اُف۔۔۔۔ یہ اینکر پرسن


\"akhterپی ٹی وی کے زمانے میں جب ٹیلی وژن اینٹنا پہ چلا کرتے تھے، اس وقت تک ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ اینکر کس بلا کا نام ہے۔ کیونکہ اس زمانے میں جو بھی اسٹوڈیو میں بیٹھ کر تمیز کے دائرے میں پروگرام کیے جاتے تھے، ان میں سے ایک میزبان ہوتا تھا، باقی چند ایک مہمان ہوا کرتے تھے۔ مگر جیسے ہی نجی چینلز کی بھرمار ہوئی، اسی وقت سے اینکر پرسن لفظ ایسا کانوں پہ پڑا ہے کہ اب چاہیں بھی تو اسے ذہن سے نہیں نکال سکتے ہیں۔

نجی چینلز کو اپنی ریٹنگ بڑھانی ہوتی ہے، اس لیے شام کے وقت سے لے کر رات گئے تک ایسے اینکر حضرات کو اسکرین پہ چھوڑ دیا جاتا ہے جیسا کہ وہ یہ ارادہ کرکے آتے ہیں کہ آج مہمانوں کو ضرور آپس میں لڑانا ہے ورنہ شو میں مزا نہیں ہو گا۔ انہیں پتہ نہیں یہ گمان کیوں ہوتا ہے کہ شور شرابے کے سوا ان کا پروگرام کوئی نہیں دیکھے گا۔

چند روز قبل ہی میں ایک نجی چینل کے ایک اینکر پرسن ڈاکٹر دانش کو دیکھ رہا تھا، موصوف آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے آپے سے باہر ہو رہے تھے۔ کسی بھی آرمی چیف کا ریٹائر ہونا ایک معمول کی بات ہے مگر ہمارے ہاں اس معاملے کو اس قدر متنازع بنا دیا گیا کہ جیسے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک قیامت برپا ہونے والی ہے جس کے بعد سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔

جنرل ایوب نے جس طرح سے اقتدار حاصل کیا تھا اور لوگ انہیں “بادشاہ ایوب” کہا کرتے تھے، تب بھی لوگ چاہتے تھے کہ وہ فیلڈ مارشل رہ کر تا حیات ملک کے صدر رہیں مگر ان کے جانے کے بعد لوگ انہیں آج یاد تک نہیں کرتے۔ جنرل یحیٰ کو اب کون یاد کرتا ہے۔ اس طیارے کے بارے میں تو لوگ نہیں بھولے جس میں آمر ضیا ہلاک ہو گیا تھا۔ اگر وہ حادثہ نہ ہوتا تو ایک طویل وقت تک آمر ضیا اقتدار میں رہتا، ان کے لیے بھی لوگ یہی کہا کرتے تھے کہ وہ مرد مومن مرد حق ہے مگر ان کے جانے کے بعد بھی ملک چلتا رہا۔ پرویز مشرف کو لوگ وردی کے بنا دیکھنا تک پسند نہیں کرتے تھے مگر ان کے جانے بعد اب ان کے چاہنے والے صرف فیس بک پر ہی دکھائی دیتے ہیں۔

مگر ہمارے ان اینکر پرسنز کو کون سمجھائے جو آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے غم میں نڈھال ہوئے جار ہے ہیں۔ اور یہ سوالات کرتے رہتے ہیں کہ کیا آپ اس قوم کو اس حالت میں چھوڑ کر چلے جائیں گے، جس میں دہشت گردی ہے اور لاقانونیت ہے۔ یہ سوالات ہوتے تو کسی اینکر پرسن کے ہیں مگر اس کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ قوم آپ سے سوال کر رہی ہے جنرل صاحب۔

قوم اور عوام کے سوالات کچھ اور ہوتے ہیں۔ جن کا ذکر تک ان پروگراموں میں نہیں کیا جاتا کیوں کہ ان سے ان کے پروگراموں کی ریٹنگ نہیں بڑھتی ہے۔ آج تک کسی بھی اینکر نے کسی سویلین کو جانے سے نہیں روکا اور نہ ان کے جانے کا اتنا غم بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں جس قسم کا میڈیا پروان چڑھ رہا ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ میڈیا کوئی تعمیری میڈیا نہیں ہے۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا نے ان چند برسوں میں ہمارے سماج میں جو تباہی مچائی ہے، اسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

اردو میڈیا کے پروگرام دیکھ کر کبھی تو یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ بس فوج تیار کھڑی ہے اور مارشل لا لگنے ولا ہے اور اقتدار بس تھوڑی دیر میں سویلیں حکومت سے جانے والا ہے۔ ایک کنٹرول میڈیا کبھی بھی سماج میں مثبت تبدیلی نہیں لا سکتا اور نہ ہی اس کا مقصد سماج کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ آج بھی ہمارے تمام چینلز ایک ایسی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، جہاں انہیں بس اس بات کی فکر ہے کہ اول نمبر کیسے حاصل کیا جائے، ان کے لیے اخلاقیات کوئی معنی نہیں رکھتی۔

آج اگر ہم ایک آرمی چیف کے جانے پر اتنے افسردہ ہو رہے ہیں تو ہم اس کا دوسرا پہلو کیوں بھول رہے ہیں کہ فوج میں یہ آخری آرمی چیف نہیں بلکہ ہر آرمی چیف کے بعد ایک نیا آرمی چیف آتا ہے۔ یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ بجائے اس کے ہماری میڈیا کے اینکر پرسن کسی کی قیصدہ گوئی اور کسی کے جانے پہ ماتم کرتے رہیں، کیا اس سے بہتر نہیں ہے کہ ہم عوام کے مسائل اور اس ملک کے ان مسائل کو میڈیا کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کریں، جس کے لیے ہمیں کسی کی قیصدہ گوئی کرنے کی ضرورت نہیں بکلہ حقیقت کی عینک لگا کر ذرا غور سے اپنے آس پاس دیکھنے کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 17 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez