لاہور کا دھرنا اور ملک کا دہکتا سیاسی ماحول


\"13466131_10153526770826227_5452425697371825872_n\"رمضان المبارک اور شدید گرمی کے باوجود پاکستان عوامی تحریک نے کل رات حکومت مخالف دھرنے کا آغاز کیا۔ علامہ طاہر القادری نے اگرچہ حسب سابق اس بار بھی پراسراریت قائم رکھی ہوئی تھی اور کہا تھا کہ وہ دھرنے میں اپنی تقریر کے دوران آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ تاہم ان کے نائبین نے لاہور انتظامیہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ دھرنا رات کے دوران ختم کر دیا جائے گا۔ طاہر القادری خود نصف شب کے قریب آئے اور حکومت کے خلاف تند و تیز تقریر کرنے کے بعد دھرنا ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں وہ ایک ہفتہ کے نوٹس پر دھرنا دیں گے اور یہ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔ اس موقع پر اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں نے نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا۔ طاہر القادری اگرچہ 2014 میں ماڈل ٹاؤن سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کینیڈا سے لاہور آئے ہیں لیکن ان کی باتوں اور اس جلسہ میں لگائے گئے نعروں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دراصل یہ ایک سیاسی اجتماع تھا جو ایک بار پھر ملک میں سیاسی ہلچل، بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کےلئے منعقد کیا گیا تھا۔

بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کے رویہ سے مایوس سیاسی پارٹیوں کے اگرچہ اپنے اپنے گلے شکوے ہیں لیکن ملک میں صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کے عمل میں سب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ طاہر القادری نے کل لاہور میں جو شو منعقد کیا ہے، اس میں پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ق)، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندے شریک تھے۔ لیکن اس شرکت سے یہ قیاس کرنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ ساری سیاسی پارٹیاں حکومت کے خلاف کسی طویل المدت احتجاجی مہم کا حصہ بننے پر رضا مند ہو گئی ہیں۔ البتہ یہ اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ حکومت مخالف سارے سیاسی عناصر یہ جائزہ لیتے رہیں گے کہ ملک میں احتجاج کے حوالے سے کیسا ماحول ہے۔ اگر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک یا کوئی دوسری جماعت ایسا طاقتور احتجاج منظم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، جس میں لوگ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوں اور یہ تسلسل سے جاری بھی رہ سکے تو صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے۔ علامہ طاہر القادری اس سے پہلے دو مرتبہ دھرنا کے ذریعے ملک میں ’’طوفان‘‘ برپا کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ دونوں مرتبہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کا ایک دھرنا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کےخلاف تھا۔ جو نعرے وہ 2013 میں آصف علی زرداری اور ان کے رفقا کے بارے میں بلند کر رہے تھے، اسی قسم کی الزام تراشی نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں 2014 کے دھرنے کے دوران کی گئی تھی۔ حالات کی ستم ظریفی کہئے یا سیاست کی سنگدلی کہ اب وہی پیپلز پارٹی طاہر القادری اور عمران خان کی آنکھ کا تارا ہے جو کل تک اس ملک میں بدعنوانی کی سب سے بڑی مثال تھی۔

علامہ طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کا کوئی باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے۔ یہ نام صرف ایک عالم دین اور پیر سے سیاستدان بننے کےلئے ڈھونگ کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ اس لئے طاہر القادری کو نہ تو جمہوریت پر اعتماد ہے اور نہ وہ کسی جمہوری نظام میں انتخاب جیت کر حکومت قائم کرنے یا سیاسی رسوخ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ البتہ انہوں نے منہاج القرآن کے نام سے ایک دینی ادارہ استوار کیا ہے اور اس ادارے کے زیر اہتمام ملک بھر میں کئی سو اسکول کام کر رہے ہیں۔ اس طرح وہ اس تنظیم اور اس کے ذیلی اداروں سے وابستہ لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے جلسوں میں شرکا کو جمع کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتے ہیں۔ ایک عالم دین کے طور پر لوگوں کے ایک بڑے گروہ میں ان کا احترام موجود ہے۔ لوگ اپنی عقیدت کی وجہ سے پورے خاندان کے ساتھ جلسہ میں شریک ہونے کےلئے آ جاتے ہیں۔ منہاج القرآن کے وابستگان روزگار کی مجبوری کی وجہ سے بھی دھرنا یا جلسہ کی اپیل پر جوش و خروش سے شامل ہوتے ہیں۔ اسی دینی رتبہ کی وجہ سے منہاج القرآن کا تنظیمی ڈھانچہ پوری دنیا میں استوار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے علامہ طاہر القادری کو اپنے سیاسی فیصلوں کےلئے سرمائے کی کمی نہیں ہوتی۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے معتقدین یا منہاج القرآن کی تنظیمیں ان کے ایڈونچر کےلئے وسائل فراہم کرنے سے دریغ نہیں کرتیں۔ اس طرح علامہ طاہر القادری اپنی اس تنظیمی قوت کو جب چاہیں حکومت کےخلاف استعمال کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ البتہ انہیں خود یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کی دینی رہنمائی کرنے، منہاج القرآن جیسے کامیاب منصوبے کو زیادہ منظم کرنے اور علمی و تحقیقی کام کرنے کی بجائے ہر تھوڑی مدت کے بعد کیوں ہنگامہ آرائی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح نہ تو وہ کبھی اقتدار میں شریک ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی عزت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ بہت سے لوگ ان کے سیاسی کرتبوں کی وجہ سے ان سے برگشتہ ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ وہ کون سے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ تین برسوں کے دوران دھرنے اور جلوسوں میں انہوں نے درجنوں پرجوش تقریریں کر کے اپنی خطابت کا لوہا منوایا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ایسا کوئی ٹھوس پروگرام پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کی بنیاد پر ملک کے لوگوں کی اکثریت متحرک ہو اور ایک خاص ایجنڈا کےلئے ووٹ دے کر تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی کا الزام دے کر سیاست کرنے کا چلن جمہوریت کے علاوہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے طاہر القادری اس طرز عمل کو اختیار کرنے والے واحد سیاستدان نہیں ہیں۔ عمران خان کے علاوہ متعدد بار ملک پر حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی بھی اسی رویہ کا مظاہرہ کرتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) جب ملک میں حکومت بنانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ بھی ایسی ہی نعرے بازی کا سہارا لیتی ہے۔ البتہ ہنگامہ آرائی کی صورت میں فوج کو ضرور سیاستدانوں کو مسترد کر کے ملک پر حکومت کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

اصولی طور پر تو 2013 کے انتخاب میں شدید ناکامی کے بعد پیپلز پارٹی کو اپنی عدم مقبولیت کی وجوہات کا پتہ لگانے کےلئے کام کرنا چاہئے تھا۔ اور ان غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے ازسر نو پارٹی کا ڈھانچہ استوار کر کے آئندہ انتخابات کی تیاری کرنی چاہئے تھی۔ گزشتہ تین برس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے اس قسم کی کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ حتیٰ کہ سندھ میں بھی کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی حالانکہ وہاں اس کی حکومت ہے اور اس بنیاد پر وہ اپنی بہتر انتظامی صلاحیت کا لوہا منوا سکتی تھی تا کہ آئندہ پورے ملک میں ووٹروں کو اپنی طرف مائل کر سکتی۔ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی نے رینجرز کے ساتھ مسلسل تصادم کی کیفیت پیدا کر کے خود اپنے لئے مشکلات پیدا کیں۔ اس کے علاوہ اس کی مرکزی قیادت جن میں بلاول بھٹو زرداری بھی شامل ہیں، علاقائی نعرے بازی کر کے اپنا قد چھوٹا کرتے رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی 2013 کی انتخابی شکست کے بعد کوئی سیاسی سبق سیکھنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ دو برس قبل آصف زرداری نے فوج کےخلاف غیر محتاط زبان استعمال کر کے پارٹی کو ’’انقلابی‘‘ پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن نتیجہ کے طور پر انہیں خود ’’ملک بدر‘‘ ہونا پڑا۔ ان کی غیر موجودگی میں بلاول بھٹو زرداری ابھی تک پارٹی معاملات کو سمجھنے اور پارٹی کو ازسرنو متحرک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس دوران ڈاکٹر عاصم حسین سمیت پیپلز پارٹی کے بعض اہم رہنماؤں کے خلاف مقدمات نے پارٹی قیادت کو ہراساں بھی کیا ہے۔ وہ اس سراسمیگی اور کمزوری کا غصہ حکمران مسلم لیگ (ن) پر نکال کر اپنے لئے سیاسی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا معاملہ بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہ پارٹی اچانک قومی اسمبلی کی 32 نشستیں اور خیبر پختونخوا میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ صوبے میں اس کی حکومت موجود ہے۔ اس اچانک کامیابی کے عوامل کو سمجھتے ہوئے مستقبل میں زیادہ بڑی کامیابی کےلئے میدان ہموار کرنے کی بجائے عمران خان نے اپنی ساری صلاحیتیں پہلے دھاندلی کے نام پر احتجاج اور مظاہروں پر صرف کیں اور اب پاناما لیکس اسکینڈل کو بنیاد بنا کر مظاہرے کرنے اور دھرنے دینے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد شیخ رشید کو عمران خان کی مقبولیت میں پناہ لینے میں ہی عافیت محسوس ہوئی۔ لیکن وہ اقتدار سے دوری کا انتقام یوں لیتے ہیں کہ اپنے بیانات اور طرز عمل سے بے بنیاد پیش گوئیاں کر کے صاحبان اقتدار کو پریشان اور اپنے ساتھی سیاستدانوں کو حیران اور خوش کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

مایوس اور اقتدار کےلئے بے چین سیاستدانوں کا ٹولہ ملک میں کسی تبدیلی یا اصلاح کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔ اب طاہر القادری دو ماہ کےلئے کینیڈا سے لاہور آ کر ماحول کو ایک دفعہ پھر گرمانا چاہتے ہیں۔ طاہر القادری کے علاوہ عمران خان، شیخ رشید اور مسلم لیگ (ق) کی امیدوں کا مرکز بڑی حد تک جی ایچ کیو GHQ ہے۔ مثبت اشارہ ملنے کی صورت میں جماعت اسلامی بھی چھلانگ لگا کر اس گروپ میں شامل ہو جائے گی۔ بصورت دیگر احتجاج اور مصالحت کے بیچ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی رہے گی۔ کل رات طاہر القادری نے انصاف کے حصول کےلئے چیف جسٹس سے اپیل کرنے کی بجائے یا عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کی بجائے جس طرح آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ماڈل ٹاؤن سانحہ میں اانصاف کی واحد امید قرار دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس سے ان کے سیاسی عزائم کا پردہ فاش ہو جاتا ہے۔ ان کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھنے والے بھی فی الوقت اپنی خوشی یا مجبوری سے اس نعرے کا ساتھ دینے پر تیار ہیں۔ حالانکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اپنی اپنی جگہ فوج کی کارروائیوں سے نالاں ہیں۔ اس صورت میں یہ دونوں پارٹیاں فوج کے اشارے پر رونما ہونے والی تبدیلی سے کسی بھلائی کی امید نہیں کر سکتیں۔

فوج ایک غیر جانبدار ایمپائر کے طور پر سیاستدانوں کا یہ دنگل دیکھنے میں مصروف ہے۔ حکومت وقت کے اختیارات پر زیادہ سے زیادہ تصرف کےلئے فوج کو اس قسم کے ہنگاموں اور کرداروں کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس سارے معاملے میں فوج نے اگر کوئی اشارے نہ بھی دیئے ہوں تو بھی وہ مکمل طور سے غیر جانبدار نہیں ہے۔ ملک کی سلامتی اور فلاح کےلئے فوج کا اپنا ایک ایجنڈا ہے جس پر وہ اپنے طریقے سے عمل کروانا چاہتی ہے۔ اس ایجنڈے میں پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اس عظیم منصوبہ کی تکمیل کےلئے ملک میں جس سیاسی ہم آہنگی، انتظامی باقاعدگی اور ادارہ جاتی تعاون اور مواصلت کی ضرورت ہے، وہ ناپید ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کےلئے سیاسی بحران اور انتشار کو ختم کرنا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں مختلف کردار پوری تصویر دیکھنے کی بجائے، اسے صرف اپنے زاویئے سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک کے مستقبل کےلئے یہ کوئی خوش آئند صورتحال نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 625 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali