شیخ جی کی افطار اور عید کا انتظار


\"ajmalعوامی مسلم لیگ کا نام تو آپ نے سن رکھا ہوگا، جی ہاں! اپنے لال حویلی والے شیخ صاحب کی پارٹی۔ ان کے ایک صدر بھی ہوا کرتے ہیں، ابھی دو روز پہلے ہی جب ان سے اچانک ملاقات ہوئی تو اپنی جہالت اور کم علمی پر حسب معمول شدید صدمہ پہنچا۔  میاں قدیر احمد عوامی مسلم لیگ کے صدر اور شیخ صاحب کی طرح دبنگ مقرر بھی ہیں۔ اس بات کا اندازہ ہمیں عوامی مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے صحافیوں کے اعزاز میں دئیے گئے ایک افطار ڈنر میں میاں صاحب کو سٹیج پر گرجتے دیکھ کر ہوا۔ صدر عوامی مسلم لیگ کی اٹھان دیکھ کر خوشی ہوئی۔ شاید شیخ صاحب \’ون مین\’ پارٹی کا تاثر زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وجہ جو بھی ہو پارٹی عہدیداران کا فعال ہونا یقیناََ جمہوریت کے لئے تقویت کا باعث اور حکمران جماعت کے لئے ایک سبق ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے سے ایک روز قبل شیخ صاحب کی سیاستدانوں اور صحافیوں سے ملاقات بظاہر معنی خیز تو نہ تھی لیکن ان کا اصل مقصد آنے والے دنوں کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے، موصوف دلجمعی سے شیخ السلام اور کپتان کے درمیان \’سیاسی کزنیت\’ کے احیا کا عزم کئے بیٹھے ہیں، جس میں فی الحال تک کی اطلاعات کے مطابق انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔

بہر حال پیپلز پارٹی کے جہانگیر بدر کو ایک طویل عرصے بعد عوامی اجتماع میں دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی، اطلاع تھی کہ شاید وہ علیل رہے ہیں، بظاہر قدرے کمزور دکھائی دئیے لیکن ان کا مختصر خطاب خاصا توانا تھا، بالخصوص شیخ رشید صاحب کی شخصیت بارے ان کے جملے سے ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ جہانگیر بدر صاحب کا فرمان تھا کہ کرکٹ کا کھلاڑی تو کوئی اور ہے لیکن چھکے چوکے شیخ رشید ہی لگاتے ہیں۔ چوہدری سرور تاخیر سے پہنچے مگر ان کی باری جلدی آگئی۔ کچھ عرصہ ہوا کہ تحریک انصاف میں ان کے تیزی سے اٹھتے قد کاٹھ کا کسی سنگدل نے \’بھٹا\’ بٹھا دیا ہے۔ گورنر تھے، پھر بڑے مان سے تحریک انصاف کے ہو گئے، اور اب گویا \’شعلہ ہوں جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو\’ کی سی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ اور بقول شخصے اب تو بااعتماد اساتذہ سے مشورہ کرتے بھی پائے گئے کہ حضور، \’ہُن کی کراں؟\”

مختصر خطاب میں انہوں نے البتہ شیخ رشید صاحب کی شخصیت اور ان کی فی زمانہ پیشن گوئی کے ہنر پر مہر تصدیق ثبت کی۔ چوہدری صاحب کے بقول دیگر سیاستدانوں کی نسبت شیخ صاحب کا شمار ان چند لیڈروں میں ہوتا ہے جن کی گردن میں \’سریا\’ سرے سے نہیں ہے۔ شرکا محفل تب حیران ہو گئے جب انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ شیخ رشید ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بیس سال پہلے لندن میں ہوئی ایک ملاقات میں پیشن گوئی کی تھی کہ چوہدری سرور کی سیاست کا ٹھکانہ پاکستان میں ہی ہے۔ یعنی شیخ صاحب کی نظر نے \’گوہر نایاب\’ کو دہائیوں پہلے ہی پہچان لیا۔ گویا شیخ رشید صاحبِ بصیرت بھی ہیں۔ کپتان اگر ذاتی معاملات میں بھی شیخ صاحب سے صلاح مشورہ کر لیتے تو شاید۔۔۔ خیر چھوڑئیے۔۔! یہ کہانی پھر سہی۔ ہاں یاد آیا شیخ صاحب کی دعوت افطار میں شیخ السلام حضرت پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی کمی شدت سے محسوس ہوئی، استفسار پر معلوم ہوا کہ وہ مصروف ہیں لہٰذا ان کی جگہ ان کے فرزند ارجمند صاحبزاہ ڈاکٹر حسن محی الدین صاحب جلوہ افروز ہوئے، جنہوں نے قبلہ سے کچھ اور سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو البتہ مختصر خطاب کو طوالت دینے جیسی \’عمومی\’ مہارت ضرور سیکھ لی ہے، یہی وجہ ہے کہ سٹیج سیکرٹری کی بار بار تاکید کہ افطار کا وقت قریب ہے مقررین خطاب مختصر رکھیں کو قبلہ جونئیر نے ہوا میں اڑا دیا۔ فرمایا کہ شیخ رشید ہی جمہوریت کا اصل چہرہ ہیں، اور پاکستان کو بچانے کی جو جنگ طاہر القادری صاحب لڑ رہے ہیں شیخ صاحب اس کی فکری عکاسی کرتے ہیں۔ شرکا کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ مرشدی کے بعد بشمول شیخ صاحب تین مقرر ابھی باقی ہے اور افطار میں فقط دس منٹ رہ گئے ہیں، نبھا کیسے ہو پائے گا؟ کہ اچانک بیزار اور پیاسے چہروں کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر حسن محی الدین نے وما علینہ پر اکتفا کر لیا۔

ویسے تو ایسی تقاریب پر کالم جمانا ہماری عادت کا حصہ نہیں ، لیکن کیا کیجئے کہ رہا نہیں گیا، شیخ صاحب سے آپ لاکھ اختلاف کر لیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی وجہ سے ٹاک شوز میں خاصی رونق لگی رہتی ہے۔ ایک ٹاک شو اینکر کے لئے وہ کس قدر اہمیت کے حامل ہیں؟ یہ سوال آپ اس خاکسار سے پوچھئیے کہ ہمیں بھی مختلف ٹاک شوز کے لئے شیخ صاحب کے کوئی درجن بھر انٹرویوز کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ لیکن ڈاکٹر دانش صاحب کا ریکارڈ توڑنا شاید کسی اور اینکر کے بس کی بات نہیں۔ بائی دا وے ! غور کرنے پر معلوم ہوا کہ سٹیج پر ہلکی گلابی ٹی شرٹ میں ملبوس دہکتے جامنی رنگ کا چہرہ ڈاکٹر دانش صاحب کا ہی ہے، شرکا محفل کی آخری صف پر نظریں جمائے ڈاکٹر صاحب مسلسل موبائل فون پر مصروف دکھائی دئیے۔ نامور ٹاک شو میزبان کو خطاب کی دعوت نہ ملنا ہمارے لئے بھی اچنبھے کا باعث تھا۔ غالب امکان ہے کہ اس کی وجہ وقت کی قلت تھی جس کی تمام تر ذمہ داری قبلہ قادری کے فرزند ارجمند پر عائد ہوتی ہے۔ اور یوں ہم سب اہل صحافت حکمت و دانش کے پھول چننے سے محروم رہ گئے۔ حتٰی کہ ان سے سلام دعا بھی نہ ہو سکی۔ خیال تھا کہ کھانے پر شاید عوام میں گھل مل گئے ہوں گے، لیکن وہ دکھائی نہ دئیے، شاید جا چکے تھے۔

قصہ مختصر یہ کہ شیخ صاحب نے آتے ہی میلہ لوٹ لیا، چوہدری سرور کی سیاست کا مستقبل بیس سال پہلے پاکستان میں دیکھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اب بھارت جانا ہو تو دور دور سے مقامی نجومی ملنے کو آتے ہیں، پوچھوں کہ کیسے آنا ہوا تو کہتے ہیں پیر پگاڑا کے بعد پاکستان میں آپ ہی ہیں جن کی سیاسی پیشن گوئیوں کا چرچا ہے، لہذا فیض یاب ہونے کو حاضر ہوئے ہیں۔ فرمایا پاکستانی سیاسی منظر نامے کا فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا ہے۔ چھبیس جون سے پانچ جولائی کی تاریخوں میں سے کوئی ایک دن کسی نئے سورج کیساتھ طلوع ہوگا۔ وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے اور حکمرانوں کا انجام خوفناک دیکھ رہا ہوں۔ ایک نام تحقیقات سے نکلوانے کی ضد سے ہٹ جائیں تو جمہوریت بھی بچ سکتی ہے اور اسمبلی بھی ورنہ یہ سب ایک \’راونڈ \’ میں سمیٹ لیے جائیں گے۔ شیخ صاحب کا ماننا تھا کہ جب بھی موجودہ حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوتی ہے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ (مغرب میں طورخم کراسنگ پر کشیدگی پائی جا رہی ہے لیکن بھارتی سرحد پر ایسی کونسی کشیدگی ہے جس کا ذکر شیخ صاحب فرما رہے تھے؟ آپ کے علم میں ہو تو خاکسار کو بھی مطلع کیجئے گا)۔ عموماََ شیخ صاحب مجلس لوٹنے کے لئے جملے بازی کرتے ہیں لیکن اس روز محسوس ہوا کہ ان کی باڈی لینگوئج کسی خاص وجہ سے خاصی پر اعتماد ہے۔ نظام اور حکومت سمیٹے جانے کے بعد کی صورتحال بھی شیخ صاحب نے بیان کر دی اور ماڈل ٹاون کے شہدا کو حکمران خاندان کے خلاف اہم چارج شیٹ قرار دیا، یہی نہیں بلکہ ان کی اطلاعات کے مطابق حکمران خاندان کے اندر سے بھی کچھ لوگ وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار ہوں گے۔ عید سے پہلے بگڑتی سیاسی صورتحال کا حل نکلنے کی نوید سناتے ہوئے شیخ صاحب نے کہا کہ بصورت دیگر عید کے بعد کپتان کے ساتھ پیپلز پارٹی بھی سڑکوں پر نکل سکتی ہے۔ شیخ صاحب کا اصرار تھا کہ وزیر اعظم جلا وطن ہو چکے ہیں، انٹرنیٹ پر حکومت چلانا جمہوریت کی توہین ہے۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ کیا بیس کروڑ کے ملک میں ایک بھی شخص نواز شریف کا متبادل نہیں؟  سوال مدلل ہے اور بات میں وزن ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ باپ کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے اولاد پر عائد الزامات کی انکوائری شفاف ہو سکے؟ اور اگر نہیں تو متبادل ڈھونڈنے میں کس بات کا ڈر ہے؟ اپنے وفا داروں پر اتنا بھی اعتماد نہیں؟ تعجب ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 29 posts and counting.See all posts by ajmal-jami

One thought on “شیخ جی کی افطار اور عید کا انتظار

Comments are closed.