کھاتے پیتے لبرل گھروں کی مادر پدر آزاد عورتیں


وہ خوب صورت، آزاد خیال، سگھڑ، پڑھی لکھی اور ذمہ دار تھی اور ایک ماڈرن تہذیب یافتہ مڈل کلاس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ یونیورسٹی تک بہترین تعلیم پائی اور اچھی ملازمت مل گئی۔ شادی کے سلسلے میں بھی کوئی پابندی نہ تھی اور اپنی پسند کے لڑکے سے شادی ہو گئی۔ سسرال کا ماحول بھی میکے جیسا ہی تھا۔ نوکری جاری رہی۔ کتابیں پڑھنا، فلمیں دیکھنا، گھومنا پھرنا اور دوستوں سے ملنا جلنا ویسا ہی رہا جیسے پہلے تھا۔ کچھ عرصہ ہی جوائنٹ فیملی میں رہنا پڑا اور پھر الگ گھر لے لیا اور ہنسی خوشی شفٹ ہو گئے۔ سبھی لوگ بہت پیار کرنے والے اور مددگار تھے۔ سسرال اور میکے سے ملنے کی روٹین بن گئی لیکن روٹین پر عمل بہت ضروری بھی نہ تھا۔ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلی بھی کر لیتے تھے۔

شادی کے چھ سال گزر گئے تھے۔ فیملی دو بچوں کے ساتھ مکمل ہو چکی تھی۔ جاب میں پروموشن ہو گئی۔ آمدنی بہت معقول تھی۔ عمر تیس سال ہو چکی تھی۔ جاب بہت مصروف نہیں تھی، گھر میں کام کاج کے لیے ملازمہ بہت اچھی تھی، بچوں کو بھی بہت کم مدد چاہیے ہوتی تھی۔ مزید کچھ کرنے کو دل کرنے لگا۔ لکھنے کا سوچا۔

لکھنا شروع کر دیا۔ اپنا ایک بلاگ بنا لیا۔ مضامین کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیا تو کافی پذیرائی ملی۔ دوست، میکے اور سسرال سب نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ لکھنے میں کافی مزا آنے لگا۔ پذیرائی اور حوصلہ افزائی سے اپنی تحریروں پر اعتماد بھی بڑھتا گیا اور مضامیں ایک اخبار کو بھیجنا شروع کر دیے۔ مضامیں چھپنا شروع ہو گئے۔ اخبار میں نام کے ساتھ ساتھ اس کا ایک چھوٹے سائز کا فوٹوگراف بھی چھپنے لگا۔ دفتر میں عزت اور بھی بڑھ گئی۔

مضمون کے ساتھ فون نمبر بھی ہوتا تھا۔ اجنبی لوگوں کے تبصرے بھی آنے شروع ہو گئے۔ ان میں ہر طرح کے تبصرے تھے لیکن زیادہ تر اچھے اور حوصلہ افزا ہی ہوتے تھے۔ کبھی کبھار خاص موقعوں پر ذرا کم مصروف ٹی وی چینلز نے بھی بلانا شروع کر دیا۔ ایک چھوٹا سا پبلک پروفائل بننا شروع ہو گیا۔ زندگی اور مزے دار ہوتی گئی۔ لکھنے میں بھی ہاتھ اچھا چل گیا تھا۔ مشکل مضامین پر بھی ہاتھ ڈالنا شروع کیا۔ استطاعت اور مزہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ شوق بھی بڑھنے لگا۔

لوگوں کے ساتھ روابط بڑھنے سے پسے ہوئے طبقات کے متعلق جانکاری پہلے سے بہتر ہو گئی۔ عام لوگوں خاص طور پر عورتوں کے ذاتی مسائل ان کی اپنی زبانی سننے کو ملے تو ان مسائل کے بارے میں حساسیت بھی بڑھی۔ مظلوم اور دکھی لوگوں کی سچی کہانیاں مضامیں کا حصہ بنیں تو تحریروں کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی ایک مقصد شامل ہو گیا۔ اب وہ مضامین کی تلاش میں رہتی تھی۔ جاب کے سلسلے میں بھی وہ جب دوسرے شہروں اور دیہاتی علاقوں میں جاتی تو واپس آ کر نئے نئے مضامیں باندھتی رہتی۔ سچی کہانیوں کے گرد بنے گئے مضامین بہت پزیرائی پاتے۔ مزید کچھ کرنے کا سوچا اور لگا کہ سوچنا بنتا بھی ہے۔

اس دفعہ کچھ کرنے سے پہلے ایک خواب دیکھنا شروع کر دیا۔ خواب میں شعیب منصور، یش چوپڑا، نصیرالدین شاہ، عرفان خان، عامر خان، شان، نیلی، ریما، ملکہ جذبات بہار اور نہ جانے کیا کیا نظر آنے لگا۔ یہ وہ خواب تھا جسے وہ سوتے میں نہیں بلکہ دن کو جاگتے میں دیکھتی تھی۔ ظاہر ہے یہ خواب تھا اور اسے پورا کرنا ممکن نہ تھا۔ پورا نہ کر سکنے کی وجہ بحیثیت لکھاری ٹیلنٹ، ہنر اور تجربے کی کمی کا احساس تھا۔ خواب بہرحال چلتا رہا اور کبھی کبھار وہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ایک عملی کوشش کرنے کا بھی سوچتی تھی لیکن وہ کوشش بھی ایک خواب ہی بن جاتی۔

اب کی بار وہ جنوبی پنجاب کے دورے پر گئی تو ایک عجیب کہانی سننے کو ملی۔ ایک نوجوان لڑکی زرینہ نے ایک دارالامان میں خودکشی کر لی تھی اور اس لڑکی کی میت لینے کوئی نہ آیا تھا حالانکہ اس کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی تھی۔ یہ لوکل اخبارات کے لیے ایک خبر بن گئی۔ لڑکی تو شہر کے ہی ایک قبرستان میں دفن کر دی گئی تھی۔

اس نے لڑکی کے گاؤں اور اس کے گھر جانے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ زیادہ دور نہیں تھی۔ یہ جنوبی پنجاب کا ایک عام گاؤں تھا جہاں کے سارے لوگ ایک جیسے غریب تھے۔ سارے مکان کچے تھے۔ کسی گھر کی چاردیواری نہیں تھی۔ گلیاں اور صحن کھلے تھے۔ اکثر جگہوں پر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ صحن کہاں ختم ہوتا ہے اور گلی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ بجلی کے علاوہ کوئی شہری سہولت نہ تھی۔ لڑکی کو مرے صرف تین دن ہوئے تھے لیکن گاؤں میں موت کے دکھ سے زیادہ چہ مگوئیاں تھیں۔ وہ جب لڑکی کے گھر میں پہنچی تو لڑکی کی ماں پھٹ پڑی۔ وہ اتنا روئی کہ بس بیان کرنا مشکل تھا۔ لڑکی کے گھر میں دو چھوٹی بہنیں اور ایک بڑا بھائی تھا۔ کسی نے اسے کچھ بتایا نہیں۔

گھر والوں کے علاوہ اس کی ملاقات زرینہ کی ایک سہیلی سے ہو گئی جو اس کی رازدار بھی تھی۔ وہ اسے اپنے گھر لے گئی۔ چائے سے اس کی خاطر مدارت کی اور اسے زرینہ کی کہانی سنائی کہ کیسے اس کی ایک اجنبی مرد سے ملاقات اور دوستی ہوئی جس نے بعد میں زرینہ کو ایک موبائل فون بھی لے دیا۔ زرینہ اسی کی خاطر گھر چھوڑ کر چلی گئی لیکن چند ہی مہینوں میں اس کا ٹھکانا دارالامان ٹھہرا۔

اسے اس کہانی نے بہت متاثر کیا۔ اپنے لکھنے کے تجربے اور لوگوں کی کہانیاں سن سن کر وہ عورتوں کی بے بسی کے بارے میں کافی حساس ہو چکی تھی۔ یہ رنگ اس کی تحریروں میں بھی واضح تھا۔ اس نے اس کہانی کو ایک مضمون سے آگے لے جانے کا سوچ لیا۔ اسے اپنے خواب کے ساتھ جوڑ لیا۔

اس نے دو مہینے کی چھٹی لی اور سکون سے گھر میں رہ کر ایک فلم کی کہانی بن دی۔ اس فلم کے بہت سارے مکالمے بھی لکھ دیے۔ فلم کی کہانی اور مکالمے اس نے ایک بہت مشہور بہت ہی کامیاب ہدایت کار کو بھیج دیے اور ملنے کی درخواست بھی کی۔ وہ ہدایت کار اتنے قابل اور مشہور تھے کہ کسی بھی فلم کیے لیے ان کا نام ہی کافی تھا۔ وہ کتنے ہی عام لوگوں کو بڑا فنکار بنا چکے تھے۔ مختصر یہ کہ ان ہدایت کار صاحب کا نام جس فلم یا بندے کے ساتھ لگ جاتا کامیابی اس کے قدم چومتی۔ ہدایت کار صاحب نے اس کہانی کو پسند کیا۔ مکالمے بھی انہیں بہت جاندار لگے۔ انہوں نے پروڈیوسر سے بات بھی کر لی اور خاتون کو ملاقات کے لیے بلا لیا۔ یہ اس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز اور سرپرائز تھا۔ بڑے ہدایت کار صاحب نے اس کے کام کی تعریف کی اور بتایا کہ وہ یہ پروجیکٹ کر کریں گے۔

خاتون سے مل کر اور اس سے بات کر کے ہدایت کار صاحب کو بہت اچھا لگا تو انہوں نے لگے ہاتھوں اس کا آڈیشن بھی لے لیا۔ اسی فلم میں اس کو مین رول بھی مل گیا۔ اس فلم میں مردانہ مین رول کے لیے عرفان خان یا شان سے رابطہ کیا جا رہا تھا۔ بڑی کامیابی کا خواب پورا ہونے کو تھا۔

وہ گھر واپس پہنچی تو اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اس نے اپنا خواب اور اس کے پورے ہونے کے ساری کہانی فورا سنا ڈالی۔ اس کے شوہر کا جواب جوش و خروش سے خالی اور غیر متوقع تھا۔ شوہر نے کہا کہ فلموں میں کام کرنے کا فیصلہ کرنے لے لیے انہیں اپنے والدین کے ساتھ بھی مشورہ کرنا ہو گا۔ اس جواب پر وہ حیران پریشان رہ گئی۔ اس کے والدین اور سسرال کا جواب بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

اس نے ہدایت کار صاحب سے بات کی اور مدد مانگی۔ ان صاحب نے خلاف معمول اس کے سسرال اور والدین سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی۔ بڑے ہدایت کار صاحب سے ملاقات کے دوران اس کے بھائی اور شوہر نے اپنے لیے کسی بھی ڈرامے یا فلم میں سائیڈ رول لینے کی خواہش ضرور ظاہر کی لیکن اپنی بہن اور بیوی کے لیے یہ مناسب نہ سمجھا۔

اسے زندگی میں پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ عورت ہونے کی وجہ سے وہ بھی بہرحال ایک حد کے اندر رہ کر ہی آزاد ہے۔ یہ آگہی بڑی تکلیف دہ تھی۔ شعیب منصور، یش چوپڑا، نصیرالدین شاہ، عرفان خان، عامر خان، شان، نیلی، ریما اور ملکہ جذبات بہار خواب میں آنا بند ہو گئے۔ اب وہ اکثر اپنی بیٹی کے خوابوں کا سوچتی اور ڈر جاتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 194 posts and counting.See all posts by salim-malik