“سورج پر کمند” کتاب یا دستاویز


اکثر ایسے ملکوں کی طرح جہاں آبادی کی اکثریت بدبخت ہوا کرتی ہے پاکستان میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں اور شاید اب بھی ہوں جو فی الواقعی بدبخت لوگوں کو خوش بخت بنانے کی نہ سہی مگر کسی حد تک زندگی سے مطمئن کرنے کی خلش اپنے دل میں محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اس خبش کو دور کرنے کی خاطر باقاعدہ پرخلوص جدوجہد بھی کرتے رہے۔
مگر ہوا یوں کہ ایسے لوگوں کو سوشلسٹ بلکہ کمیونسٹ جان کر نہ صرف قبول نہیں کیا گیا بلکہ حکومتوں نے ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کی اولیں وجہ یہ تھی کہ روس اور چین میں کمیونسٹوں کی حکومتیں ہونے کے سبب ایسے لوگوں کو ان کی مقتدر کمیونسٹ پارٹیوں کا ایجنٹ سمجھا جاتا تھا۔ دوسری وجہ یہ رہی کہ امریکہ کی ” کمیونسٹوں کا راستہ روکو ” Curtail Communism نام کی پالیسی کے تحت ایسے لوگوں کو مذہب دشمن، ملحد، دہریے اور زندیق بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ باوجود اس کے کہ روس سے کمیونزم ہوا ہوئے ربع صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے جبکہ چین اپنا یار ہے جس پہ جاں نثار ہے مگر وہ جسے ” بائیں بازو کی سیاست ” کہتے ہیں اس کا نام لینے والوں کو اب تک ملک عزیز میں کوئی اتنا اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بھٹو بلکہ ان کے خاندان کے انجام کو یاد کیجیے جنہوں سے بس اتنا کہا تھا کہ “سوشلزم ہماری معیشت ہے”۔ اور تو اور انہیں بھٹو صاحب اور ان کی پارٹی نے بھی بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کے حق میں کچھ اچھا نہیں کیا تھا۔
آج “تبدیلی” کا نعرہ لگانے والوں یا محض اس نعرے کو سننے والوں میں کتنے ایسے لوگ ہیں جنہیں ان لوگوں کے بارے میں علم ہو جنہوں نے اس ملک میں حقیقی ” تبدیلی ” لانے کی خاطر نہ صرف جان دی بلکہ قید خانوں کی اذیت، پر تشدد تفتیش کی عقوبت اور زندگیوں پر ثبت ہونے والے اثرات سہے۔ شاید کچھ لوگ حسن ناصر کے نام سے واقف ہوں، کچھ کو جام ساقی کے بارے میں ایک دو باتیں پتہ ہوں یا سندھ میں کچھ نوجوان نذیر عباسی کی شہادت سے متعلق جانتے ہوں۔ معراج محمد خان سے تو لوگ اس لیے واقف ہوئے کہ وہ شروع میں پیپلز پارٹی کی مین سٹریم پالیٹکس میں آ گئے تھے مگر ڈاکٹر رشید حسن خان سے وہی واقف ہونگے جنہوں نے ان کے ساتھ یا ان کے لیے کام کیا تھا۔ سجاد ظہیر کو اس لیے جانتے ہیں کہ ان کا ادب سے بھی تعلق تھا مگر امام علی نازش کونہیں جانتے۔
کتاب کا نام مضمون کے عنوان میں درج ہے، پہلے تو مجھے اس کے نام کی حقیقت اچھی لگی کیونکہ سورج پر ڈالی جانے والی کمند ظاہر ہے جل پگھل جاتی ہے دوسری بات یہ کہ نام کچھ زیادہ ہی شاعرانہ ہے اور شاعری میں مبالغہ آرائی کی حد نہیں ہوتی تو ہمارے پیارے ڈاکٹر حسن جاوید اور محسن ذوالفقار نے نام کی حد تک تو ایسا ہی کیا ہے۔


مگر پورے 599 صفحات پر مشتمل یہ دستاویز، جس کے آخری سات صفحات، طالبعلم تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن یعنی این ایس ایف کے فیس بک یادگاری پیچ کے اراکین کے ناموں پر مشتمل ہے درحقیقت اس تنظیم کی کارگزاری، کارکردگی، کشمکش، کردار اور کیفیت سے متعلق ہے جس کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے۔ پہلا حصہ ہے: ذکر کچھ آشفتہ سروں کا اور دوسرا: یادوں کے جھروکوں سے۔ کتاب کے سرورق پر تحریر ہے “نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی کہانی، کارکنوں اور واقعات کی زبانی ” یعنی واقعات کی بھی زبان ہوا کرتی ہے، ہمیں اس بارے میں احساس دلاتی ہے۔
کتاب کا پہلا حصہ درحقیقت تنظیم کے فعال اراکین کی ڈائرکٹری ہے بمعہ ان اصحاب کے تفصیلی تعارف کے ساتھ ساتھ اس تذکرے کے کہ وہ کیسے اس تنظیم میں شامل ہوئے انہوں نے کیا کیا کیا اور ان پر کیا کچھ گذری۔ اگر ان کے نام لکھنے پر آئیں تو کئی صفحے درکار ہونگے البتہ ایک نام سے آج بھی بہت سے پاکستانی آشنا ہیں، یہ صاحب عبدالستار ایدھی کے گذر جانے کے بعد پاکستان میں انسانیت کی خدمت کی واحد مثال ہیں یعنی سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے روح رواں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی صاحب جنہوں نے تن تنہا آٹھ بیڈز سے شروع کرکے اس کو اتنا بڑا اور یکسر مخیر ادارہ بنا دیا۔ یہ مثال ہے کہ جو فی الواقعی تبدیلی لانے کے خواہاں ہوتے ہیں وہ عمل عمل اور عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ چون اور افراد کا ذکر ہے جن میں سے کچھ اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور باقی آج بھی ملک کے اندر یا بیرون ملک انسانیت کی بھلائی کے لیے مقدور بھر کوشاں ہیں۔
کتاب کے دوسرے حصے میں بھی پچپن افراد، تنظیم، تنظیم کے ساتھ اپنی اور دیگراں کی وابستگی اور اپنے و دیگراں کے اعمال کے ذکر کے ساتھ ساتھ معروف واقعات بارے بتاتے ہیں۔ ان پچپن افراد میں معروف صحافی حسین نقی اور معروف افسانہ نگار ڈاکٹر شیر شاہ سید کے علاوہ یورپ میں جیو کے بیورو چیف خالد حمید فاروقی بھی شامل ہیں۔
حس جاوید کے مطابق یہ اس کتاب کا پہلا حصہ ہے جو جلد دوم کی صورت میں ابھی آنی باقی ہے اور حقیقت میں وہی اصل کتاب ہوگی۔ بہر طور ان دونوں اصحاب نے اتنی ضخیم کتاب تحریر و مرتب کی یہ بذات خود ایک مشکل اور بڑا کام تھا، دوسری کتاب آئے گی تو معلوم ہوگا کہ اس میں اصل کیا ہے۔
تاہم جس کتاب کا ذکر ہے اس کو کسی حد تک مختصر کیا جا سکتا تھا یعنی پہلے پچپن افراد کا مختصر تعارف لکھ دیا جاتا اور یادوں کے جھروکوں سے دیکھنے والوں کے مختصر تعارف کے ساتھ ساتھ ان سے کی گفتگو لکھ دی جاتی، یوں یہ کتاب ڈیڑھ سو سے دو سو صفحات تک کم کی جا سکتی تھی۔ چار سو صفحات کی کتاب بھی ضخیم ہی کہلاتی ہے مگر لاگت کم آتی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائی جا سکتی۔ مگر چونکہ اب یہ شائع ہو چکی ہے تو اگلے ایڈیشن تک تو اسے ہی غنیمت جانا جانا چاہیے۔
البتہ کتاب میں جن لوگوں نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ زیادہ عارضی Subjective ہے اور معروضی کم۔ ہم امید رکھیں گے کہ آئندہ کتاب میں معروضی طور پر جائزہ لیا جائے گا کہ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کیوں نہ پنپ پائی۔ بائیں بازو کی طالبعلم تنظیموں کی سطح پر ہی دھڑے کیوں بننے لگے ( یاد رہے زیر نظر کتاب میں اسی طلباء تنظیم میں معراج محمد خان گروپ، رشید حسن خان گروپ اور کاظمی گروپ کا ذکر ہے ) دھڑے بندی کی وجہ کیا رہی، دھڑوں کے باعث کس کو کیسا اور کتنا نقصان پہنچا۔
اس کتاب میں جو دوسرا سقم دکھائی دیا وہ اس کی طوالت کے باعث ہے کیونکہ مختلف واقعات کا بار بار ذکر ہوا۔ مسلسل دہرائی جانے والی باتیں لوگوں کا مزاج بنانے کی خاطر کیے پروپیگنڈے کے ضمن میں تو درست رہتی ہیں مگر افراد اور واقعات کے ذکر میں نہ صرف یہ کہ چبھنے لگتی ہیں بلکہ بور کر دیتی ہیں۔ پھر قاری کتاب کو تسلسل سے پڑھنے کی بجائے یا تو ورقے پلٹنے لگتا ہے یا ان لوگوں سے متعلق یا ان کی کہی باتیں پڑھ کر ہی ہاتھ اٹھا لیتا ہے جن سے وہ براہ راست شناسا ہو یا جن کے بارے میں اس نے کچھ پہلے سے سن رکھا ہو۔
یقین جانیے مجموعی طور پر یہ کاوش بہت مستحسن ہے۔ اگر یہ کتاب کچھ مختصر ہوتی اور کسی اچھے ملک میں ہوتی تو اسے کالجوں تاحتٰی سکولوں تک کے نصاب کا حصہ بنایا جا سکتا تھا۔ چونکہ ایسا نہیں ہے تو کم از کم فی الواقعی تبدیلی کے ہر خواہش مند کو یہ کتاب بطور دستاویز اپنے پاس رکھنی چاہیے اور تبدیلی کا محض نعرہ لگانے والے ایسے لوگوں کو بھی پڑھانی چاہیے جو کہتے ہیں کہ ہم تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور پولیس ہمیں مارتی ہے تو ہم کیسے تبدیلی لائیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ پولیس کے علاوہ بھی کچھ ایسے ادارے اور افراد ہیں جو صرف مارتے ہی نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی لانے کے خواہاں لوگوں کو جان سے بھی مار ڈالنے کے درپے ہوتے ہیں۔ اپنی اس کاوش کے لیے ڈاکٹر حسن جاوید اور محسن ذوالفقار خراج تحسین کے مستحق ہیں جو میں انہیں پیش کرتا ہوں۔
یہ کتاب سویرا پبلی کیشنز، پاکستان، برطانیہ کی شائع کردہ ہے جس کے حصول کے لیے کراچی میں امین بیگ [email protected] اور لاہور میں آغا طارق سجاد [email protected] سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کی قیمت 1000 روپے ہے۔ میں سمجھتا یوں کہ طلباء کو رعایتی قیمت پر دینی چاہیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں