عمران خان، سی پیک کاریڈور اور بھارتی سازش


\"DSC_5060wm\"

ہمیں تواتر سے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے خلاف بد باطن نریندر مودی، احسان فراموش افغانستان، گوادر دشمن ایران و دیگر برادر اسلامی ممالک اور امریکہ مل کر سازشیں کر رہے ہیں اور صورت حال نہایت گمبھیر ہے۔ ایسے میں ہمارا دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ خود سے جا کر اس کاریڈور کا جائزہ لیں مگر ایک بڑا تجزیہ کار بغیر دعوت کے کسی جگہ جانے سے احتراز کرتا ہے۔ آخر کار ہمیں ہوم منسٹری کی طرف سے دعوت موصول ہوئی کہ ہنزہ اور خنجراب کا دورہ کر لیا جائے کیونکہ بچوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں اور اس سے مناسب کوئی دوسرا موقع نہیں ملے گا۔

ہم نے دعوت قبول کر لی اور کاریڈور کے جائزے کے لیے نکل گئے۔ اسلام آباد سے لے کر درہ خنجراب تک صورت حال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا اور شاہراہ قراقرم کو اچھی طرح کھنگالا گیا۔ دوستو، واقعی کئی سازشیں تو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہیں، خدا جانے اصل میں کتنی ہوں گی جن سے دوسرے باخبر حلقے آگاہ ہیں۔

\"DSC_4007-cr2\"

ہمارا سب سے پہلا مشاہدہ تو یہ تھا کہ ہم نے ہنزہ میں جس جگہ رہائش اختیار کی، وہیں ایک بے تحاشا بڑا مچھر نظر آیا۔ اب کوئی عام شخص ہوتا تو یہی سمجھتا کہ پہاڑی کوے کی طرح پہاڑی مچھر بھی بے تحاشا جسیم ہوتے ہیں اور یہ پہاڑی مچھر انگلی سے زیادہ لمبے چوڑے ہوتے ہیں، مگر قوم کی خوش قسمتی سے اس عاجز نے جدید ترین ڈرونوں کے بارے میں پڑھ رکھا ہے جو کہ چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑوں کے برابر ہوتے ہیں اور حساس کیمروں اور مائکروفون کی مدد سے جاسوسی کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بھارتی لابی ہمارے اس دورے کے بارے میں متفکر ہو چکی تھی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اطلاعات اکٹھی کر رہی تھی۔ ہم نے اس ڈرون کو بے خبری میں جا لیا اور اس کی شناختی تصویر بنا کر اسے برخوردار خان کے حوالے کر دیا تاکہ وہ مزید تفتیش کر سکے اور ہمیں حقائق سے آگاہ کرے۔ تفتیش میں اہم انکشافات ہوئے۔ اگر اس بھارتی ڈرون پر چائے کی پیالی رکھ دی جائے تو اس کی بیٹری ختم ہو جاتی ہے اور یہ بے جان ہو کر ناکارہ ہو جاتا ہے۔

\"DSC_5514\"

خیر ڈرون سے نمٹ کر ہم خنجراب کی طرف چلے۔ وہاں چیک پوسٹ پر ہنزہ کے آلتت گاؤں کے محمد اور گلگت کے عبدالباسط چوکس تھے۔ وہ اس شدید سردی میں کسی آدم زاد کو وہاں دیکھ کر حیران اور خوش ہوئے۔ بتانے لگے کہ صبح ہی شدید برفباری ہو چکی ہے لیکن ہمیں سڑک پر برف نظر نہیں آئی، ہاں ارد گرد پہاڑوں میدانوں میں برف کی دبیر چادر موجود تھی۔ اس کی وجہ غالباً سڑکیں صاف کرنے کا اچھا انتظام تھا۔ علاقے میں آس پاس ہی پاک چین دوستی کی علامت یاک پھر رہے تھے۔ یاک کو آپ گائیوں کی بھیڑ سمجھ لیں۔ اس گائے کے لمبے لمبے بال ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ واٹر پروف بھی ہو جاتی ہے اور سردی سے بھی بچ جاتی ہے۔ یہ گائے اونچے نیچے پہاڑوں پر چل پھر سکتی ہے۔ دودھ ، اون اور باربرداری کے لیے اسے پالا جاتا ہے۔ اس جانور میں ہمیں حب الوطنی کی واضح جھلک نظر آئی کہ اس شدید ٹھنڈے موسم میں بھی یہ ملک و قوم کی خاطر ایسے پہاڑوں میں رہتا ہے۔

\"DSC_4895\"

خنجراب سے واپس ہوئے تو اچانک دیکھا کہ سڑک پر بہت سی بکریاں بھاگ رہی ہیں اور پہاڑ سے گرتے پتھروں کی وجہ سے راستہ مسدود ہوتا جا رہا ہے۔ کوئی عام شخص ہوتا تو وہ اسے ایک عام سا واقعہ جان کر آگے بڑھ جاتا۔ مگر صاحب، ہم تو چیل کی سی نظر رکھتے ہیں، فوراً تاڑ لیا کہ یہ کاریڈور کو بند کرنے کی سازش ہے۔ بکریاں اس طرح سڑک پر اور اس کے گرد کے پتھریلے پہاڑوں پر بھاگتی ہیں تاکہ لینڈ سلائیڈنگ ہو اور سی پیک کاریڈور بند ہو جائے۔ کاریڈور بند ہونے کے مضمرات سے ہم خوب آگاہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بکریاں اس اجاڑ ویرانے میں قدرتی طور پر تو نہیں پائی جاتی ہوں گی۔ اتنی ٹھنڈ میں بھلا کون جاندار بغیر کسی لالچ کے رہ سکتا ہے۔ ہم سمجھ گئے کہ یہ بھارتی ایجنٹ ہیں جنہیں لداخ \"DSC_5214sm\"کی جانب سے کاریڈور کو ناکام بنانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

مکار بھارتی بنیے کی سازش پکڑنا آسان نہیں ہے مگر شکر ہے کہ ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو کوئی بھی سازش پکڑنے میں منٹ بھی نہیں لگاتی ہے اور واضح طور پر بتا دیتی ہے کہ اس مرتبہ اس کی ناکامی کی وجہ کون سی بیرونی سازش ہے۔

ہم وہاں سے گزر رہے تھے تو ایک بکرے نے بلاوجہ رک کر ہمیں نہایت غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ اس سے ہمارا یقین پختہ ہو گیا کہ یہ بھارتی ایجنٹ ہے اور یہاں نقل و حمل کی نگرانی کرنے اور کاریڈور کو سبوتاژ کرنے کے لیے مامور کیا گیا ہے۔

\"DSC_1687\"

راستے میں چند چینی انجینئیر بھی ملے جو کہ بہت بڑی کھائی میں پل بنا کر اسے پاٹنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ کاریڈور کا راستہ آسان تر ہو جائے۔ دیکھ کر سر خوشی سے پھول گیا کہ بھارتی ایجنٹو٘ں کی سازشیں ایک طرف، مگر چینی دوست کاریڈور بند نہیں ہونے دیں گے۔

ہم نے چینیوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور انہیں ’نی ہاؤ‘ کہا جس کا چینی زبان میں مطلب ہوتا ہے ہیلو۔ وہ ہماری چینی زبان میں مہارت دیکھ کر دنگ رہ گئے اور کچھ دیر ہونق بنے ہمیں دیکھتے رہے۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا ’بھائی صاحب، آپ نے کیا کہا ہے؟ سمجھ نہیں آیا‘۔ اب ہم سمجھ چکے تھے کہ یہ پاکستانی انجینئیر ہیں جو بھارتی دشمنوں کو دھوکہ دینے کے لیے چینیوں جیسی شکل بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ہم نے پر اعتماد انداز میں انہیں جواب دیا ’آپ کی نو ہاؤ (علم و فضل) کی تعریف کر رہا ہوں کہ پل بنانے میں آپ کی مہارت قابل رشک ہے‘۔

\"DSC_6702\"

دل مطمئین ہو گیا تھا کہ چینی اور پاکستانی تعاون سے ہم دشمنان اسلام کی ہر سازش کو ناکام بنا کر کاریڈور بنا لیں گے۔ سڑک پر \’سی پیک پولیس\’ کی ڈبل کیبن گاڑیاں بھِی کافی تعداد میں نظر آئیں۔ یہ چھبیس گاڑیاں ہیں اور ہر گاڑی بیس کلومیٹر کی سڑک کی ذمہ دار ہے۔ کہیں کوئی بھارتی بکری سڑک بند کرے یا حادثہ ہو جائے یا گاڑی خراب ہو جائے، تو یہ فوراً مدد کو پہنچتے ہیں۔ موٹر وے پولیس کی طرح کا سا بہترین انتظام ہے لیکن یہ اس سے بہتر اس لیے ہیں کہ اس میں ہنزہ اور گلگت کے باشندے بھرتی کیے گئے ہیں جن سے زیادہ خوش اخلاق اور مہذب انسان ہمیں کئی ملک گھوم کر بھی کہیں نظر نہیں آیا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ بھی پاکستان ہے۔

بہرحال ہم کافی مطمئین ہو چکے تھے کہ ہم نے بھارتی ایجنٹوں کی نشاندہی کر لی ہے اور ان کے توڑ کے لیے پاکستان کی جانب سے بھی کام ہو رہا ہے۔ مگر صاحب یہ تو ہماری ناسمجھی اور جلد بازی تھی، اصل سازش کا تو ہمیں اس وقت اندازہ ہوا جب ہم گلگت میں ایک گاڑی خریدنے گئے۔

ہم نے دکان والے سے کہا کہ گاڑیاں دکھاؤ۔ اس نے کئی گاڑیاں دکھائیں مگر ایک چمکیلی سی پیلی گاڑی پر ہماری نظریں جم کر رہ گئیں۔ بخدا ہمیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ مکار بھارتی بنیا اس قدر گہری سازش کر رہا ہو گا۔ سچ ہی کہا ہے بزرگوں نے کہ بنیا کئی سال آگے کا سوچ کر وار کرتا ہے۔ بظاہر بے ضرر دکھنے والی اس گاڑی کے بونٹ پر ایک لفظ کندہ تھا۔ \’چینج\’، یعنی تبدیلی۔

\"20160618_111040b\"

آپ سب جانتے ہی ہیں کہ چینی باشندے انگریزی زبان سے نابلد ہیں۔ ان کو اے بی سی تک نہیں آتی ہے۔ پھر چینج جیسا لفظ اس کھلونے پر لکھنے کا کیا مطلب تھا؟ صاف ظاہر تھا کہ ہمارے اگلے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کو ڈس کریڈٹ کرنے کے لیے ان کے تبدیلی کے نعرے کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ جیسے پہلے بھارتی سازش کی وجہ سے دھاندلی اور کرپشن کے نعرے پچھلے چار پانچ سال سے متواتر سن سن کر قوم نے ان کو اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے، اسی طرح اب بھارتی سازش کر رہے ہیں کہ چینج کے لفظ کو بھی ویسے ہی ردی کر دیا جائے۔ نوجوانوں میں عمران خان کی سپورٹ زیادہ ہے اس لیے بچوں کی گاڑیوں پر یہ لفظ لکھ کر خان صاحب کے بچکانہ ووٹ بینک کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ جب ایک بچہ اس ناپائیدار چینی گاڑی سے کھیلے گا تو اسے چینج سمجھے گا، اور جب یہ چینج دوسرے ہی دن کام کرنا بند کر دے گی تو اس بچے کی طبیعت اس سے اچاٹ ہو جائے گا بلکہ وہ تبدیلی کے لفظ سے اس حد تک الرجک ہو جائے گا کہ اس سے نفرت کرنے لگے گا۔

صاف ظاہر ہے کہ ایسے کھلونے کسی را کے ایجنٹ بھارتی تاجر کے آرڈر پر چین میں بنائے جا رہے ہیں اور انگریزی سے نابلد چینی فیکٹری والے معصومیت میں یہ کھلونے دھڑا دھڑ بنا کر پاکستان میں بھیج رہے ہیں تاکہ عمران خان صاحب کا تبدیلی کا نعرہ اپنا اثر کھو دے اور وہ پاکستان کے اگلے وزیراعظم نہ بن پائیں۔ اصل سازش کاریڈور کے خلاف نہیں ہے، بلکہ عمران خان صاحب کے خلاف ہے کیونکہ کاریڈور سے نہیں، بلکہ صرف عمران خان صاحب کے وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستان معاشی طور پر خوشحال ہو سکتا ہے۔

سب محب وطن انصافی دوستوں سے درخواست ہے کہ اس گمبھیر سازش کا نوٹس لیں اور ایسی تبدیلی سے بچیں۔ بلکہ جہاں بھی ایسا کھلونا دیکھیں اس پر سپرے پینٹ کر کے عمران خان کے خلاف ہونے والی اس بھارتی سازش کو ناکام بنا دیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 695 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar