طورخم بارڈر کھل گیا: تنازعہ  برقرار


\"Torkham\"پاکستان اور افغانستان طورخم کا بارڈر چھ روز کی بندش کے بعد کھولنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس دوران دونوں طرف ہزاروں لوگ اور ٹرک ایک سے دوسرے ملک میں داخل ہونے کے لئے رکے ہوئے تھے۔ اب ان لوگوں کو مکمل پڑتال کے بعد پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف مصدقہ سفری کاغذات رکھنے والے لوگ ہی پاکستان میں داخل ہو سکیں گے۔ اس اعلان کے مطابق اس وقت طورخم پر پاکستان داخل ہونے کے خواہشمندوں کی مکمل پڑتال کی جا رہی ہے۔ بارڈر کھولنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے نمائیندوں کی ملاقات کے بعد کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستانی علاقے میں گیٹ تعمیر کرنے پر تنازعہ فی الوقت حل نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے گزشتہ روز واضح کیا تھا کہ پاکستانی علاقے میں گیٹ کی تعمیر پاکستان کا حق ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سرحد کے ساتھ دیگر مقامات پر بھی بہتر کنٹرول اور ناپسندیدہ عناصر کی آمد روکنے کے لئے مزید گیٹ تعمیر کرے گا۔ کل رات طورخم میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پولیٹیکل انتظامیہ خیبر کے تحصیل دار غنچہ گل نے بتایا ہے کہ افغانستان کی درخواست پر مسافروں کی سہولت کے لئے سرحد کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں طرف کے عہدیداروں نے خوشگوار ماحول میں بات چیت کی۔ غنچہ گل کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستانی علاقے میں گیٹ کی تعمیر کا معاملہ زیر غور نہیں آیا لیکن پاکستان اس گیٹ کی تعمیر پر کام جاری رکھے گا۔ اسلام آباد میں سرکاری نمائیندوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے طورخم پر گیٹ کی تعمیر روکنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ یہ تعمیر جاری رہے گی ۔ اس گیٹ کا نام اتوار کو بلا اشتعال افغان فائرنگ میں شہید ہونے والے میجر علی جواد خان کے نام پر رکھا جائے گا۔

اگرچہ طورخم پر جنگ بندی اور سرحد کھولنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سفارتی اور فوجی سطح پر رابطہ کے بعد کیا گیا ہے لیکن پاکستانی علاقے میں گیٹ تعمیر کرنے کے سوال پر ابھی تک اختلاف رائے موجود ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ اس سوال پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر ذخیل وال کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحد کے اندر گیٹ تعمیر کرنے کے معاملہ پر اتفاق رائے نہیں ہؤا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اس گیٹ کی تعمیر کا کام نہ روکا گیا تو وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں گے۔

اس صورت حال میں دونوں طرف سے سرحد کھولنے اور اشتعال انگیزی بند کرنے پر اتفاق کرنے کے باوجود پاکستانی علاقوں میں گیٹ تعمیر کرنے یا سرحد پر باڑ لگانے جیسے معاملات پر افغانستان کی مزاحمت جاری ہے۔ یہ اختلاف رائے از سر نو کسی نئی جھڑپ کا سبب بن سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اس تنازعہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ کیوں کہ ڈیورنڈ لائن کو دنیا اور پاکستان باقاعدہ سرحد قرار دیتا ہے لیکن افغانستان اسے سرحد تسلیم کرنے کی بجائے پاکستانی علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان آمد ور رفت کے کنٹرول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے بہتر سرحدی کنٹرول بے حد ضروری ہے۔ لیکن افغانستان ابھی تک اس بارے میں تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے جب بھی اقدام کیا جاتا ہے تو افغانستان اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ جب پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا تھا ، تب بھی افغانستان کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو طورخم کی سرحد بند کرنا پڑی تھی۔ بعد میں افغان سفیر نے آرمی چیف سے ملاقات کرکے اشتعال انگیزی بند کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی، جس کے بعد سرحد کھول دی گئی تھی۔

اس حوالے سے آج جی ایچ کیو میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کے ساتھ ملاقات کی۔ ان پر واضح کیا گیا کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے بارڈر مینیجمنٹ بے حد اہم ہے۔ امریکہ کو بھی اس معاملہ میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ افغانستان میں سیکورٹی اور امن کی ذمہ داری اسی نے اٹھائی ہوئی ہے۔ اب پاکستان اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنا چاہتا ہے تو افغان حکومت عاقبت نا اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کام میں روڑے اٹکا رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali