غریب، مائی فُٹ!


\"1-yasir-pirzada\"’’یار ایک تو میں  اِس ملک میں غریبوں سے بہت تنگ آ گیا ہوں! ‘ ‘ میرے دوست نے اپنی جہاز نما گاڑ ی کے ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈک کم کرتے ہوئے کہا ۔

’’کیا مطلب ؟ ‘ ‘ میں نے چونک کر پوچھا ۔ دوپہر کا وقت تھا اور سڑکوں پر اِس وقت جھلسا دینے والی گرمی تھی  مگر میرے دوست نے گرے رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا اور ہلکی نیلی قمیض کے ساتھ سرخ ٹائی لگائی ہوئی تھی،گاڑی کا اے سی چونکہ قیامت کی گرمی کو مات دے رہا تھا اِس لئے اُس کا یہ سوٹ بہت خوشنما لگ رہا تھا۔

’’مطلب یہ کہ لوئر مڈل کلاس اور غریب طبقہ ہر وقت کوئی نہ کوئی رونا روتا رہتا ہے، یہ لوگ محنت تو کرتے نہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ ہمارے گھروں پر قابض ہو جائیں ۔ اب مجھے ہی دیکھ لو، آج میں جو کچھ ہوں اپنی انتھک محنت کی بدولت ہوں، تم سے بہتر مجھے کون جانتا ہے ، میں نے راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھا، امتحانات میں بہترین نمبر حاصل کئے، سکالر شپ لے کر  باہر پڑھنے کے لئے گیا، واپس آیا تو منہ مانگی تنخواہ والی نوکری کی، اور یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے،  مگر یہ غریب تو چاہتے ہیں کہ انہیں کچھ کرنا بھی نہ پڑے اور سہولیات بھی امیروں والی مل جائیں ۔ ‘ ‘ میرے دوست نے جملہ ختم کرتے وقت انگریزی میں بڑبڑاتے ہوئے کوئی گالی بھی دی۔

’’تمہار ی بات میں وزن تو ہے میرے یار مگر صرف محنت سے بات بنتی تو سڑک کے کنارے کھڑا یہ غریب مزدور اب کروڑ پتی ہوتا، اس سے زیادہ محنت کون کرتا ہے۔۔۔۔! ‘ ‘ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے دوست نے بات کاٹی اور بولا ’’غریب، مائی فُٹ، پلیز، اب تم مجھے یہ فرسودہ مثالیں مت دو، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جو شخص محنت نہیں کرتا وہ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا، ہاں میں مانتا ہوں کہ فقط محنت سے بھی بعض اوقات کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ بندے کا ذہین ہونا بھی ضروری ہے، میں پھر اپنی مثال دوں گا، اگر میں ذہین نہ ہوتا تو زیادہ محنت  مجھے تھوڑا بہت تو کامیاب کردیتی مگر یہ سب کچھ جو تم دیکھ رہے ہو وہ میرے پاس نہ ہوتا، میں فقط  ایک اوسط درجے کا نیم کامیاب ٹائپ کوئی شخص ہوتا۔ ‘ ‘

میں نے اپنے دوست کی طرف غور سے دیکھا کہ کہیں وہ مذاق تو نہیں کر رہا مگر اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی، تاہم میں اب اس کی گفتگو ہو انجوائے کرنا چاہتا تھا سو میں نے ایک اور سوال داغ دیا : ’’یہ بتاؤ کہ تم اگر ذہین پیدا ہوئے تو اس میں تمہارا کیا کمال ہے ؟ ‘  ‘ میرے دوست کے چہرے پر ایک لمحے کو مسکراہٹ ابھری اور پھر یکدم یوں غائب ہو گئی جیسے لوڈ شیڈنگ میں  وقت سے پہلے بجلی آ جائے تو اگلے ہی لمحے دوبارہ چلی جاتی ہے ۔ ’’یہ بات تمہاری درست ہے کہ میری ذہانت میں خود میرا کوئی کمال نہیں، میرا کمال صرف یہ ہے کہ ذہین پیدا ہونے کے بعد میرے پاس آپشن تھا کہ میں محنت کروں یا نہ کروں، میں نے محنت کرنے کا فیصلہ کیا اور امیر ہو گیا، یہ جو غریب لوگ تم اپنے ارد گرد دیکھتے ہو، ان کے ناکام ہونے میں خود اِن کا قصور ہے، ایک تو یہ ذہین پیدا نہیں ہوئے اوپر سے کام چور ہیں، سو اِن کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ اسی کے مستحق ہیں ! ‘ ‘

اسی بارے میں: ۔  عوام کے دکھ اور (خورشید) شاہ صاحب

گاڑی اب نہر کے کنارے دوڑ رہی تھی، گرمی کی شدت سے تنگ آئے ہوئے لوگ نہر میں ڈبکیاں لگا رہے تھے اور میرے دوست کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اگر اس کا بس چلے تو وہ ان کونہر میں ہی ڈبو دے ۔ ’’اِن کے گھروں میں بجلی نہیں سو اِس گرمی میں یہ نہر ان کے لئے اے سی کا کام دے رہی ہے ۔ ‘ ‘ میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی ۔ میرے دوست نے میری طرف یوں دیکھا جیسے اُسے اِس جملے سے سخت تکلیف پہنچی ہو ۔ ’’ تمہیں پتہ ہے کہ یہ کس قدر خطرناک بات  ہے، ان جاہلوں کو پتہ ہی نہیں کہ امریکہ اور یورپ میں ایسی حرکتوں کا تصور ہی نہیں، وہاں انسانی جان کی بڑی  قیمت ہے، اور یہاں اِن لوگوں نے تماشا بنایا ہوا ہے  ۔ ‘ ‘ میرے دوست کے لہجے میں اِس دفعہ حقارت بھی تھی۔

’’یار، تم انہیں امریکہ کا ویزہ لگوا دو، میں گارنٹی دیتا ہوں کہ وہاں جا کر یہ دریائے ہڈسن میں نہیں نہائیں گے! ‘ ‘ میں نے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی۔ ’’Very funny ! ‘ ‘جواب آیا۔

’’اچھا جان برادر، تم خود ہی تو کہتے ہو کہ کسی انسان کا ذہین یا غریب خاندان میں پیدا ہونے میں کوئی کمال یا قصور نہیں، تو اگر یہ بیچارے تمہاری طرح ذہین پیدا نہیں ہو سکےتو کیا انہیں اٹھا کر بحیرہ عرب میں پھینک دیں ؟ ‘ ‘

’’نہیں ! ‘ ‘ میرے دوست کے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ پیدا ہوئی  ’’بحیرہ عرب میں پھینکنے کی ضرورت نہیں، آخر ملک کا کام بھی چلانا  ہے، یہ لوگ بطور مالی، ڈرائیور، کُک، چپڑاسی، کلرک، مزدور، کسان کے طور پر کام کرتے ہیں، ابھی اِس ملک میں اتنی سکت ہے کہ ان سے کام لیا جا سکے، اور پھر ہم نے زکوٰة خیرات وغیرہ بھی دینی ہوتی ہے، اگر یہ لوگ نہ ہوں تو وہ کسے دیں! میرا اعتراض تو صرف یہ ہے کہ اِن لوگوں کو زیادہ واویلا مچانے کی ضرورت نہیں، انہیں یہ حقیقت جان لینی چاہئے کہ اگر یہ ذہین پیدا نہیں ہوئے تو پھر اسی قسمت کے ساتھ اور اسی حالت میں انہیں جینا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ایک جاندار کسی بھینس کے روپ میں پیدا ہو جائے تو وہ یہ شکایت نہیں کرسکتا کہ اسے بھینس کیوں بنایا گیا، گینڈا کیوں نہیں بنایا گیا! ‘ ‘ اس دفعہ میری ہنسی چھوٹ گئی، میرے دوست نے مجھے یوں دیکھا جیسے میرے ہنسنے پر اسے دلی صدمہ پہنچا ہو ۔ ’’اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے، میں نے کوئی انہونی بات کی ہے، اگر کسی کے جینز میں ذہانت نہیں تو کیا اس میں میرا قصور ہے! ‘ ‘ میں نے بمشکل اپنی  صورت پر سنجیدگی طاری کی اور کہا  ’  ’ ہاں، اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں، اور میرا خیال ہے کہ تم غلط مقام اور وقت پر پیدا ہو گئے، اس میں بھی تمہارا کوئی قصور نہیں ! ‘ ‘

اسی بارے میں: ۔  شہباز تاثیر۔۔۔ بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں

’’کیا مطلب ؟ ‘ ‘ میرے دوست نے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’مطلب یہ  کہ تمہیں نازی جرمنی میں پیدا ہونا چاہیے تھا، ایسی صورت میں تم مزید کامیاب انسان ہوتے کیونکہ ہٹلر تمہارے ان زریں خیالات کی بدولت ضرور تمہیں اپنا نائب مقرر کرتا! ‘ ‘ میرے دوست نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ اچانک گاڑ ی میں سے کچھ آوازیں آنی شروع ہو گئیں  اور پھر یکدم انجن بند ہو گیا ، اے سی  میں سے بھی  یکایک گرم ہوا آنی شروع ہو گئی، چند منٹ کے اندر اندر ہم دونوں پسینے میں شرابور ہو گئے، ہم نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا تو گرم ہوا نےہمارے چہرے کو جھسلا کر رکھ دیا، ہم نے فورا شیشے اوپر کر لئے ۔آن ہی آن میں  میرے دوست کی حالت غیر ہو چکی تھی،  مجھے یوں لگا جیسے وہ بیہوش ہو جائے گا،  اُس نے پچھلی سیٹ سے پانی کی بوتل اٹھا کر منہ کو لگا لی،بمشکل ایک گھونٹ پانی تھا اور وہ بھی گرم، اس نے جھلا کر بوتل باہر پھینک دی ۔ اپنی کوٹ اور ٹائی وہ پہلے ہی اتار چکا تھا،اب قمیض کے بٹن بھی کھول دئیے، اس کے جسم پر پسینہ یوں بہہ رہا تھا جیسے وہ کہیں ڈبکی لگا کر آیا ہو، اُس نے گاڑی سے باہر نظر ڈالی، بے شمار لوگ نہر میں نہا رہے تھے، ان میں بچے بھی تھے، بوڑھے بھی اور جوان بھی ۔ ہم نے گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر شاید بیٹری میں جان نہیں تھی، ہم نے سوچا کسی طرح گاڑی کو دھکا لگا کر سٹارٹ کیا جائے، مگر جہاز جیسی گاڑ ی کو ایک انچ بھی دھکیلنا ممکن نہیں تھا ۔ ہماری مشکل دیکھ کر کچھ لوگ جو نہر میں نہا رہے تھے نکل کر اکٹھے ہو گئے، ان میں سے ایک نے کہا ’’باؤ جی آپ بیٹھیں، ہم دھکا لگاتے ہیں! ‘ ‘ اس کا چہرہ سیاہی مائل تھا اور آنکھیں اندر کو دھنسیں ہوئی تھیں، باقی لوگ بھی اس کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور ہمار ی گاڑی کو دھکا لگانا شروع کیا، دھکا لگانے کی دیر تھی کہ  انجن میں زندگی دوڑ گئی، گاڑی کا اے سی آن ہو گیا اور ہم جنت میں واپس آ گئے ۔’’غریب، مائی فُٹ! ‘ ‘ میرے منہ سے نکلا ۔ ’’کیا کہا تم نے ؟ ‘ ‘ میرے دوست نے چونک کر پوچھا ۔ ’’کچھ نہیں ! ‘ ‘ میں نے جواب دیا، گاڑی میں خاموشی چھا گئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 150 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “غریب، مائی فُٹ!

  • 19-06-2016 at 10:16 pm
    Permalink

    Qasmi sb ki jhalak

Comments are closed.