ایمپریس مارکیٹ


کتابوں کے علاوہ کچھ بھی اور خریدتے ہوئے مجھے وحشت ہوتی ہے لیکن کراچی کی ایمپریس مارکیٹ ایک ایسی جگہ ہے جہاں میں ہمیشہ شوق سے جاتا ہوں۔ ہر ہفتے ایک مرتبہ بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد میں صبح صبح ایمپریس مارکیٹ پہنچتا ہوں۔ اس وقت سبزیاں گاڑیوں سے اُتاری جا رہی ہوتی ہیں اور ان پر پانی ترونکا جا رہا ہوتا ہے۔ پچھلے چند ماہ سے چینی خواتین و حضرات بھی ایمپریس مارکیٹ میں دکھائی دینے لگے ہیں۔ اور تو اور ایمپریس مارکیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک بینر پر چینی زبان میں کچھ لکھا ہوا بھی نظر آ رہا تھا۔ موسم کی تازہ سبزیوں کو دیکھ کر مجھے ایک عجیب سی فرحت ہوتی ہے۔ چمکتے ہوئے گول بینگن، لوئی والی لوکی، پوری کھِلی ہوئی گوبھی اور کھڑے ہوئے بالوں والی بھنڈیاں دیکھ کر دل میں عجیب سی مُسرّت محسوس ہوتی ہے۔

ایمپریس مارکیٹ میں میری آنکھوں کے ساتھ ساتھ سانسوں کی ضیافت کا اور بھی اہتمام ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کے وسط میں پہنچ کر اگلی سیڑھیاں چڑھیں تو مصالحوں کی دو دکانیں ہیں۔ یہاں مصالحوں کی اتنی قسمیں فروخت ہوتی ہیں کہ شاید پاکستان بھر میں کسی ایک جگہ اتنی قسمیں فروخت نہ کی جاتی ہوں۔ میں ان دکانوں سے خریداری تو کم ہی کرتا ہوں مگر یہاں سے جب بھی گزرتا ہوں میری سانسیں خوش باش ہو جاتی ہیں۔ میں نے اس تجربے کو ’سانسوں کا معطّر ہونا‘ قرار نہیں دیا کیونکہ سانسوں کے لیے یہ ذائقہ عطر سے بہت الگ ہے۔

یہ ذائقہ جن بہت سی خوش بوؤں سے مل کر بنا ہے وہ کون کون سی ہیں؟ میں انھیں الگ الگ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پسا ہوا دھنیہ، دار چینی، الائچی، سونٹھ، میتھی دانہ، پسی ہوئی کالی مرچ سب کی الگ الگ خوش بوئیں ہیں مگر ان سب کی ملی ہوئی خوش بو نتھنوں میں تیز لگتی ہوئی دماغ تک پہنچتی ہے اور مجھے بہت بھلی لگتی ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو مصالحوں کی اس دکان کے پاس پسی ہوئی مرچیں میری آنکھوں میں لگتی تھیں۔ میں حیران ہوتا کہ مرچیں اُڑ نہیں رہیں تو آنکھوں میں کیسے لگ رہی ہیں۔ لیکن شاید سُرخ مرچ کے کچھ ذرّات ہوا میں معلّق رہ جاتے ہوں جو آنکھوں تک پہنچ جاتے ہوں۔ اب شاید میں اس دکان کے قریب آنکھیں میچ کر سانسوں پر توجّہ مرکوز کرنے لگا ہوں۔

لیکن یہ تازہ دھنیا ہے جس کی خوش بو مجھ پر نشہ سا طاری کر دیتی ہے۔ امی جب دھنیا کُترتی تھیں تو میں دور کہیں بیٹھا ہوا بھی ان کے پاس آ جایا کرتا اور دھنیے کی خوش بو اپنی سانسوں میں اتارنے لگتا۔

ایمپریس مارکیٹ کی تیس بتّیس سال کی یادوں میں امّی بھی میرے ہم راہ ہوتی ہیں۔ اکثر کسی ٹوٹی ہوئی ٹائل، کسی دیوار، کسی سیڑھی کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ میں نے یہ ٹائل، یہ دیوار اور یہ سیڑھی اپنی امّی کے ہم راہ بھی دیکھی تھی۔ اکثر بھول بھی جاتا ہوں اور سبزی خریدتے خریدتے یاد آتا ہے کہ امّی ہر چیز کے دام کم کرانے کی کوشش کرتی تھیں۔ مگر مجھے دیر ہو چکی ہوتی ہے اور یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ پچھلی مرتبہ گوبھی، مٹر، آلو یا پیاز کتنے کی خریدی تھی اس لیے ان کی قیمت بتا بھی دی جائے تو کم کرانے کی کوشش بے سود لگتی ہے۔ چھ جماعتیں پڑھی ہوئی امی کو زبانیں اور لہجے سیکھنے کا شوق تھا۔ ایمپریس مارکیٹ میں وہ ایک طرف سبزی والے سے کہتیں : ”اے بھیّا یہ لوکی کِتّے کی دی؟ “ اور جواب سن کر زیرِلب بڑبڑاتیں : ”ہائے ہائے انھاں کدوان تے اگ لگّی پئی اے“۔

ایسا نہیں کہ ایمپریس مارکیٹ کا ہر حصہ ہی مجھے پسند ہو۔ مثلاً یہاں مرغیوں والا حصہ مجھے پسند نہیں رہا مگر اہلیہ کی ہدایت پر اپنے سامنے مرغیوں کو ذبح کراتا ہوں اور بوٹیاں بنوا کر ساتھ لے جاتا ہوں۔ مجھے اپنی اس حرکت پر کبھی اطمینان نہیں ہو سکا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے بچپن میں اس حوالے سے ایسا نرم دل نہیں تھا۔ مصالحے کی جن دو دکانوں کا میں نے تذکرہ کیا ان کے سامنے ایک مذبح ہے جس میں بکرے اور بیل کھونٹے سے لٹکے ہوئے ہوتے۔

یہ مذبح مجھے بہت عجیب لگتا تھا اور میں اس کے قریب پہنچ کر امی کا برقع کھینچنے لگتا کہ امی ذرا اس کے اندر چل کر دیکھتے ہیں۔ ایک آدھ مرتبہ وہ اندر گئیں اور میں نے گوشت کے بڑے بڑے پارچے کٹتے ہوئے دیکھے۔ بعد میں میں نے ریمبراں کا ایک فن پارہ دیکھا جس میں اس نے ایک کٹے ہوئے جانور کو مصوّر کیا ہے تو میں نے سوچا کہ کٹے ہوئے جانور میں اسے بھی شاید ویسی ہی کشش محسوس ہوئی ہوگی۔ تاہم اب مجھے اس مذبح کا منظر وحشت ناک لگتا ہے اور میں اس کے اندر جانے سے گریز کرتا ہوں۔

میں جس ایمپریس مارکیٹ کا ذکر کر رہا ہوں یہ اصل ایمپریس مارکیٹ ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں اور بھی مارکیٹیں تھیں جو دو روز پہلے ڈھا دی گئی ہیں۔ دائیں جانب رینبو سینٹر کے سامنے پرندہ مارکیٹ، لنڈا بازار، ایک چائے خانہ اور سستے جوتوں کی بہت سی دکانیں تھیں۔ آج دیکھا کہ وہ ملیامیٹ کر دی گئی ہیں۔ بائیں جانب جہانگیر پارک کے سامنے مختلف اقسام کی چائے، حکیمی ادویات، خشک میوہ جات اور کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔ انھیں بھی ڈھا دیا گیا ہے۔ آج جب وہاں سے گزرا تو ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے ڈھیر سے درجنوں افراد کچھ کام کی چیزیں نکالنے میں مصروف تھے۔ ان میں دکانوں کے مالکان سے زیادہ تعداد پٹھان بچوں اور لڑکوں کی تھی جو اپنے بڑے بڑے تھیلے اٹھائے وہاں مصروف تھے۔

کتابوں والی مارکیٹ میں امّی سامنے کی جانب سے داخل ہوتی تھیں۔ وہاں ایک کلیجی والا بیٹھا کرتا تھا۔ تیز مرچوں میں بھونی جانے والی کلیجی اشتہا انگیز ہوتی اور مجھے اس کے ساتھ ایک پاک بی بی کی وہ کہانی بھی یاد آتی جو میرے گھر میں اکثر پڑھی جاتی تھی اور جس میں وہ پاک بی بی روز گھر میں کلیجی بھونا کرتی لیکن دروازے پر کسی سوالی کے آنے پر خود بھوکی رہ کر وہ کلیجی سوالی کو دے دیتی تھی۔ امی نے یہ اشتہا انگیز کلیجی مجھے شاید ایک آدھ بار ہی کھلانے دی مگر جب میرے پاس اپنے پیسے آ گئے تو میں نے یہاں عام راہ گزر پر کھڑے ہو کر نان کے ساتھ متعدّد مرتبہ یہ کلیجی کھائی اور مرچوں کے باعث سی سی کرتا ہوا نکلا۔

یہاں سے راستہ کتاب مارکیٹ کو جاتا تھا جہاں سے امی ہماری کاپیاں وغیرہ خریدا کرتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ آٹھویں جماعت میں میں نے امّی سے ضد کر کے یہاں سے تیس روپے کی فریداللغات خریدی تھی جو اگلے کئی برس میرے پاس رہی۔ اس لغت کے شروع کے صفحے پر داغ دہلوی کا یہ شعر لکھا تھا:

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اُردو زباں آتے آتے

یہ شعر میری سمجھ میں نہ آیا تو میں نے اپنی اردو کی ٹیچر کو دکھایا۔ انھوں نے بتایا کہ اس شعر کا مطلب ہے کہ شاعر داغ سے کہہ رہا ہے کہ ”نہیں کھیل اے داغ“ اور یہ بات اپنے ”یاروں سے بھی کہہ دو“ کیونکہ کھیل کود میں وقت ضائع کیا تو اُردو نہیں سیکھ سکو گے۔

کتاب مارکیٹ میں جن کتابوں پر میری والہانہ نظر پڑتی تھی ان میں کرکٹ کے دو رسالے ’اخبارِ وطن‘ اور ’کرکٹر‘ سرفہرست تھے۔ نیا رسالہ مہنگا ہوتا اور اس کی قیمت میں پرانے رسالے تین چار مل جاتے تھے سو میں کرکٹ کے پرانے رسالے خریدتا۔ پرانے اسکور کارڈ دیکھ دیکھ کر وہ خوشی ملتی جو اب کئی کتابیں پڑھ کر بھی نہیں ملتی۔ ایک بار سن انیس سو اناسی کے ورلڈکپ کی تفصیلات پر مشتمل ایک رسالہ ملا جس میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے سیمی فائنل کا اسکور کارڈ درج تھا۔ دوسری وکٹ کے لیے ماجد خان اور ظہیر عباس کی شان دار شراکت نے پاکستان کو مضبوط بنیاد فراہم کر دی تھی مگر ان کے آؤٹ ہونے کے بعد باقی کھلاڑی خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھا پائے تھے۔

لیکن اب میں اس کتاب مارکیٹ میں کبھی نہیں جا سکوں گا۔ نہ اس کے برابر موجود خشک میوہ جات کی مارکیٹ میں اور نہ دائیں جانب موجود پرندہ مارکیٹ میں جہاں میں ایک مرتبہ اپنے بیٹے محمد کو لے گیا تھا اور وہ وہاں کے خرگوشوں اور انواع و اقسام کے طوطوں پر مر مٹا تھا۔ ایک زمانے میں کراچی میں افواہ پھیل گئی کہ سندھ میں ایک خاص قسم کی چھپکلی دریافت ہوئی ہے جس میں کسی خطرناک مرض کا علاج موجود ہے۔ کراچی سے بہت سے لوگ سندھ کے دیہاتوں سے سستے داموں چھپکلیاں خرید کر یہاں پرندہ مارکیٹ میں ہی لائے تھے۔ خود مجھے متعدّد لوگوں نے مشورہ دیا کہ آؤ تھر یا بدین جا کر چھپکلیاں خریدتے ہیں جو سیکڑوں میں خریدی اور لاکھوں میں بیچی جا رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ چھپکلیاں کراچی کے شہریوں نے ہی ایک دوسرے سے خریدیں اور جن انگریزوں کو انھیں خریدنے آنا تھا وہ نہ آ سکے۔

ایمپریس مارکیٹ کو کراچی پر انگریزوں کے قبضے کے بعد ایمپریس وکٹوریہ کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ اس زمانے میں یہ کراچی کی مرکزی مارکیٹ تھی۔ مارکیٹ بننے سے پہلے یہاں ایک میدان تھا جس میں سن اٹھّارہ سو ستّاون کے باغیوں میں سے کچھ کو سزائے موت دی گئی تھی۔ دو روز پہلے جو دکانیں ڈھائی گئی ہیں ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تجاوزات تھیں۔ مگر جو بھی تھا، یہ دکانیں تیس سے زائد برسوں سے قائم تھیں۔ ان کے مالکان کے لیے متبادل جگہ کا بندوبست یا ان کے نقصان کی تلافی ضروری ہی نہیں لازمی بھی تھی۔ لوگوں کے لیے ایمپریس مارکیٹ تاریخی اہمیت کی حامل ہو گی مگر میری یادوں میں تو اس کی تجاوزات بھی جاگزیں ہیں۔

سوچتا ہوں کہ آج امّی حیات ہوتیں تو انھیں فون ملاتا اور کہتا: ”امّی وہ جو ایمپریس مارکیٹ کے ساتھ کتابوں والی مارکیٹ اور ڈرائی فروٹ کی مارکیٹ اور پرندوں کی مارکیٹ تھی نا، وہ انھوں نے توڑ دیں! “

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

سید کاشف رضا کی دیگر تحریریں
سید کاشف رضا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں