بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا حکیم الدین غوری اس چکر میں کیسے پڑا؟


جسم فروشی ون وے نہیں بلکہ ٹو وے ٹریفک ہے۔ عورت اس وقت تک فاحشہ نہیں بن سکتی جب تک اسے خریدار نہ ملے اور مرد اس وقت تک برائی کے گڑھے میں نہیں گر سکتا جب تک عورت کی شکل میں سراب اس کی قسمت کا حصہ نہ بنے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی مرد یہ کہے کہ وہ معصوم تھا اور قصور صرف عورت کا ہے جس کے حسن کا حسن کا اسیر ہو کر وہ برائی کے جنگل میں جا کر بھٹک گیا۔ اسی طرح عورت بھی اپنی غلطی اور کو تاہی کی ذمہ داری مرد پر نہیں ڈال سکتی۔

عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے عزت اور رسوائی کا سامان بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زانی مرد اور زانی عورت دونوں کو کوڑے مارنے کا حکم دیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ چونکہ مرد رقم ادا کر کے برائی کا ارتکاب کر رہا تھا اس لئے اسے معاف کر دیا جائے اور عورت کو اس لئے سزا دی جائے کہ وہ جسم کو کمائی کا ذریعہ بنا چکی تھی۔ بلکہ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو زنا سے بچنے کا حکم دیا ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ زانی عورت کا نکاح زانی مرد اور زانی مرد کا نکاح زانی عورت ہی ہو سکتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی لڑکی کو جن نے قابو میں کر لیا۔ اس کا کافی علاج کیا گیا لیکن وہ تندرست نہ ہوئی۔ جب بستر مرگ پر پڑی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھی تو اتفاق سے کوئی اللہ کا بندہ وہاں پہنچ گیا اور اس نے ایک تعویز کو کسی برتن میں ڈال کر اس لڑکی کے عزیز و اقارب اور اہل خانہ کی موجودگی میں کہا: “اب آپ لوگوں میں سے کوئی ایسا شخص اس برتن کو پکڑے جو اپنی زندگی میں زنا مرتکب نہ ہوا ہو۔ “

وہاں موجود درجن بھر مرد حضرات ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے کیونکہ عالم دین کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے دھوکہ دے کر برتن کو پکڑا تو جن اس لڑکی کی جان چھوڑ کر اس کی پکڑ لے گا۔ اس وارننگ کا یہ اثر ہوا کہ پورے خاندان میں سے کسی کو وہ برتن پکڑنے کی ہمت نہ ہوئی۔ لیکن وہاں موجود محلے کے ایک نوجوان نے اس برتن کو اٹھا لیا اور وہ لڑکی کالے جادو کے اثر سے آزاد ہو گئی۔ اس مثال کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ بے راہ روی سوسائٹی جڑین کس حد تک کھوکھلی کر دیں ہیں۔

ایک دفعہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی عمر 46 سال تھی شاید ہی کوئی طوائف ایسی ہو جو اس کی صورت یا اس کے نام سے واقف نہ ہو۔ وہ بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا تھا اور میرے قابو بڑی مشکل سے آیا۔ پہلے تو اس نے کئی چکر دیے لیکن بہت اصرار پر اس نے وعدہ لیا کہ میں اس کا اصل نام ظاہر نہ کروں گا تو وہ مجھے اپنی کہا نی سنا دے گا ہم اس کا نام حکیم الدین غوری رکھ لیتے ہیں جو اس کے نام سے کچھ ملتا ہے۔ حکیم الدین غوری پیشے کے اعتبار سے ایک ورکشاپ کا مالک ہے اور شاید ہی لاہور میں کوئی ایسا کوٹھی خانہ ہو جہاں اس قدم نہ رکھا ہو۔

راوی روڈ پر واقع اس کی ورکشاپ سرشام ہی بند ہو جاتی ہے اور رات کے پر سکون لمحات میں وہاں محفلیں جما کرتی ہیں۔ لاہور کے بعض شرابی تھانیداروں کو شراب سپلائی کرنا اس کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ خصوصاً اس کے اپنے علاقے کا تھانیدار تو اکثر اس سے بوتل حاصل کیا کرتا تھا۔ پہلے تو حکیم الدین غوری نے مجھے کئی چکر لگوائے اور ایک دن جب وہ کھل پڑا تو پھر ہمارے درمیان کوئی تکلف نہ رہا۔ میں سوال کرتا گیا اور وہ ان کے جواب دیتا چلا کیا۔

” حکیم صاحب! اب تک کتنی لڑکیاں آپ کی زندگی میں آ چکی ہیں؟ “ میں نے پوچھا۔ “لڑکیوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ کہیں طوائف کے بارے میں تو بات نہیں کر رہے؟ “ میرا اشارہ طوائف ہی کی طرف تھا؟ “
” میں سینکڑوں عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کر چکا ہوں۔ “اس نے فخر سے سینہ تا ن کر کہا۔

” کیا مطلب، آپ نے عورتوں کو اپنے تجربے سے مستفید کیا یا عورتوں کے پاس جائے کی وجہ سے آپ کے تجربات میں اضافہ ہوا؟ “
” میرے معاملے میں یہ صورت حال الٹ ہے۔ “

” پہلی عورت زندگی میں کب آئی “
” عورت نہیں لڑکی کہیں۔ وہ میری کزن تھی اور شادی شدہ تھی۔ پہلا تجربہ اس سے حاصل کیا۔ “

” پھر۔ “
” پھر چل سو چل۔ “

” آپ کی کزن کی عمر کیا ہو گی؟ “
” یہی کوئی 28 سال۔ “
” یہ سب کیسے ہوا؟ “

” ہوا یہ کہ وہ کئی دن سے ہمارے ہاں ٹھہری ہوئی تھی اور اس کے میاں دبئی میں قیا م پذیر تھے۔ میں اس میں خصوصی دلچسپی لے رہا تھا اور میری آنکھوں میں موجود بھوک کو وہ بھی محسوس کر چکی تھی۔ میری عمر اس وقت 20 سال تھی۔ نوجوا نی کے دن تھے۔ جذبوں پر کنٹرول نہ تھا۔ میری حالت بالکل ایسی ہی تھی جیسی حالت طوفان کی زد میں آنے والی کمزور دیوار ہوتی ہے۔ ایک دن دوپہر کے وقت میں چھت پر پلے بوائے میگزین پڑھ رہا تھا۔

میری نظر تحریر کی بجائے تصویروں پر زیادہ تھی۔ میں خیالوں کی دنیا میں ڈوبا ہوا تھا کہ وہ اچانک میرے سامنے آ کھڑی ہوئی اور اس نظر سیدھی ایک ایسی تصویر پر پڑی جس میں ایک عورت 3 مردوں کے ساتھ داد عیش دے رہی تھی۔ میں گھبرا گیا کیونکہ اس قسم کے رسالوں کو ہم چوری چھپے پڑھا کرتے تھے۔ پہلے تو وہ نروس ہوئی اور پھر بولی : “کیا پڑھ رہے ہو۔ “

میں نے جلدی سے میگزین بند کیا اور اپنے ماتھے پر آنے والے پسینے کو صاف کرتے ہوئے ہکلاتے ہوئے کہا: ”کچھ نہیں، میڈیکل کی ایک کتاب ہے۔ “ وہ بولی ”مگر تم تو میڈیکل کے سٹوڈنٹ نہیں ہو! “میں خاموش رہا۔ اس کی نظر میرے پورے جسم کا جائزہ لے رہی تھی۔ میں مزید کنفیوز ہو گیا۔

” ذرا دکھاؤ تو سہی یہ کیا ہے؟ “
میرے خیال تھا کہ وہ اصرار نہیں کرے گی لیکن میرے تمام انداز غلط ثابت ہوئے اور اس نے دوبار اپنا سوال دہرایا۔ ”دکھاؤ میں کسی سے ذکر نہیں کروں گی۔ “

میں نے میگزین اس کی طرف بڑھا دیا۔ وہ توبہ توبہ کرتی رہی اور ورق پلٹی رہی۔ میگزین ختم ہونے سے پہلے اس کا رویہ بدل چکا تھا۔
” کب سے ایسی فضول چیزیں پڑھ رہے ہو؟ “

میں خاموش رہا۔
” آئندہ آیسی چیزیں نہ پڑھنا۔ “ یہ کہہ کر وہ واپس نیچے چلی گئی اور جاتے جاتے میگزین واپس کر دیا۔

مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ میری شکایت نہ کر دے لیکن گھر والوں کے رویے کو دیکھ کر تسلی ہوئی کیونکہ کسی کی نظروں میں میرے لئے کسی قسم کی تبدیلی موجود نہ تھی۔ جس دن اس نے واپس جانا تھا وہ چھت پر اکیلا پا کر میرے پاس چلی آئی۔ میں اس وقت سٹڈی روم میں واقعی پڑھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے کمرے میں داخل ہوئی۔ میں نے احسان مندی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور اصرار کیا کہ وہ مزید کچھ دن قیام کرے۔ لیکن وہ بضد تھی کہ وہ واپس سسرال جائے گی کیونکہ اسے یہاں آئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں