عین عورت اور میم مرد کا رشتہ


ڈیر ڈاکٹر خالد سہیل !
مرد اور عورت کا رشتہ ایک بجھارت ہے‘ ایک پہیلی ہے‘ ایک معمہ ہے‘ ایک گتھی ہے۔ میں اس گتھی کو سلجھانے اور عورت اور مرد کے رشتے کی وضاحت کرنے کے لیے اس رشتے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گی. پہلا وہ رشتہ جو کہ غیررومانی ہے جس میں ماں بہن اور بیٹی آتے ہیں – دوسرا رومانوی رشتہ ہے . جس کی بھی تین قسمیں ہیں .
• پہلا بیوی یا گرل فرینڈ
• دوسرا طوائف
• اور تیسرا رشتہ ہے ع عورت کا

بیوی اور گرل فرینڈ سے رومانس شروع میں پرلطف ہوتا ہے . مگر آہستہ آہستہ اپنی Excitement کھو دیتا ہے . اس حقیقت سے ہر مرد بخوبی واقف ہے . اور چند عورتیں بھی . اگر کچھ عورتیں اس حقیقت سے واقف نہیں تو مرد وں پر لازم ہے کہ ان کویہ حقیقت بتائیں . اور عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اس حقیقت کو قبول کریں. مرد اس لیے بیان نہیں کرتا کہ یا تو عورت اس سے ہرٹ Hurt ہوگی اور اس کو چھوڑ دے گی . یا پھر مرد کو بدلے میں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ عورت کو بھی رومانس کی Excitement کھودینے کاا حساس ہے .جو مرد کی انا کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے .
ثروت زہرا نے کیا خوب کہا ہے .
اپنے اپنے حصے کی ہم شکست کھاتے ہیں
جیت جانے والے کو بے وفا نہیں کہتے

کیونکہ انسان ایک دوسرے سے اتنا مختلف ہے کہ

جو کسی کی منزل ہے وہ کسی کا رستہ ہے
سو کسی بھی حاصل کو انتہا نہیں کہتے
بہت پیغامات ہیں اس میں .

اب میں ذکر کروں گی طوائف کا. جو میرے لیے نہایت محترم ہے . مگر اس رشتے میں پیسے کی لین دین ہے . اور پسندیدگی زیادہ تر یک طرفہ ہے . مرد کو پتہ ہوتا ہے طوائف اس کے لیے نہیں پیسوں کے لیے اس سے رشتہ قائم کر رہی ہے . یہ رشتہ مرد کو جسمانی لذت پہنچاتا ہے. مرد کی انا کی تسکین بھی کرتا ہے مگر اس کی انا کو تقویت نہیں پہنچاپاتا
اب آتی ہے ع عورت . ع عورت آزاد ہے ، مضبوط ہے ، طاقتور ہے ، Compassionate ہے . وہ جسمانی اور جذباتی اسرار و رموز سے واقف ہے . وہ رومانس کے بدلے رومانس ، پسندیدگی کے بدلے پسندیدگی ، خوشی کے بدلے خوشی دیتی اور لیتی ہے . وہ مرد پر معاشی ، سماجی اور جذباتی انحصارکرنا پسند نہیں کرتی . وہ نہیں پوچھتی یہ رشتہ کہاں جارہا ہے . یا اس کو مرد سے بچے کب ملیں گے . م مرد نہیں بلکہ عام مرد اس سے پوچھتا ہے یہ رشتہ کہاں جا رہا ہے اور تم مجھ کو بچے دو گی بھی کہ نہیں تاکہ یہ رشتہ مظبوط ہوسکے . اس کا Selfloveاس کے اندر سے آتا ہے . وہ اپنے Selflove کے لیے کسی کی طرف نہیں دیکھتی . کوئی اس کو چھوڑے تو وہ اسے اپنا نقصان سمجھنے کے بجائے محبت کا نقصان گردانتی ہے
اب آپ پوچھیں گے ع عورت کہاں پائی جاتی ہے تو میں آپ کو بتاؤں گی ع عورت ہر عورت کے اندر موجود ہے . مگر ہم نے اس کوکبھی اخلاقیات کے نام پر کبھی مذہب کے نام پر کبھی شادی کے نام پر کبھی بچوں کے نام پر اور کبھی خاندانی عزت کے نام پر کچل دیا ہے . ہم نے اس کو گشتی یا سلٹ Slut کا نام دے کر تاریخ میں جلا دیا ہے
اب المیہ یہ ہے کہ جب م مرد ع عورت کو ڈھونڈنے نکلتا ہے تو اس کووہ کہیں نہیں ملتی . ملتی ہے تو گرل فرینڈ بیوی یا طوائف .

اگر آپ مرد ہیں تو ع عورت کی تلاش کرنے سے پہلے اپنے اندر م مرد کو ڈھونڈیں . جب آپ کووہ م مرد مل جائے تو اپنی ماں کے اندر ع عورت کی ہمت افزائی کریں . اپنی بہن کے اندر ع عورت کو زندہ رکھیں . اپنی بیٹی کے اندر ع عورت کو پروان چڑھائیں اور اپنی بیوی اور گرل فرینڈ کے اندر ع عورت کو آزاد کریں . ایک ایسا سماج تشکیل دیں جو ع عورت کی عزت کرے اس کی حوصلہ افزائی کرے . تب جا کر کہیں آپ کو آپ کی Fantasy عورت ملے گی . جو آپ کو گلٹ Guilt دینے کے بجائے آپ کی ضروریات اور تحفظات کو سمجھے گی . جو آپ کو اتنا پیار دے گی جتنا م مرد Deserve کرتا ہے .

میں اپنا خط ایما گولڈ مان کے مضمون ’ شادی اور محبت ‘ کے آخری پیراگراف پر ختم کرنا چاہوں گی جو انہوں نے ایک صدی پہلے لکھا تھا
Some day, some day men and women will rise, they will reach the mountain peak, they will meet big and strong and free, ready to receive, to partake, and to bask in the golden rays of love. What fancy, what imagination, what poetic genius can foresee even approximately the potentialities of such a force in the life of men and women. If the world is ever to give birth to true companionship and oneness, not marriage, but love will be the parent.

محمد مظاہر نے اس کا ترجمہ کچھ اس طرح کیا ہے
کسی روز شاید کوئی دن آتا ہے جب مرد اور عورتیں اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہمالیہ کی چوٹی کو چھو لیں گے . جب وہ وہاں پہنچیں گے تو وہ گرانڈیل توانا اور آزاد ہوں گے . وہ قبول کریں گے .ساجھے داری کریں گے . اور محبت کی سنہری کرنوں میں تاپیں گے . کیا زور تخیل 249 حاشیہ خیال یا پھر نابغہ روزگار شاعر اپنے آئینہ گفتار میں اس دور کی دھندلی سی بھی تصویر دیکھ سکتا ہے جب عورتوں اور مردوں کی زندگی میں اتنی قوت پیدا ہوجائے گی. اگردنیا کبھی بھی ایسی سچی رفاقت اور ایکے کو جنم دے سکے جس سے مراد شادی نہیں بلکہ محبت ہے جو والدین کی جگہ لے لے گی .
آپ کے خیالات کا انتظار رہے گا۔۔۔آپ کی دوست۔۔۔زہرا نقوی


ڈیر زہرا نقوی !
میں نے آپ کا خط ایک سے زیادہ بار پڑھا تا کہ اس میں چھپی رومانوی بصیرت ‘معنویت اور دانائی کو پوری طرح جذب کر سکوں۔آپ نے مردوں اور عورتوں کے رشتوں کے بارے میں میری رائے پوچھی ہے تو عرض ہے کہ میری نگاہ میں عورت اور مرد کے دوطرح کے رشتے ہیں۔ روایتی رشتے اور غیر روایتی رشتے۔ روایتی رشتوں میں مرد اور عورت اپنی انفرادیت‘ اپنی جداگانہ فکر اور اپنی شخصیت کو روایت پر قربان کر دیتے ہیں اور معاشرتی کردار اپنا لیتے ہیں۔
عورت بیٹی‘ بہن‘ بیوی اور ماں کا کردار اپنا لیتی ہے اور اکثر اوقات ان رشتوں میں کھو جاتی ہے۔ وہ اپنے خواب اور اپنے آدرش محبت کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے اور پھر ایک دن دکھی ہو جاتی ہے۔
اسی طرح روایتی مرد ایک بیٹا‘ بھائی‘ شہر اور باپ بن جاتا ہے۔ وہ بھی اپنے آدرش اور خواب خاندان پر قربان کر دیتا ہے اور دکھی ہو جاتا ہے۔ اس کی شخصیت کبھی مجروح اور کبھی مسخ ہو جاتی ہے۔ وہ بھی کولہو کا بیل بن جاتا ہے۔
مرد کو معاشرتی طور پر ایک ADVANTAGE حاصل ہے۔ چونکہ اس کی جیب اور بینک میں روپے ہوتے ہیں وہ چند عیاشیاں خرید سکتا ہے۔وہ دولت سے کپڑے‘ گاڑی‘ گھر اور جنس خرید سکتا ہے لیکن یہ چیزیں اسے ذہنی سکون نہیں دے سکتیں۔ وہ اندر سے دکھی اور خالی رہتا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ اندر کا خلا باہر سے نہیں بھرا جا سکتا۔
عورت ایک لحاظ سے مرد سے زیادہ خوش قسمت ہے۔ اس کے جذباتی رشتے مرد سے زیادہ بامعنی اور بھرپور ہوتے ہیں۔ وہ مرد سے زیادہ ٹوٹ کر محبت کرنا جانتی ہے۔ وہ LUST AND LOVE کے فرق کو پہچانتی ہے۔یہ علیحدہ بات کہ وہی محبت جو اسے خوشی دیتی ہے اسے دکھی بھی کر دیتی ہے۔ وہ ٹوٹ کر چاہتی ہے اور اگر محبت ناکام ہو جائے تو ٹوٹ کر بکھر بھی جاتی ہے کیونکہ اس کی عزتِ نفس کا انحصار دوسرونںپر ہوتا ہے۔وہ مرد سے زیادہ احساسِ ندامت اور گناہ کا شکار ہوتی ہے۔
میری نگاہ میں عین عورت اور میم مرد کا بنیادی رشتہ دوستی کا ہے۔یہ رشتہ
ایک دوسرے کی عزت اور احترام کا رشتہ ہے
یہ رشتہ ایک دوسرے کو اس کی SPACE دینے کا رشتہ ہے
یہ رشتہ ایک دوسرے کے خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کرنے میں مدد دینے کا رشتہ ہے
میرا مشاہدہ اور تجربہ مجھے یہ بتاتا ہے کہ ایسی دوستی کے امکانات ایسے معاشروں میں زیادہ ہیں جہاں بچوں اور بچیوں کو خاندانوں میں اور لڑکے اور لڑکیوں کو سکولوں میں دوست بنانے کے مواقع مہیا ہیں۔جب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے دکھوں اور سکھوں مین شریک ہو جاتے ہیں تو وہ دوست بن جاتے ہیں۔ لیکن جہاں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا جاتا ہے تو ان کی FANTASY ان کی REALITY پر حاوی ہو جاتی ہے اور ایک غیر فطری معاشرہ جنم لیتا ہے جہاں مرد اور عورتیں میاں بیوی تو بن جاتے ہین دوست نہیں بن پاتے اور برسوں ساتھ رہنے کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے۔۔ میں بہت سے ایسے جوڑوں سے مل چکا ہوں جو دریا کے دو کنارے ہیں۔
میری ذاتی زندگی میں مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے عورت سے دوستی کا راز پا لیا ہے۔ میرے دوست جانتے ہیں کہ
میری بہن عنبر میری دوست ہیں
میری بھانجی وردہ میری دوست ہیں۔
میری محبوبہ بے ٹی ڈیوس میری دوست ہیں
میری رفیقِ کار این میری دوست ہیں۔
لیکن یہ دوستی صرف اس وقت ممکن ہے جب مرد اور عورت دونوں دوستی کے رشتے پر یقین رکھتے ہوں اور دوستی کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوں۔
میں مرد اور عورت کی دوستی کے رشتے کو فطری اور معتبر سمجھتا ہوں لیکن ایسی دوستی صرف عین عورت اور میم مرد کے درمیان ہی ممکن ہے۔یہ مزل ابھی دور ہے بہت دور۔
آپ کا ہم خیال دوست
خالد سہیل

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 166 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail