آزادکشمیر کی سیاست اور آمدہ انتخابات


\"akram’’امام انقلاب مولانا عبداللہ سندھیؒ نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جس قوم پر عذاب کا فیصلہ کرتا ہے اس کا سیاسی شعور سلب کر لیتا ہے‘‘

کسی بھی جمہوری ملک میں انتخابات قوم کے اجتماعی شعور کا مظہر ہوتے ہیں۔ منتخب نمائیندوں کی خصوصیات اور صلاحیتیوں سے پتہ چلتا ہے قوم کس قسم کے حکمران چاہتی ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 1985 سے باقاعدگی سے ہورہے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں موجود ہیں جو اپنے نامزد امیدواران کے ذریعہ انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ آزادکشمیر کی سیاسی پارٹیاں صرف کہنے کو سیاسی نظریات رکھتی ہیں، حقیقتاً مختلف سیاسی پارٹیاں آزاد کشمیر کے مختلف قبیلوں کی جمعیت کا اظہار ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کی سیاسی نظریات سے ناواقفیت ہے۔ وہ اپنا ووٹ بنک بڑھانے کے لئے الیکشن مہم میں قبیلائی تعصبات کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ ان ہی قبیلائی تعصبات کی بنیاد پر اکثریتی قبیلہ کے لوگ جس حلقہ میں ہوتے ہیں اسی قبیلہ کا فرد اس حلقہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہو جاتا ہے۔

آزاد کشمیر جو تقریباً 13ہزار مربع کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے یہاں کوئی جاگیر داری نظام یا جدید صنعتی غلامی کی کوئی شکل موجود نہیں ہے۔ لیکن یہاں قبیلائی تعصب دنیا میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ حالانکہ شرح خواندگی اور معاشی حالات خطے کے بہت سے ملکوں سے بہتر ہیں۔ 40 لاکھ آبادی رکھنے والے اس علاقے کے 10/12 لاکھ لوگ برطانیہ، یورپ، امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں روزگار کے لئے گئے ہوئے ہیں اور جن کی آمدن کی بدولت ہی آزاد کشمیر کے لوگوں کی اقتصادی صورتحال بہتر ہے، لیکن قبیلائی تعصباّت کو مذہب سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ برطانیہ اور یورپ کا علم و دانش بھی ان کے دلوں میں چُھپے برادریوں کے بُتوں کو توڑ نہ سکا ہے۔ اس کا مجموعی نقصان یہ ہو رہا ہے کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے ذہنوں میں وہ فکری بالیدگی اور شعور پیدا نہیں ہو رہا ہے جو روشن خیالی اور انسانیت کی بنیادیں فراہم کر کے ایک ایسی اجتماعی شکل اختیار کرے جو کسی بھی قوم کی ترقی اور روشن مستقبل کا ضامن ہو سکتا ہے۔ یہ تنگ نظری اور تعصب وبا کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ تعصب پھیلانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاستدان اقتدار میں آکر ملکی خزانے سے صرف اپنے پیٹ بھرتے ہیں۔ حکومتی ملازمتیں میرٹ کے بجائے وزراء کی سفارشوں پر اُن کے رشتہ داروں کو ہی دی جاتی ہیں۔ ان سیاستدانوں نے اپنے دور اقتدار میں تعمیر و ترقی کا کوئی اجتماعی منصوبہ پایہ تکمیل نہیں پہنچایا ہوتا ہے جس کو وہ اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنا سکیں۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ کرپشن کے ناسُور کی وجہ تعمیر وترقی کے منصوبہ جات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا اب ممکن ہی نہیں رہا ہے۔

آزادکشمیر کے انتخابی سیاسی معاملات دیکھیں تو آزاد جموں وکشمیر کونسل کے حالیہ الیکشن جس میں چار (04) سیٹیں رکھنے والی پارٹیوں نے 14 ووٹ حاصل کیے۔ اِن کے مخالفین نے الزام لگایا کہ ممبران اسمبلی جو دوسری سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے، نے کروڑوں روپے لے کر ووٹ بیچے ہیں۔ یہ صورت حال ماضی میں بھی پیدا ہوتی رہی ہے یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کونسل میں منتخب ہونے والے اکثر لوگ سیاست اور آزاد کشمیر کے مسائل سے واقفیت ہی نہیں رکھتے، وہ صرف پیسے کی بنیاد پر ممبر منتخب ہو جاتے ہیں۔ بدیں وجہ کونسل کے اجلاس میں آزاد کشمیر کے آئینی اور معاشی حقوق دینے کی بات کرتے انہیں کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔ یہاں آزاد جموں وکشمیر کونسل کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے مابین آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک ایسا فورم مہیا کرنا تھا جہاں فیڈرل سطح پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں آزاد کشمیر کی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت آزاد کشمیر اور پاکستان کے معاملات طے ہو سکیں۔ لیکن اس تصّور کو بری طرح پامال کر کے آزادجموں وکشمیر کونسل کی شکل میں ایک ایسا آئینی ادارہ تشکیل دے دیا گیا جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی نفی پر قائم ہے۔ اِس کے چیئرمین وزیر اعظم پاکستان اور 12ممبران میں سے 05 ممبران مرکزی وزراء سے لئے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ اپنی مثال آپ آئینی ادارہ ہے جس میں غیر منتخب اور غیر ریاستی لوگ کشمیر کے ریاستی ممبران کے طور پر شامل ہیں۔ اِس پر مستزاد یہ کہ اس قانون ساز ادارہ کو آزاد کشمیر سے متعلقہ 52 محکمے بھی دے دیئے گئے، جن سے متعلقہ نہ صرف قانون سازی کا اختیار اِسے حاصل ہے بلکہ ان محکموں پر انتظامی اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد سیکرٹریٹ کے علاقہ میں قائم ہے۔ آزاد جموں وکشمیر کونسل جس کے نام میں تو آزاد جموں وکشمیر موجود ہے لیکن اصل میں اِس ادارہ نے آزاد حکومت کی اندرونی حاکمیت کو بھی ختم کر دیا ہے۔ اِس آئینی قانون ساز ادارہ میں تقریباً نصف ممبران آزاد کشمیر کے شہری نہیں ہیں اور وہ تمام اُمور جن پر پاکستان کے صوبوں کو اختیارات حاصل ہیں، وہ آزاد کشمیر حکومت کو حاصل نہیں ہیں۔ ٹیکس کی وصولی اور اس کا استعمال ساری دنیا کے جمہوری ملکوں میں ان قانون ساز اداروں کو حاصل ہوتا ہے جو براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کرآتے ہیں۔ لیکن یہاں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو اِس حق سے محروم کر دیا گیا ہے اور ٹیکس وصول کرنے کا اختیار بھی اُس قانون ساز آئینی ادارہ کو دیا گیا ہے جس کو جدید جمہوری روایات کے مطابق براہ راست عوامی نمائندگی کی خصوصیت حاصل نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے قدرتی وسائل معدنیات، ہائیڈرل پوٹینشل وغیرہ بھی کشمیر کونسل کے متعلقہ اُمور قرار دینے سے آزاد کشمیر کو معاشی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا ہے۔ کشمیر کونسل نے ان قدرتی وسائل کو آزاد کشمیر کے عوامی مفاد میں استعمال کرنے کے بجائے فیڈرل حکومت کے اداروں کے ذریعہ ملکی مفاد پرست اور غیر ملکی ’ نئی ایسٹ انڈیا‘ کمپنیوں کے حوالہ کر دیا ہے۔

الیکشن کے ٹکٹوں کے تقسیم سے لے کر حکومت کی تشکیل اور پھر حکومتی روزمرہ کے کاموں میں فیصلے مظفرآباد کے بجائے ’مدر پارٹی‘ کے اسلام آباد، لاڑکانہ، رائے ونڈ یا بنی گالہ میں قائم دفاتر میں ہوتے ہیں۔ حکومت کی نگرانی کے لئے مدر پارٹی ‘بھتہ خور‘ مقرر کرتی ہے جو وزارت عظمیٰ اور وزراء کے تقرر کے علاوہ اہم عہدوں پر سرکاری ملازمین کی تعیناتیوں کے فیصلے بھی کرتے ہیں اور اس کے لئے معقول بھتہ لیا جاتا ہے۔ پھر یہ ’بھتہ خور‘ ترقیاتی کاموں کے فنڈز میں بھی ایک مقررہ رقم بطور بھتہ وصول کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر سیاسی لوگوں کے علاوہ اعلیٰ عہدوں پر تعینات سرکاری ملازمین کے لئے بھی رولز آف بزنس، قانون، قاعدہ میرٹ، انصاف غیرمتعلقہ چیز بن کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی حکومتی عہدیداروں کی تابعداری اور غیر قانونی خواہشات اور اُن کے’ مطالبات زر ‘ پورا کرنے کے لئے ٹھیکوں کے موبلائزیشن ایڈوانس، سرکاری زمین کی الاٹمنٹ پر کمیشن جیسے معاملات وغیرہ ہی قانون کی شکل اختیار کر چُکے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سڑکیں زبانِ حال سے اس ساری صورتحال کو بیان کر رہی ہیں۔ بعض ملازمین ٹشو پیپر کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید کئے گئے بچوّں کے جنازے اٹھاتے لوگوں کا تقابلی جائزہ آزاد کشمیر (جسے آزادی کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے) کے ساتھ کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ سرحد کے اُس پار غلام جسم رکھنے والے ذہنی طور پر آزاد ہیں اور اِدھر آزاد کہلانے والے ذہنی غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں ہو سکے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔