کیا پاکستان انقلاب کی جانب بڑھ رہا ہے؟


\"adnanدنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بہتری کے دو ہی طریقے ہیں۔ یا تو مسائل کا حل ایک بتدریج ارتقائی عمل کے ذریعے ہوتا ہے یا پھر ایک دھماکے سے، جسے انقلاب کہتے ہیں۔ انقلاب عموماً اسی وقت آتے ہیں جب بتدریج تبدیلی کے عمل کے تمام راستے بند ہو جائیں اورمعاشرے یا سماج میں ظلم، زیادتی اور کسی خاص گروہ یا طبقے کی شکایات کے ازالے کا کوئی راستہ باقی نہ بچے۔ یورپ اور امریکہ ارتقائی عمل کے ذریعے ترقی کی مثالیں ہیں جبکہ چین، اور کسی حد تک روس انقلاب کے ذریعے ترقی کی مثالیں ہیں۔ پاکستان کے حالات بڑی تیزی سے کسی دھماکے کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ ہماری کرپٹ اور نااہل اشرافیہ نے بتدریج ارتقائی بہتری کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں۔حالات حاضرہ کو مدنظر رکھیں تو پانامہ لیکس نے ہمارے حکمرانوں کی خوفناک کرپشن پر جو بحث چھیڑی ہے وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

بحث جاری رہنا تو خوش آئند ہے لیکن جو چیز تشویش کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ اس معاملے کو بحث سے آگے نہیں بڑھنے دے رہا اور اس کی کوشش ہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ لامتناہی بحث ہی کی نذر ہو جائے۔ جبکہ دوسری طرف اس معاملے کے کسی نتیجہ خیز حل کے امکانات کا جائزہ لیں تو آگے بڑھنے کا ایک طریقہ اعلیٰ سطحی با اختیار کمیشن ہے، جس کے لئے پارلیمانی ٹی او آز کمیٹی قائم ہو چکی ہے۔ کمیشن کا معاملہ لمبا ہے اور اس کے لئے نئی قانون سازی کی ضرورت پڑے گی۔ اس معاملے پر عملی طور پر آگے بڑھنے کا دوسرا طریقہ پہلے سے موجود اداروں کی طرف سے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں تحقیق و تفتیش کا آغاز ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، سٹیٹ بنک جیسے قومی اداروں نے اتنے بڑے میگا کرپشن سکینڈل کی تفتیش جیسے فرض منصبی سے دور رہنے کی گویا قسم اُٹھا رکھی ہو۔

پہلے آپشن کے حوالے سے خبریں آرہی ہیں کہ ٹی او آرز پر ڈیڈ لاک ہو گیا ہے۔ اگر بتدریج ارتقائی تبدیلی کے حوالے سے بات کی جائے تو پارلیمانی ٹی او آرز کمیٹی کا راستہ سب سے احسن راستہ ہے لیکن کیا کیجئے گا کہ اس کمیٹی سے کسی با اختیار کمیشن کے قیام کی کوئی امید نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا کوئی کمیشن بن جاتا ہے تو حکومت اور اپوزیشن میں شامل ساری بڑی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ براہ راست اس کی زد میں آئے گی۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے شریف خاندان کے ہاتھ سب سے زیادہ گدلے ہیں اور اپنی پارٹی اور حکومت پر ان کی گرفت ایسے ہی ہے جس طرح کسی پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کے ننانوے فیصد شئیر کے مالک گھاگ صنعتکار کی کمپنی کے کاروبار پر ہوتی ہے۔ اس لئے حکومت کبھی پانامہ لیکس پر بامعنی کمیشن نہیں بننے دے گی۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو یہ بنیادی طور پر دو سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے، پی پی اور تحریک انصاف۔ پی پی کی نمائندگی اعتزاز احسن کر رہے ہیں۔ خود ان کی اپنی سیاسی ساکھ نسبتاً بہت بہتر ہے، شاید کرپشن کا الزام ان پر نہیں ہے، ایک ایل پی جی کے کوٹے کے علاوہ کوئی چھینٹا ان کے دامن میں نہیں لگا ہوا۔ ویسے تو بہت سے کامیابیاں ان کے کریڈٹ پر ہیں لیکن سب سے نمایاں وکلا تحریک کی کامیابی ہے، جو ہر لحاظ سے ایک غیرمعمولی تحریک تھی۔ اگر پی پی کی حکومت پہلی دفعہ اپنے پانچ سال پورے کر گئی اور نواز شریف پہلی دفعہ اپنے تین پارلیمانی سال مکمل کر گئے تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ وکلا تحریک کی کامیابی ہے جس کی وجہ سے کسی کو طالع آزمائی کا خیال نہیں گزرا۔ ورنہ جس دن سازشی اور فرمائشی دھرنے دینے والوں نے لاقانونیت کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے پالیمان کی حرمت کو پامال کیا اور پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کیا اس دن مارشل لاء کے راستے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ لیکن ان ساری کامیابیوں کے باوجود جانے کیوں احساس ہوتا ہے کہ اعتزاز احسن کی قابلیت اور صلاحیت ان کامیابیوں سے کہیں زیادہ تھی۔ بینظیر بھٹو اگرچہ اس راستے پر چل نکلیں جس راستے پر سرے پیلس، آفشور کمپنیاں اور سوئس بنکوں جیسی ’’آرام گاہیں ‘‘واقع ہیں، اور وہ بائیں بازو کی سیاست سے مکمل طور پر منحرف ہو گئیں لیکن پھر بھی اعتزاز احسن جیسے شخص کے ان کے ساتھ چلنے کی سمجھ آتی ہے۔ لیکن آصف زرداری کے ایک ’’وصیت نامے‘‘ کے ذریعے پارٹی پر خاندانی قبضے کے بعد اعتزاز احسن کی سیاست کا کیا مقصد ہے؟ آصف زرداری کے خلاف بغاوت انہوں نے کی، اور برادرم حفیظ اللہ نیازی نے جو ’’چیف‘‘ کے کہنے پر میمو گیٹ پر سپریم کورٹ کی پٹیشن تیار کرنے والا واقعہ بیان کیا ہے اگر درست ہے تویہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے بغاوت کے لئے انتہائی ناپسندیدہ راستے کا انتخاب کیا۔ پھر کیا ہوا؟ انہیں سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ عنایت ہو گیا اور ان کی بغاوت ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ ٹی او آرز کی کمیٹی کی شکل میں ان کو ایک دفعہ پھر موقع ملا ہے کہ وہ پاکستان میں حقیقی احتساب کے لئے ایک بااختیار اور توانا کمیشن کی روایت ڈال دیں جو واقعتاََ شریف خاندان اور ان کے اپنے ’’لیڈر‘‘ سمیت ساری سیاسی اشرافیہ کی بے پناہ کرپشن پر ہاتھ ڈال سکے۔

اپوزیشن کی دوسری سیاسی جماعت تحریک انصاف کے نمائندگی شاہ محمود قریشی کے پاس ہے لیکن بظاہر قانونی معاملات حامد خان کے ہاتھ میں ہیں۔ حامد خان بھی نسبتاً اچھی ساکھ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ آمریتوں کے خلاف وکلا کی جدوجہد کی تشکیل میں ان کا ایک بڑا حصہ ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر وکلا تحریک کی کامیابی میں ان کا حصہ بھی بہت بڑا ہے۔ لیکن جو حال اعتزاز احسن کا پی پی میں ہے قریب قریب وہی حال حامد خان کا تحریک انصاف میں ہے۔ حامد خان کے سامنے بھی وہی چیلنج ہے کہ ان کے ہاتھ بھی ان کی اپنی پارٹی کی طرف سے بندھے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی حالیہ قیادت کے پاؤں بھی آفشور کمپنیوں، خفیہ اثاثوں، کرپشن، ٹیکس چوری، قرضے ہڑپ کرنے جیسے دلدل میں بری طرح دھنسے ہوئے ہیں۔ حامد خان کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ ایسے ٹی او آرز بنانے میں مدد کریں جس سے واقعتاََ بااختیار کمیشن قائم ہو سکے۔ خوش گمانیاں اور امید افزائی اپنی جگہ لیکن سو باتوں کی ایک بات ہے کہ نواز شریف کی طرح آصف زرداری اور عمران خان بھی ایسا کمیشن کبھی نہیں بننے دیں گے، تو ایسی صورت میں اعتزاز احسن اور حامد خان کے پاس کیا راستہ باقی بچے گا؟ وہ اپنا ’’سیاسی کیرئیر ‘‘بچائیں گے یا ملک، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

دوسرے آپشن کے حوالے سے موجود اداروں میں سے تو حکومتی کرپشن بنیادی طور پر نیب کے دائراہ اختیار میں آتی ہے۔ لیکن کئی مہینے گزرنے کے بعد اب نیب کا کہنا ہے کہ پانامہ پر اگر ذمہ داری ملی پوری کریں گے۔ نیب کا یہ بیان سمجھ سے بالا تر ہے۔ قانونی طور پر نیب ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے۔ نہ یہ حکومت کے ماتحت ہے، نہ عدلیہ کے۔ کئی تجزیہ نگار نیب کے اس بیان کی تشریح اس طرح کر رہے ہیں کہ نیب اسٹیبلشمنٹ سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کی اجازت بھی مانگ رہی ہے اور پانامہ لیکس پر تفتیش کی صورت میں ممکنہ حکومتی ردعمل سے تحفظ کی ضمانت بھی۔ ورنہ قانونی طور پر تو نیب کو پانامہ لیکس جیسے معاملات میں کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا فرض تھا کہ جیسے ہی سکینڈل لیک ہوا یہ فوری طور پر تفتیش کا آغاز کرتی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری کرپٹ اشرافیہ نے ہر قومی ادارے کو سر سے پکڑا ہوا ہے۔ جب من پسند وفادار لوگوں کو اداروں کی سربراہی دی جاتی ہے تو پھر سارے قومی ادارے کرپٹ اشرافیہ کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔جب نیب جیسے خود مختار ادارے کا یہ حال ہے تو پھر ایف آئی اے، ایف بی آر جیسے اداروں کی حالت کا خود اندازہ کر لیں جو براہ راست حکومتی وزیروں کے ماتحت کام کرتے ہیں۔

پاکستانی اشرافیہ جس بے دردی سے ملکی وسائل لوٹ رہی ہے، عام آدمی کے لئے زندہ رہنا محال ہو رہا ہے۔ اشرافیہ کی بے انتہا کرپشن کی باعث پاکستانی عوام کے لئے معاشی مسائل کا بوجھ اٹھانا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ کرپشن ختم کرنا تو درکنار، کرپشن کم کرنے اور کرپٹ لوگوں کو سزا دینے کے راستے بھی بند کر دئیے گئے ہیں۔ ان حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔