دہشت گردی، خوف اور ہمارے قومی اندازے


\"mujahidضرب عضب کے دوران ریاست کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں آئی ایس پی آر حوصلہ افزا تفصیلات جاری کرچکی ہے جس کے مطابق ساڑھے تین ہزار دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں اور اُن سے بھاری مقدار میں اسلحہ سیکورٹی اداروں کے ہاتھ لگا ہے۔ اس دوران سیکورٹی اداروں کے چار سو نوے اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تقریبا ساڑھے چار ہزار مربع کلومیٹر علاقہ دہشت گردوں سے خالی کروایا گیا۔ ایسی تمام معلومات کا ماخذ آئی ایس پی آر ہے اوراِن اعدادوشمار کی غیر جانبدار تصدیق کے لیے بشمول ملکی میڈیا دوسرے ذرائع موجود نہیں۔ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضرب عضب آپریشن اتنی ساری کامیابیوں کے بعد اب پہلے والی شدت سے جاری نہیں رہے گا کیونکہ افغانستان کے ساتھ موجودہ کشیدگی اور پاک امریکہ دگرگوں تعلقات کے علاوہ بھارت کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی دل چسپی ہمارے اگلے قومی اہداف رہیں گے۔ ضرب عضب کی اگلی ترمیم شدہ منزل پاک افغان سرحد پر نگرانی کا عمل موثر بنانا ہے جو یقینی طور دونوں ممالک میں شدت پسندوں کی دراندازی کا سدباب کرے گی۔ واضح رہے کہ پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ صورت گری میں اس الزام کا بہت عمل دخل ہے کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں حملہ آور داخل ہوتے ہیں، پھر یہ الزام آگے بڑھتے ہوئے حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کے مبینہ تعلقات کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جس کے بعد بدقسمتی سے ریاست پاکستان کا تعارف ”افغانستان میں بدامنی کو فروغ دینے والی ریاست “ میں ڈھل جاتا ہے۔ پاکستان اِن الزامات کو رد کرتا رہتا ہے جب کہ دنیا بعض اوقات اچھے خاصے وزنی دلائل اور ثبوت الزامات کی فائل کے ساتھ لف کر دیتی ہے۔ جذباتی لوگ افغان باقی کوہسار باقی جیسے کتابی نعروں میں پھنسے رہتے ہیں، ہمارا ازلی دشمن بھارت تباہ حال افغانستان میں ڈیم اور سڑکیں بناتا رہتا ہے اور ہماری سیکورٹی فورسز سرحد پر ایک دروازہ بنانے کی کوشش میں افغان سیکورٹی فورسز سے گتھم گتھا ہوجاتی ہیں۔ پھر پاکستان کی جنگ سوشل میڈیا کے میدان میں شروع ہوجاتی ہے۔ اس ساری کہانی میں ہماری وزرات خارجہ اُس وقت نظر آتی ہے جب طورخم سرحد پر خونی جھڑپ کے بعد اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا جاتا ہے، بعد میں کیا ہوا کوئی نہیں جانتا اور یقینی طور پر وزارت خارجہ بھی نہیں جانتی لیکن سنا ہے کہ انجان وزارت خارجہ اب پاکستان کی عالمی تنہائی کو تن تنہا دور کرے گی۔

بات شروع ہوئی تھی ضرب عضب سے، اگر پچھلے دوسال سے آئی ایس پی آر کی جاری کردہ خبریں اور ٹویٹس کا جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ضرب عضب نے توقعات سے کہیں بڑھ کر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہزاروں کارروائیاں صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں جب کہ سینکڑوں کارروائیاں سب سے بڑے صوبے پنجاب اور درجنوں سندھ اور بلوچستان میں ضرب عضب کے تحت کی گئی ہیں۔ یقینی طور پر اِن کارروائیوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک بھی توڑے گئے ہیں، ہزاروں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں اور مقدمات خصوصی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ بہت سے سہولت کار بھی پکڑے گئے ہیں اگر نہیں پکڑے گئے تو وہ ناہنجار ابھی تک نہیں پکڑے گئے جو روزانہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں، این جی اوز، اہم شخصیات، ذرائع ابلاغ اور حساس اداروں کو دہشت گرد حملوں کی دھمکیاں ارسال کرتے ہیں جب کہ یہ دعویٰ بھی کیا جا چکا ہے کہ اب دہشت گردوں کا خوف عملی طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کیا ہماری وزارت داخلہ یہ اعلان جاری کر سکتی ہے کہ دہشت گردوں کا خوف ختم ہوچکا ہے؟ اور اگر کرسکتی ہے تو پھر ہمیں خوف کی تعریف نئے سرے سے مرتب کرنا ہوگی۔

ضرب عضب کی لاتعداد کارروائیوں اور اُن سے حاصل ہونے والے فوائد سے کوئی بھی پاکستانی اختلاف نہیں کرسکتا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی تناور درخت کے کڑوے کسیلے پھل کو نشانہ لے کر گرا دینا کافی ہوتا ہے یا اُس درخت کی شاخوں اور خاص طور پر زیر زمین تیزی سے پھیلتی ہوئی جڑوں کا فوری سدباب ضروری ہے؟ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ محض چند کڑوے کسیلے اور غاروں میں پناہ گزین گروہوں کے خاتمے کا نا م نہیں بلکہ اُس وسیع و عریض جھاڑ جھنکار کو کھدیڑ دینا اصل خاتمہ ہو گا، جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ آج کی دنیا میں انتہا پسند محض وہ شخص نہیں جو بندوق بردار ہے اصل انتہا پسند وہ گروہ ہیں جن کے دماغ مسلح ہیں اور جو ہر سال لاکھوں اذہان کو انتہا پسند نظریات اور فرقہ وارانہ تشدد کا بارود فراہم کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہر طرف یہ بارود کے کارخانے کھلے نظر آتے ہیں جو دن رات پیداوار میں مصروف ہیں، نہ اِن کی اندرونی و بیرونی امداد کم ہوتی ہے نہ ہی پیداوار پر کوئی روک لگائی جا سکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار اور بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے دانش ور اِن بارود فیکٹریوں کی پیداوار سے لاعلم ہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ حکومت اور کئی سابقہ حکومتیں ملک میں شائع ہونے والے انتہا پسند اور فرقہ پرست جرائد و رسائل پر بظاہر پابندیاں عائد کر چکی ہیں اور اگر کسی سرکاری ملازم یا ہمارے عظیم الشان اور بسیار گو وفاقی وزیر داخلہ سے ہی پوچھ لیا جائے کہ اس وقت ملک میں کتنے ایسے رسائل و جرائد پوری آب و تاب سے شائع ہورہے ہیں جو نہ صرف ہماری افواج کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں بلکہ ملک میں بسی اقلیتوں اور دیگر مسالک کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ پہلے تو وہ بالکل تسلیم نہیں کریں گے اور اگر ثبوت فراہم کیے گئے تو جیسے انہوں نے قومی شناختی کارڈ کی نئے سرے سے تصدیق کا حکم جاری کردیا تھا ویسا ہی ایک حکم اِن انتہا پسند اور فرقہ پرست جرائد و رسائل کی تصدیق کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں اس وقت 70 ایسے ماہانہ، پندرہ روزہ اور ہفتہ وار رسائل و جرائد شائع ہورہے ہیں جو نہ ملکی قانون کو مانتے ہیں، نہ بین الاقوامی دنیا کو خاطر میں لاتے ہیں، نہ ملکی اقلیتیں اِن کی نظر میں کسی رحم کی سزاوار ہیں، نہ دوسرے مسالک کے لیے کوئی نرم گوشہ ہے اور نہ ہی یہ ضرب عضب نامی کسی قومی آپریشن کو مانتے ہیں۔ اِن کے ہیرو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ساٹھ ہزار پاکستانیوں کا خون بہایا ہے، ہزاروں فوجیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا ہے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو آسانی کے ساتھ نظر انداز کردیا جائے تو یہ الگ بات ہے لیکن اس کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ فوری طور پر سب ٹھیک کرلیا گیا ہے اور اب ہر طرف امن ہی امن ہو گا، پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو ایک کھلا دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ سیاسی بیان بازی اور وقتی اقدامات اس مسئلے کا حل نہیں۔ ہمارے انسداد دہشت گردی کے ادارے اس ضمن میں خصوصی توجہ کے حامل ہیں۔ مثال کے طور پر اربوں روپے سے تیار کیا جانے والا انسداد دہشت گردی کاادارہ نیکٹا سوائے دہشت گردوں کی جاری کردہ دھمکیوں کے مطالعے سے آگے کچھ نہیں کرسکتا۔ نیکٹا کی کسمپرسی کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس ادارے کے پاس کوئی لائبریری نہیں جہاں ملکی دہشت گرد اور فرقہ پرست گروہوں کی مطبوعات موجود ہوں تاکہ اِن کے اعزائم اور روابط کا اندازہ لگایا جاسکے۔ دہشت گرد گروہوں کے طریقہ کار، ذہنی رحجانات، روابط، سرمایہ اکٹھا کرنے کے طریقوں اور مراکز کے بارے میں تحقیق کے لیے نیکٹا میں ائر کنڈیشنڈ کمروں، نفیس فرنیچر، جدید گاڑیوں اور بھاری تنخواہوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ یقینی طور پر اِس مال و اسباب کی موجودگی میں آسانی کے ساتھ یہی کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور اب دہشت گردوں کا خوف بھی ختم ہوچکا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی و فرقہ پرستی کے حقیقی سدباب کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو مشاورت اور معروضی تحقیق کو حتمی شکل دے کر ملکی سیکورٹی فورسز کی معاونت کرے تاکہ ملک میں بدامنی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔ اس کے لیے رائے عامہ ہموار کی جائے تاکہ ریاستی معاملات محض سازشی نظریات سے آلودہ نہ ہوں تب کہیں جا کر یہ کہنا واقعی آسان ہوگا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور دہشت گردی کا خوف بھی کم ہو گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔