طورخم بارڈر: شب فتنہ باقی ہے


\"wisiپاکستانی سرکار اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ امن ایک خواب ہی رہے گا اگر ڈیورنڈ لائین کو بطور سرحد تسلیم نہ کرایا گیا۔ سرکار جس نتیجے پر پہنچی ہے وہ ٹھیک ہی ہے۔ نیت بھی ٹھیک ہی ہو گی۔ بارڈر کنٹرول کے لئے حتمی اقدامات کرتے ہوئے مناسب احتیاط کے تقاضے بھی نبھائے گئے تھے۔

افغان حکومت کو نارمل رکھنے کے لئے ہی انگور اڈہ کی پوسٹ افغانستان کے حوالے کی گئی۔ انگور اڈہ پر افغانستان کا پرانا دعوی ہے۔ افغان حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان ڈیورنڈ لائین سے آگے افغان علاقے پر قابض ہے۔ پوسٹ حوالے کرتے ہوئے تنازع ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لئے یہ ایک بڑا قدم تھا اس کے باوجود طورخم پر گیٹ کی تعمیر کے دوران تنازع ہو کر رہا۔

پاکستان نے اپنی حد کے اندر تعمیرات شروع کیں تو افغانستان کی طرف سے فائرنگ کر دی گئی۔ کئی دن سرحد بند رہی۔ لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ افغان سفیر عمر زخیل وال بھی ایک مرحلے پر جذباتی ہوتے دکھائی دئیے۔ طورخم پر تعمیرات شروع کرنے سے پہلے پاکستان نے ویزہ کے بغیر افغانوں کی آمد پر پابندی لگا دی تھی۔

افغانستان سے پاکستان آمد رک کر رہ گئی تھی۔ پشاور کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بالکل ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ منڈیوں میں افغان تاجروں کے نہ آنے سے قیمتوں میں کمی آئی۔ یہ صورتحال وقتی ہے لیکن افغانوں کے بغیر پشاور کیسا ہو گا ْاس کی کچھ جھلک دکھاتی ہے۔

سیکیورٹی معاملات سے باخبر افراد کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لئے طریقہ کار پر غور ہو رہا ہے۔ یہ سوچا جا رہا ہے کہ افغان مہاجر کیمپوں کو پاکستان سے افغانستان منتقل کیا جائے۔ ایک پاکستانی اہلکار کا کہنا ہے کہ ہم انہیں واپس بھی بھیجنا چاہتے ہیں اور یہ کام کرنا بھی پیار محبت سے ہی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ہم افغانوں پر اپنی چالیس سال کی سرمایہ کاری ضائع نہیں کر سکتے۔

یہ سارا معاملہ بہت ہی نازک اور حساس ہے۔ پاکستانی حکام کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ افغان حکومت کو ہم آن بورڈ لے رہے ہیں۔ ہر مرحلے پر ہم انہیں ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اس کے باوجود طورخم بارڈر پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کئی روز تک سرحد بند رہی۔ مشکلات کے باوجود پاکستان افغان بارڈر پر آمدورفت کو کنٹرول کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ جو ٹھیک نہیں ہے وہ یہ کہ پاکستانی حکومت اور لوگ ڈیورنڈ لائین کے حوالے سے افغانوں کی حساسیت سے واقف ہوتے ہوئے بھی واقف نہیں ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک دلچسپ بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی افغان ڈیورنڈ لائین کو نہیں مانتا۔ ہم اس کو سرحد تسلیم نہیں کرتے یہ لکیر افغاںوں (پختونوں) کو تقسیم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی۔

حامد کرزئی سے جب یہ کہا گیا کہ آپ اس مسلے کو عالمی فورم پر کیوں نہیں اٹھاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی عالمی کیس ہے ہی نہیں۔ یعنی وہ جانتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائین ہی ایک تسلیم شدہ سرحد ہے۔ اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ ہم اس مسئلے پر جنگ نہیں کریں گے لیکن اسے تسلیم بھی نہیں کریں گے۔

پاکستان نے اپنے افغان باڈر پر آمدورفت کو کنٹرول کرنے کے لئے موثر اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ ڈیورنڈ لائین کی حساسیت افغان لیڈرشپ کے لئے ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آ گئی ہے۔ کوئی بھی افغان لیڈر اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس مسئلے پر پاکستان کو کوئی فیور دے سکے۔ جو کرنا ہے وہ پاکستان کو خود ہی کرنا ہے اور اپنے زور بازو سے ہی کرنا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے نتائج کی پروا نہیں کرنی۔

یہ نتائج کیسے ہیں۔ اس کی جھلک دیکھیں، اہم افغان وزرا اور لیڈروں کے نام اور عہدے جانیں۔ ان کے وزیر دفاع، وزیر داخلہ، چیف آف آرمی سٹاف اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ، سب کے نام جانیں پھر ذرا تفصیلات حاصل کریں۔ چھوڑیں یہ سب ایک لمبی مشق ہے۔ آسان کام کرتے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی سے شروع کرتے ہیں۔

افغان صدر کا پورا نام اشرف غنی احمد زئی ہے۔ ویسے تو احمد زئی درانی ہوتے ہیں۔ لیکن اشرف غنی احمد زئی وزیر ہیں۔ جی وہی ہمارے وزیرستان والے احمد زئی وزیر۔ احمد زئی وزیر باڈر کے دونوں جانب ہیں۔ اشرف غنی احمد زئی کا وزیرستان سے ایک بہت دلچسپ تعلق ہے۔ بہتر ہے کہ یہ تعلق ہمارے ادارے ہی جانیں، لوگ نہ ہی جانیں۔

اشرف غنی کے چھوٹے بھائی افغان احمد زئیوں کے سربراہ ہیں۔ احمد زئی وزیر جنوبی وزیرستان میں رہتے ہیں۔ ان کو افغانستان جانے کے لئے جو راستہ دیا گیا ہے وہ غلام خان شمالی وزیرستان سے۔ بیٹھے بٹھائے انہیں سینکڑوں کلومیٹر کا روٹ لگا دیا گیا ہے۔ کئی احمد زئیوں کے گھر پاکستان اور حجرے افغانستان میں ہیں یا حجرے دکانیں ادھر اور گھر ادھر۔

صورتحال پر غور کریں کہ براہ راست متاثرین بھی وہ ہیں جن کا اپنا فرد افغان صدر ہے۔ یا ایسے صدر کا تصور کریں جس کے اپنے خاندان کو اس کی وجہ سے کیسا مسئلہ درپیش ہونے والا ہے۔

افغان صدر کو بھول جائیں، افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کی بات کرتے ہیں۔ صلاح الدین ربانی تاجک ہیں، سابق افغان صدر اور جہادی لیڈر برہان الدین ربانی کے فرزند ہیں۔ برہان الدین ربانی خود کش حملے میں مارے گئے تھے۔ طالبان اس حملے کی مذمت کر چکے ہیں۔ اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا گیا تھا۔ الزام غلط ہے یا صحیح لیکن ایسا فرد ہمارا کتنا حمایتی ہو گا جو یہ سوچتا ہو کہ ہم نے اس کا باپ مارا تھا۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی جان لیں کہ برہان الدین ربانی کے پشاور میں موجود گھر بھی قبضہ ہو گیا تھا۔

افغانوں کے ساتھ معاملات بہت الجھے ہوئے ہیں۔ یہ جتنے الجھے ہوئے ہیں اس سے زیادہ نازک ہیں۔ ان معاملات پر لوگوں کو مشتعل اور جذباتی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ڈھیروں ڈھیر پختون قوم پرست پائے جاتے ہیں۔ اگر وہ پختوںوں (افغانوں) کی آمدورفت پر پابندی تسلیم کریں گے تو اپنی سیاست کو گولی ہی ماریں گے۔

ہمارے لئے بہتر ہے کہ ہم معاملے کی حساسیت جان لیں۔ مسلہ تو ہے اس کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکالیں۔ دشمن تو جو کوئی بھی ہو گا وہ اس حساسیت سے فائدہ ہی اٹھائے گا۔ اسے یہی کرنا چاہئے امریکہ بھارت وغیرہ پر الزام دینے سے کچھ حاصل وصول نہیں ہوگا۔

دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے والے لوگ ایسے ہوں جو دونوں ملکوں کو بغیر کسی بڑی مشکل کے اس صورتحال سے نکال سکیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “طورخم بارڈر: شب فتنہ باقی ہے

  • 20-06-2016 at 4:44 am
    Permalink

    محترم وصی بابا؛
    پابندی کی وجہ سے تو ہسپتال میں رش کم ہوا لیکن ایک پشاوری ہونے کے ناطے آپکو معلوم ہوگا کہ ڈبگری ، رحمان اور نارتھ ویسٹ جیسے پرائیوٹ ہسپتال افعانیوں کی وجہ سے ہی چلتے ہیں ، مطلب آپکو یہ فائدے کی بجائے نقصان دکھائی دیتا ہے ۔
    دوسری بات ، مارکیٹ سپلائی اور ڈیمانڈ کے مطابق چلتی ہے۔ چند دنوں یا چند مہینوں کے بعد سبزیاں اور پھلوں کو دوبارہ مہنگا ہوجانا ہوگا ، کیونکہ اس حساب سے پاکستان ایک نقد خریدار سے محروم ہو جائے گا اور کسانوں کو بھی کنگال ہونا پڑےگا ، اور آئندہ وہ زیادہ کاشت نہیں کرینگے ۔
    اور ہم پختونوں کا تو ایمان ہی پختون ولی ہے ، ہمیشہ ہمارے دل ایک دوسرے کیلئے ڈھڑکتے ہیں اگرچہ سینتالیس کے بعد پختونوں میں برین واشنگ کا بہت کام بھی ہو چکا ہے ۔

Comments are closed.