’کاش کوہلی کو دھونی کا دیسی مرغے والا بیان یاد ہوتا‘

وکاس تریویدی - بی بی سی نامہ نگار


دھونی اور کوہلی

Getty Images
دھونی اور کوہلی

سنہ 2013 میں انڈین کرکٹ ٹیم اور ان کے کوچ ڈنکن فلیچر پر سوالات کی بوچھاڑ تھی۔ اس وقت کپتان مہیندر سنگھ دھونی سے ایک پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ کیا انڈیا کو غیر ملکی کوچ کی ضرورت ہے؟

دھونی نے اس سوال کا جواب مسکراتے ہوئے کچھ یوں دیا: ’مجھے نہیں پتہ۔ ملکی اور غیر ملکی تو صرف مرغے ہوتے ہیں۔‘

مشکل سوالات سے نمٹنے کے لیے مہیندر سنگھ دھونی کا ’کول‘ طریقہ تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے طریقے سے موجودہ کپتان وراٹ کوہلی کا دور دور تک کوئی واستہ نہیں ہے۔

اپنی سالگرہ پر انہوں نے ایک ویڈیو میں اس شخص کو ملک چھوڑنے کی صلاح دے ڈالی جس نے انسٹگرام پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اسے کوہلی سے زیادہ برطانوی اور آسٹریلیائی بلے بازوں کا کھیل پسند ہے۔

پورا معاملہ یہاں پڑھیں

’کوہلی کرکٹ چھوڑ کر کبڈی کھیلنا کیوں نہیں شروع کر دیتے؟‘

https://twitter.com/Hramblings/status/1059718366288637953

کوہلی کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ کچھ لوگ اس بیان پر اعتراض کر رہے ہیں جب کہ کچھ کا خیال ہے کہ انہوں نے جو کہا ٹھیک کہا۔

یہ بھی پڑھیں

وراٹ کوہلی کی ’آسٹریلین کھلاڑیوں سے دوستی ختم‘

کیا کرکٹ کو سرحدوں میں تقسیم کرنا صحیح؟

کوہلی کے بیان کے بارے میں سابق کرکٹ کھلاڑیوں کا کیا خیال ہے؟ یہی معلوم کرنے کے لیے ہم نے منندر سنگھ اور اتول واسن سے بات کی۔ دونوں کا ہی خیال ہے کہ وراٹ کوہلی کو اس طرح کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ اس طرح کے بیانات دکھاتے ہیں کہ آپ پوری طرح اپنے آپے میں رہ کر جواب نہیں دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

وراٹ کوہلی کے بغیر ایشیا کپ کا رنگ پھیکا

ہم ہار کے ہی لائق تھے: وراٹ کوہلیبطور کپتان وراٹ کوہلی کے ریکارڈز کا انبار

منندر سنگھ نے بی بی سی سے کہا کہ ’وراٹ کوہلی کو یہ سب نظر انداز کرنا چاہیے۔ پورا ہندوستان جانتا ہے کہ وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں۔ ان کے اتنے چاہتے والے ہیں۔ کئی بار لوگ حسد میں بھی ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کسی کو اتنی کامیابی کیوں مل رہی ہے۔ وراٹ کوہلی کے معاملے میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘

اتول واسن کا خیال ہے کہ ’یہ بہت ہی قابل اعتراض بیان ہے۔ کوئی کھلاڑی کہاں کا ہے اس سے کیا مطلب ہے؟ مجھے کوئی انڈین فٹبالر نہیں پسند، لیکن بیرون ملک کے کھلاڑی پسند ہیں۔ تو کیا مجھے ملک چھوڑ دینا چاہیے؟ یہ ’ہیٹ آف دا مومنٹ‘ میں دیا گیا بیان ہے۔‘

وراٹ کوہلی اور مہیندر سنگھ دھونی

AFP
وراٹ کوہلی اور مہیندر سنگھ دھونی

مشکل پریس کانفرنس میں یا کرکٹ کے مداحوں سے بات کرتے ہوئے مہیندر سنگھ دھونی عام طور پر مسکراہٹ کا استعمال کرتے تھے۔ منندر سنگھ کا خیال ہے کہ کبھی کبھی اسی مسکراہٹ کو جواب کی طرح استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

منندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’کوہلی کو یہ سوچ لینا چاہیے کہ اس طرح کی باتیں تو کی ہی جائیں گی۔ ایسی باتوں پر توجہ دینی ہی نہیں چاہیے۔ ایسے کسی بھی سوال کا بہترین جواب خاموشی اور مسکرا دینا ہوتا ہے۔ اگر مستقبل میں کوہلی سے کوئی مشکل سوال پوچھ لیا جائے تو انہیں صرف مسکرا دینا چاہیے۔ ایسا کرنے سے سب کچھ خود ہی بیاں ہو جاتا ہے۔‘

تاہم اتول واسن کی نظر میں ایسے بیانات بڑا مسئلہ نہیں ہیں۔

واسن نے کہا کہ ’کوہلی کی نیت یہی رہی ہوگی کہ انڈین کرکٹ فینز انڈیا کو فالو کریں۔ کرکٹر ہیں، کہہ سکتے ہیں۔ دھونی میں ایسے مسئلوں سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت ضرور ہے، لیکن جو کوہلی نے کیا وہ بھی کوئی عجیب و غریب بات نہیں ہے۔ کوہلی کوئی ملک کے صدر یا سیاست دان نہیں ہیں کہ انہیں ہر بات کو تول کر بولنا چاہیے۔ وہ ایک کھلاڑی ہیں، اگر ایسا کہہ بھی دیا تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔‘

اس کے ساتھ ہی واسن نے یہ بھی کہا کہ ہر کسی کے پاس کسی بھی کھلاڑی کو پسند کرنے کا حق ہے۔ اس لیے کرکٹرز کو ایسے بیانات سے دور رہنا چاہیئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6055 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp