کیا پی ٹی وی کا چیئرمین منجی پیڑھی ٹھونکنے والا بندہ چاہئے؟


عطا الحق قاسمی صاحب کے خلاف عدالت کا فیصلہ ہے اس لئے تسلیم کرنا مجبوری ہے لیکن عدالت کے فیصلے پر متفق ہونا لازم نہیں۔ اپیل اسی لئے کی جاتی ہے کہ جو فیصلہ سنایا جاتا ہے وہ درست نہیں لگتا۔ اپیلوں پر عدالتی فیصلوں کے برعکس بھی فیصلہ آ جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ عدالتوں میں غلط فیصلے بھی ہوتے ہیں۔ آسیہ مسیح کے فیصلے میں بھی ہائیکورٹ سزا سناتی ہے اور سپریم کورٹ بری کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی ایک فیصلہ غلط تھا۔ عطا الحق قاسمی کو جو سزا سنائی گئی ہے اس نے ایک پورا سسٹم ہلا دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کہیں کسی پوسٹ کے لئے پی سی بنتا ہے۔ اس میں کوئی قانونی سقم رہ جاتا ہے تو کیا اس کا ذمہ دار وہ شخص ہو گا جو اس سیٹ پر تعینات کیا گیا ؟ سیٹ یا شعبہ بنانے والا تو وہ نہیں تھا۔ دنیا بھر میں پروفیشنلز اور تجربہ کار افراد کی خدمات بھاری معاوضہ پر لی جاتی ہیں۔ اگر کہیں یہ ثابت ہو جائے کہ وہ سیٹ قانون کے مطابق نہیں تھی تو مجرم وہ شخص نہیں ہوتا جو سیٹ پر تعینات کیا گیا بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے سیٹ بنائی۔

عطا الحق قاسمی پی ٹی وی کے مشہور ڈرامہ رائیٹر رہے۔ کالم نگاری میں ان کا تجربہ نصف صدی پر محیط ہے۔ مزاح نگار وہ چوٹی کے ہیں۔ ایڈمنسٹریشن کا تجربہ اس حد تک ہے کہ صرف ایک سیکشن یا محکمہ ہی نہیں بلکہ وہ دو ملکوں کے سفیر بھی رہے۔ الحمرا کو ان کے دور میں عروج ملا اور وہ ایک بڑا ادبی مرکز بن گیا۔ ایک فہرست تیار کی جائے کہ پی ٹی وی کے سربراہ کون کون لوگ تھے تو عطا الحق قامی کا نام آپ پہلے نمبر پر نہ بھی رکھیں تب بھی تجربہ اور قابلیت کی وجہ سے دوسرے سے تیسرے نمبر پر لانا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ وہ پروڈکشن، سکرپٹ، الفاظ کی اہمیت، ڈائیلاگز اور نیوز کو سمجھنے والے سربراہ تھے۔ وہ ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے بھی سفارت خانوں سے لے کر الحمرا آرٹس کونسل تک کامیاب رہے۔ کیا پی ٹی وی کی سربراہی کے لئے یہ سارے تجربات نہیں درکار؟

پھر ہمیں ایک فیصلہ کر لینا چاہئے کہ پی ٹی وی کی سربراہی ایڈمنسٹریشن، صحافت، سکرپٹ، ادب کے حوالے سے تجربہ کار شخص ہونا چاہئے یا پھر منجی پیڑھی ٹھوکنے والے کو بنانا چاہئے ؟ یہ الزام لگ سکتا ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی میں اپنی ٹیم بنائی یا دوسرے الفاظ میں ان ادیبوں اور صحافیوں کو نوازا جو ان کے قریب تھے۔ کیا باقی تمام محکموں میں بھی ٹیم لیڈر اپنی ٹیم خود نہیں بناتا ؟ کیا عمران خان بھی یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ وہ کس ورکر کو پارٹی ٹکٹ دیں گے اور اسے قریب بھی نہیں آنے دیں گے؟ کیا ہر آرمی چیف بھی اپنے کورکمانڈرز تبدیل نہیں کرتا ؟

عطا الحق قاسمی نے آپ کو پی ٹی وی میں موقع نہیں دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے خلاف اس بنیاد پر کمپین چلا دی جائے۔ بدقسمتی سے ان سے پہلے والے سربراہان نے بھی آپ کو موقع نہیں دیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود اور محمد مالک نے پی ٹی وی کے لئے کیا کارنامے سر انجام دیئے تھے؟ عطا الحق قاسمی نے کم از کم اسے زندہ ضرور کر دیا تھا۔ ان کی نواز شریف سے دوستی، محبت یا تعلق ہے تو وہ ان کا نظریہ بھی ہے۔ ہم نے کسی دور میں انہیں پارٹی یا دوست بدلتے نہیں دیکھا۔ وہ کم از کم ان لوگوں سے بہتر ہیں جو پہلے مشرف کے ترجمان بنے، پھر زرداری کے ترجمانی کرتے رہے اور اب عمران خان کا بھونپو بنے ہوئے ہیں۔

عطا الحق قاسمی پر جملے کسنے والوں کی فہرست بنائیں تو ان میں تحریک انصاف کے ورکروں کے بعد کچھ نہیں پچتا۔ انہیں سیاسی نظریات کی وجہ سے بھی ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ایسے کئی دوستوں کو جانتا ہوں جنہوں نے مفادات کے لئے عطا الحق قاسمی یا ان کے قریبی ساتھیوں سے روابط قائم کئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا ان میں شمار نہیں ہوتا۔ میں الحمرا کے دور میں ایک دو ادبی تقریبات کے انعقاد کے حوالے سے ان سے ملا تھا لیکن پی ٹی وی کی سربراہی سے لے کر آج تک کوئی ملاقات نہیں کی کیونکہ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ پی ٹی وی کی سربراہی کے بعد ان کے گرد مفاداتی پرندوں کا ہجوم بڑھنے لگا ہے۔

ایک دو تقریبات میں ہم دونوں موجود تھے لیکن میں ان سے کوئی بات کئے بنا چلا آیا کیونکہ میں اس عطا الحق قاسمی کا معترف ہوں جو “ایک غیر ملکی کا سفر نامہ لاہور” لکھتا ہے۔ میں قاسمی کا احترام ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے کرتا ہوں۔ مجھے ایسے فیصلے سے شدید اختلاف ہے جس میں ان پر کرپشن کی بجائے سیٹ کی پوزیشن درست ہونے یا نہ ہونے کی بنا پر فیصلہ سنایا گیا۔ یہ کام ان کا نہین تھا، جن کا تھا انہیں سزا دیجئے۔ جس نے اپنا تجربہ یا صلاحیتیں دیں اس کو سزا نہیں دی جاتی۔ وہ تنخواہ جو وہ خرچ کر چکے۔ گاڑی کا وہ پیٹرول جو سفر میں لگ گیا اب کیسے واپس کریں گے؟ یہ فیصلہ بظاہر انتقام یا ظلم لگنے لگا ہے۔عطا الحق قاسمی صاحب کے خلاف عدالت کا فیصلہ ہے اس لئے تسلیم کرنا مجبوری ہے لیکن عدالت کے فیصلے پر متفق ہونا لازم نہیں۔ اپیل اسی لئے کی جاتی ہے کہ جو فیصلہ سنایا جاتا ہے وہ درست نہیں لگتا۔ اپیلوں پر عدالتی فیصلوں کے برعکس بھی فیصلہ آ جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ عدالتوں میں غلط فیصلے بھی ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

سید بدر سعید کی دیگر تحریریں
سید بدر سعید کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں