بگڑیاں تگڑیاں دا یار ڈنڈا



کچھ رولا رپا تو اِس جہالت کا تھا جو اکہتر سالہ اِس پاکستانی وجود پر ابھی بھی آکٹوپس کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ کچھ کو برصغیر کے صدیوں پرانے طبقاتی تقسیم کے اُس نظریے کے کھاتے میں ڈال دیں جہاں شودر اور دلت جیسی ذاتیں برھماکے پاؤں سے نکلی ہوئی ہوتی ہیں۔ پچاس برس قبل کی اپنی دادی کے گاؤں پر گزاری ہوئی گرمائی چھٹیوں کی تفصیل میں جاؤں تو یاد آتا ہے کہ جون جولائی کی دوپہروں میں اُن کی زمینوں کے مزارے کی کٹیا کے گھڑے سے پانی پینے کی بات پر وہ ذرا دھیمے لہجے میں منع کرتیں۔ ضد پر کہتیں۔ ناں۔ بندہ عیسائی ہوجائے گا۔ پر مجھ جیسی چوری چھپے گھنے درخت کے نیچے رکھے کچے گھڑے سے کئی بار پانی پیتی اور خود سے کہتی لو بھلا پانی پینے سے کیا ہوتا ہے۔ بس ایسی ہی سوچیں اِس شہرہ آفاق تنازعے کا باعث بنی تھیں۔ پر اگر وہ مینارۂ عظمت اور دنیا بھر کے لیے رحمت العالمین جیسا لقب پانے والا تھوڑی دیر کے لیے دنیا میں آجائے اور اپنے نام نہاد چاہنے والوں کے طور طریقے دیکھے تو یقینا پریشان ہوکر کہے گا کہ عفو درگزری اور صلہ رحمی میرا کردار تھامیر ی تعلیم تھی ۔بیچ میں یہ خون خرابے اور یہ ڈانگ سوٹے میری محبت میں کہاں سے آگئے۔
اب ذرا دو دل جلوں کے شکوے شکائتیں بھی سن لیں جو بے چارے ان پرانے اور نئے کے ستم رسیدہ اور دل گرفتہ تھے۔
میں بے چارہ ماٹھا سا غریبڑا سا بندہ پتہ نہیں رب نے میری پیدائش کرکے اپنے کِس جذبے کی تسکین کی۔ سچی بات ہے اُس گیند کی طرح ہی ہوں جسے نٹ کھٹ شرارتی بچے ٹپا ٹپا کر اس کی کھلڑی ادھیڑنے کے درپے ہوتے ہیں۔خدا لگتی کہوں آپ کو بھی پتہ ہی ہے کہ کہیں مذہبی لیڈر دل تو چاہتا ہے کہوں ٹھیکیدار یا پھر مُلّا مگر نہ تو میں علامہ اقبال ہوں کہ جو ڈنکے کی چوٹ پر کہے دین مُلّا فی سبیل اﷲ فساد۔اب لہراتی ڈانگ سوٹوں کی زد میں رہتا ہوں۔ سائیکل بڑی چھلانگ ماروں تو موٹر سائیکل اتنی ہی میری اوقات ہے۔اس کا بھی بیڑہ غرق۔ ویسے کہیں کہیں اب چوٹ آپ بڑے لوگوں کو بھی لگ جاتی ہے وگرنہ پہلے تو یہ ہمارے ہی مقدر تھے یوں ایک بات ہے اگر لگ بھی جائے تو کیا۔ مرہم پٹی کروانی بڑے لوگوں کے لیے کون سا مشکل۔
کوئی پوچھے انہیں پالتے کیوں ہیں؟انہیں ڈھیل کیوں دیتے ہیں؟ پہلے تو مجھ جیسے بے عقل کو سمجھ ہی نہیں تھی۔اب سمجھا ہوں۔ پھر ایک دن ایسے ہی دعا بھی کر بیٹھا۔ تم بڑے لوگوں کے گھروں میں آگ لگے تو پھر تمہیں پتہ چلے گا۔یوں ہم غریب تھڑدلے بھی ہوتے ہیں ویسے ہم میں کچھ ظالم بھی بن جاتے ہیں۔ میں تو کلّے پیٹنے اور اﷲ سے معافیاں مانگنے لگ جاتا ہوں کہ اﷲ میاں سب کی خیر کر کسی کے صدقے میر ی خیر ہو۔
اب ایک نئی افتاد کا احوال بھی سُن لیں جو ہم غریبوں پر پڑی۔ بے چارے سیدھے سادھے لوگ کہیں قرضوں پر ، کہیں قسطوں پر رکشے ٹیکسیاں لیں توبینک اکاؤنٹ کھول لیتے ہیں۔ہمارے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ یہ بڑے بڑے لوگ کیسے ہمیں ککھ پتی سے لکھ پتی اور کروڑ پتی بنا دیتے ہیں پل جھپکتے میں۔ پر ہم اوندھوں کو یہ عقل ہی نہیں آتی کہ کبھی اپنے حساب کتاب بھی چیک کرلیں۔ پر اس کا بھی کیا فائدہ تمہارا کیا خیال ہے یہ اِن بینکوں والے بڑوں کے تعاون کے بغیر کام ہوتے ہیں۔ یہ سب ان کے ساتھ ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ گھپلے ایسے تو نہیں ہوتے۔ کمیشن، حصّے سب طے ہوتے ہیں۔ میں تو افسوس کرتا رہا۔ ہائے نہ ہوئے میرے اکاؤنٹ میں کروڑوں نکلوا لیتا تو کتنا مزہ آتا۔ شکرگزار ہوتا نیلی چھت والے کا کہ کیسے چھپر پھاڑ کر مجھے دیا۔ مگر نہیں جی۔ یہ معجزے ہم جیسے بے چاروں کے ساتھ نہیں ہوتے۔وہ اکاؤنٹ اُن کی اپنی اصطلاح میں ریڈ الارمنگ ہوتے ہیں۔غریب کو تو بھنک نہیں پڑتی اور کالادھن دودھ جیسی صورت کے ساتھ باہر آجاتا ہے۔
دوسرا بھی پھٹ پڑا اب دیکھو نا۔کوئی بات ہے ۔بھلا گھر میں آگ لگی ہواور بندہ باہر بھاگا پھرے۔ٹھیک ہے ۔پیسے کی ضرورت تھی۔ہاتھ پیر مارنے تھے پرپڑھے لکھے بندے کو کچھ تاریخ سے بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ملک کچھ اتنا گرا پڑا بھی نہ تھاکہ جتنا سوویت ٹوٹتے وقت تھا۔ابھی کچھ بہت پرانا واقعہ بھی نہیں کہ بندہ کہے کہ صفحوں کو کھول کر کون پڑھے۔ہمارے سامنے کا ہے کہ اﷲ رحم کرے لوگوں کو ڈبل روٹی کے لیے گھنٹوں قطاروں میں لگنا پڑا تھا۔اعلیٰ فوجی جرنیل ریڈ سکوائر میں کھڑے اپنے تمغے بیچتے تھے۔ آلو،انڈے ،گوشت سب مارکیٹوں سے غائب۔ لوگوں کا حال ایسا کہ جیسے قحط پڑنے والا ہو۔جو چیز ہاتھ میں آتی ہے سمیٹ لوجیسی سوچ والے بن گئے تھے۔ملک کی اشرافیہ ڈالروں کے بریف کیس اٹھائے لندن بھاگی جاتی تھی۔ ساتھ جڑی چودہ ریپبلکس ایک کے بعد ایک اپنی آزادی کا اعلان کرتی پھر رہی تھیں۔ سارا ویسٹ چسکے لیتا اور خوشی سے بغلیں بجاتا پھرتا تھا کہ آرزئیں بر آئی ہیں۔ سمجھدار لیڈروں نے یلسن کو اٹھا کر باہر پھینکا اور پیوٹن نے باگ دوڑ سنبھالی۔ مقامی صنعتیں میدان میں اُتریں اور حالات بہتر ہوتے چلے گئے۔
اب کرپشن کرپشن کی رٹ لگا رکھی ہے۔میاں تیل دیکھو ،تیل کی دھار دیکھو۔کرپشن میں کون سا ملک ملوث نہیں۔اب چین جیسا ملک جو رول ماڈل کی صورت سامنے ہے کرپشن تو وہاں بھی ہے۔ہمارا گوانڈی جس سے اٹ کتے والا بیر ہے اور جس کی ہر ترقی ہمیں بھونڈ کی طرح لڑتی ہے۔وہ بھی کرپشن سے خالی نہیں۔
سچی بات ،سو باتوں کی ایک بات۔ ڈنڈا قانون کی سخت عملداری۔ یہاں کیا ہے؟ انتظامیہ ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ۔سخت ایکشن لینے میں ہچکچاتی ۔قانون کی دھجیاں سڑکوں پر بکھر رہی تھیں۔ چین گئے تو ہیں اُن سے ہی پوچھ لیتے کہ آپ کے پاس کون سی گیڈرسنگھی ہے کہ چھلانگیں مارتے اوپر ہی اوپر چڑھتے چلے جارہے ہیں۔وہ جب فیصلہ کرنے پر آتے ہیں تو ڈینگ یاؤ پینگ جیسے لیڈر ٹینک توپیں چلا دیتے ہیں چاہے پھر نوجوان نسل کے خون سے چوراہے بھیگ جائیں پلٹ کر نہیں دیکھتے ۔
لو اب ایک اور سنو۔ٹی وی چینلز کو اخلاقی کوڈ پہنانے کی تجاویز پر غور ہورہا ہے۔
مانتے ہیں کچھ باتیں بھلی نہیں ہیں اِن کی بھی۔ مگراِن بڑے لوگوں کی باتیں اچھی ہیں کیا ۔ان کے لیے سب جائز۔چلو وہ اپنی ریٹنگ کے لیے اپنے چینلز کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے، نمبر ون بننے کی دوڑ میں کونے کھدروں سے خبریں نکالتے ہیں،اچھالتے ہیں پھر کسی قاضی اعلیٰ کے علم میں کوئی بات آجاتی ہے اور وہ نوٹس لے لیتا ہے اور غریب کی شنوائی ہوجاتی ہے۔
کم ازکم لوگوں کو پتہ تو چل جاتا ہے وگرنہ تو غریب کا جینا حرام کردیں۔گو جینا تو اس کا ابھی بھی حرام ہے۔پھول جیسی بچیاں ان بڑے لوگوں کے ستم کا نشانہ بنتی ہیں۔اور داد نہ فریاد۔ عام لوگوں کو اسی ذریعے سے پتہ چلتا ہے تو واہ ویلا ہونے لگتا ہے۔
اب اسے بھی یہ ہم سے چھیننا چاہتے ہیں۔
کوئی بات ہے بھلا ۔اب آپ کو اس لیے تو نہیں لائے تھے۔ووٹ تو تبدیلی کو دیا تھا۔ اگر غریب کے مقدر میں یہی ستم لکھے ہوئے ہیں کہ اس کا بے زبان جانور کھل کر آپ کی پارٹی کے کسی بڑے کے گھر گھس جائے تو اس کی سزا اتنی ظالمانہ کہ پورے ٹبر کو کولہو میں پسوا دو۔
اُن کے محل نما گھروں کے ہمسایوں میں ہم غریبوں کی جھگیاں ناقابل برداشت۔ بس نہ چلتا تھا کہ کیسے مخمل میں ٹاٹ کے اِن پیوندوں کو اکھاڑ کر پھینک دیں۔اُونگھتے کو ٹیلے کا بہانہ بے چارے جنور کی منہ ماری تو ایسے ہی بیچ میں آگئی۔ نکالنے کے درپے تو وہ مدت سے تھے۔اب سنوائی کہاں ہونی تھی۔غریب جیل میں بند نہ داد، نہ فریاد۔بھلا ہو اس سوشل میڈیا کا جس نے دہائی مچائی تو لوگ چونکے۔ اب یہ اُسے بھی اخلاقیات اور تہذیب کے لباس پہنانے کا سوچ رہے ہیں۔
٭٭٭

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں