلے کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے میں نے تو اپنے کسی پاکستانی مسیحی دوست کو نہ دیکھا نہ سُنا؛ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ انہیں خوشی نہیں ہوئی ہو گی، لیکن! مجبورا اس کے خلاف بولنا کیا عذاب نہیں؟ ہمارے ایک دوست جو لاہور میں رہتے ہیں، برکت مسیح (اصلی نام بدل دیا گیا ہے ) کہتے سُنائی دیے گئے کہ

”جی ایہہ چنگا نئیں کیتا سپریم کورٹ نے! آسیہ نُوں پھانسی لا دینا چائیدا سی“ (سپریم کورٹ نے یہ اچھا نہیں کیا، آسیہ کو پھانسی لگا دینا چاہیے تھا)

کیوں؟ وجہ؟

انہیں شاید اس بات کا ڈر ہے کہ وہ اگلی آسیہ مسیح نہ بن جائیں؟ شاید اس بات کا خوف لاحق ہو کہ کوئی زبان نہ کھینچ لے؟ کوئی سانس لینے کے حق سے ہی محروم نہ کر دے؟ جی یہ ان چند عذابوں میں سے ایک ہے جو مسلم اکثریتی معاشرے میں ایک اقلیت پر اکثر نازل ہوتے ہیں، اور تو اور دوسری اقلیتیں بھی ان کی زد میں آنے کے خوف سے خاموشی کو ترجیح دیتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں