فادرز ڈے پر ایک دن کی محبت


\"raziابھی چند روز پہلے ہم نے فیس بک پر سہمی ہوئی ماﺅں کی بے شمار تصاویر دیکھی تھیں۔ یہ تصاویر ماﺅں کے عالمی دن کے موقع پر ان کے بیٹوں نے اظہار محبت کے لیے آویزاں کی تھیں۔ بیشتر تصاویر ان بیٹوں کی جانب سے آویزاں کی گئیں جن کے بارے میں ہم ذاتی طورپر جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ضعیف ماﺅں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ تصاویر میں ماﺅں کے چہروں پر جو کرب، خوف اور مصنوعی مسکراہٹ تھی اس نے ہمیں بہت آزردہ کیا۔ کرب شاید اس بات کا تھا کہ ان ماﺅں کو ان کے بیٹوں نے صرف اس دن کو ”یادگار“ بنانے کے لئے گھر کے کسی کونے سے نکالا اور ان کے ساتھ ایک سیلفی بنا کر فیس بک پرلگا دی۔ ماﺅں کو بھی معلوم تھا کہ محبت کا یہ دکھا وا صرف دنیا والوں کے لئے ہو رہا ہے۔ ان کے چہروں پر خوف شاید اس بات کا تھا کہ انہیں معلوم تھا کہ اس تصویر کشی کے بعد اگلے سال تک کے لیے انہیں گھر کے اسی کونے میں واپس ڈال دیا جائے گاجہاں سے یہ تصویر بنوانے کے لئے انہیں بہت محبت کے ساتھ نکالا گیا ہے ۔ رہی مسکراہٹ تو ہم نے ماں کی مسکراہٹ کو مصنوعی اس لیے قراردیا ہے کہ اس خوف اورکرب کے عالم میں کوئی ماں اپنے بچوں سے کتنی بھی محبت کیوں نہ کرتی ہو اس کے چہرے پر حقیقی مسکراہٹ نہیں آسکتی۔

جن لوگوں نے یہ تصاویر فیس بک پر آویزاں کیں ان میں سے بیشتر کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ ان کا اپنی ماﺅں کے ساتھ کیا سلوک رہا۔ کچھ تو نوکری کے بہانے کسی دوسرے شہر منتقل ہوگئے اور کچھ غم روزگار کے بہانے ماﺅں کو بے یار و مددگار یا کسی عزیز کے پاس چھوڑ کر سات سمندر پار چلے گئے۔ تصاویر لگانے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے کہ جن کی مائیں موت سے پہلے ان کی راہ تکتی رہیں لیکن انہیں اتنی فرصت ہی نہ ملی کہ و ہ آخری لمحات میں اپنی ماﺅں کی قدم بوسی کر سکیں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال آج فادرز ڈے کے موقع پر بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ وہ نا فرمان بیٹے جنہوں نے اپنے والد کی میت کو کندھا بھی نہیں دیا تھا آج تصاویر آویزاں کرکے محبت کا ”بھرپور“ اظہار کر رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ ویل چیئر پر بیٹھے ہوئے باپ کو دھکیلنے والے بیٹے نے یہ تصویر اپنے باپ سے محبت کے اظہارکے لیے لگائی ہے یا زمانے کو والد کی بے چارگی اورکسمپرسی دکھانا مقصود ہے۔ حضور ہم کہنا صرف یہ چاہتے ہیں کہ فیس بک کی دیوار پرنافرمان بچوں کی جانب محبت کا یہ مصنوعی اظہار ہمیں آزردہ کر گیا ۔ لیکن کیا کریں اب تو احترام رمضان سمیت سب کچھ ہی دکھاوا بن گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “فادرز ڈے پر ایک دن کی محبت

  • 20-06-2016 at 2:39 am
    Permalink

    Beautiful column and a cruel truth of social norms in the era of social media

Comments are closed.