فقیرا …. فقیری دور ہے !


” چاچا لو تمہاری ساری پریشانیوں کا حل مل گیا ہے“
دیہاتی نوجوان ہانپتا ہو¿ا، بھاگتا گاﺅں کی چوپال میں تنہا بیٹھے اپنے دور کے معمر رشتہ دار کے پاس پہنچا تو گویا ہو¿ا۔
اس بوڑھے شخص پر چاچا کا لفظ پھبتی لگتی تھی۔ خاص طور سے جب انیس بیس سال کا نوجوان اسے اس لقب سے پکار رہا تھا۔ اس بزرگ کا چہرہ جھریوں سے بھرا تھا۔ آنکھیں ، چہرے پر بنے دو غیر معمولی گڑھوں میں ڈوبی ہوئی تھیں، سر کے بال سفید سے سفید تر ہو چکے تھے۔ اب یہ کہنا بھی زیادتی ہے کہ بزرگ کے بال بہت سفید تھے کیونکہ اس سر پر بالوں کے نام پر ہلکا سے رواں دکھائی دیتا تھا۔ گو کہ یہ کبھی بال ہی کی قسم کی چیز رہے ہوں گے لیکن اب ان کی ماہیت کو دیکھتے ہوئے صرف تفہیم کے لئے ہی بال کہا جا سکتا تھا۔ اسی طرح سفیدی کے بارے میں چہرے کی جھریوں کی مناسبت سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ بال نما چیز بہت سفید تھی لیکن درحقیقت اس رنگ کے بارے میں یقین سے کچھ کہنے کے لئے رنگوں کی تخصیص کرنے والے کسی ماہر سے مشورہ لینا ضروری ہو سکتا ہے۔
نوجوان بہت جوش میں تھا۔ وہ کئی میل سے بھاگتا ہوا گاﺅں پہنچا تھا۔ یہ بزرگ جسے اس نے چاچا کہہ کر پکارا تھا، اس کا دور کا رشتہ دار یوں تھا کہ پنجاب کے اس دور دراز گاﺅں میں ایک ہی خاندان یا برادری کے لوگ آباد تھے۔ اس لئے کہا جاتا تھا کہ سب ہی ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔ اس حوالے سے سب ایک دوسرے کو کسی نہ کسی رشتہ کی مناسبت سے پکارتے تھے۔ البتہ یہ بزرگ ایک ایسی شخصیت تھی جسے سب ہی چاچا کہتے اور اسے اس پر تعرض بھی نہ ہوتا تھا۔
چاچا اس دنیا میں تنہا تھا۔ وہ ان خوش نصیبوں یا بد نصیبوں میں شامل تھا جس نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ساری اولاد اور رشتہ داروں کو دفنایا تھا۔ گویا ہر ذمہ داری سے اپنے ہاتھوں سے فارغ ہو¿ا تھا۔ کہتے ہیں کہ چاچا کا ایک پوتا بھی تھا لیکن وہ نوعمری میں ہی اپنے ماں باپ سے کسی بات پر ناراض ہو کر گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ اب یہ سانحہ بیتے بھی دہائیاں ہو چکی تھیں۔ نہ اس ناراض نوجوان نے دوبارہ گاﺅں آنے کی زحمت کی اور نہ اس کے غریب ماں باپ میں اتنی استطاعت تھی کہ وہ اس کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے۔ البتہ جب تک اس لڑکے کا باپ زندہ رہا، وہ شہر جانے آنے والے ہر شخص کو یاد دلا دیتا کہ اس گاﺅں کا ایک بیٹا ناراض ہو کر شہر میں جا کر گم ہو گیا ہے۔ جانے والا گردن کی جنبش سے لڑکے کو تلاش کرنے کا وعدہ کرتا اور آنے والا نہ میں سر ہلا کر بوڑھے ماں باپ اور دادا کی امیدوں پر پانی پھیر دیتا۔
نہ کسی نے پوچھا کہ لڑکا کون سے شہر گیا ہے۔ نہ کسی کو پتہ تھا کہ شہروں کی بھی قسمیں اور نام ہوتے ہیں۔ اس دیہات کے باسیوں کو تب یہی پتہ تھا کہ بہت سے گاﺅں ہوتے ہیں جن کے لوگ ایک دوسرے سے مل لیتے ہیں اور ان دیہات سے اور ان کی دنیا سے دور کہیں کوئی بڑی آبادی ہے جسے شہر کہتے ہیں۔ اوّل تو گاﺅں سے کوئی شہر جاتا نہیں تھا۔ اگر ایسا موقع آتا تو یوں ہی سمجھا جاتا کہ وہ کسی دوسری دنیا کے سفر پر جا رہا ہے۔ ایک ایسا سفر جس کے نشیب و فراز ، حسن و خوبی اور مشکلات اور مصائب کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔ البتہ ہر شہر جانے والے کو گھبرائی حیرت زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے رخصت کیا جاتا اور ہر آنے والے کو یوں تعجب سے دیکھا جاتا گویا کوئی خلائی مخلوق وارد ہوئی ہو۔
یہ بہت سال پہلے کی بات تھی۔ پھر دن یوں تبدیل ہونے لگے گویا برسوں کا سفر طے کر رہے ہوں۔ ماحول بدلا۔ پتہ چلا کہ اب پانی نکالنے کے لئے بیل رہٹ نہیں جوتیں گے بلکہ ایک موٹر سے یہ کام لیا جائے گا۔ کیسے؟
یہ سوال بہت دن تک فضا میں گونجتا رہا پھر گاﺅں کے نمبردار نے کہیں دور سے ایک تار کھنچوائی اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لئے موٹر سے پانی نکالنا شروع کر دیا۔ سارا گاﺅں جمع ہو کر اس عجوبے کو دیکھنے لگا۔ چاچا نہیں آیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسے ہنر کو کیا دیکھنا جس سے بیلوں سے انسان کا رشتہ ختم ہو رہا ہے۔ تب سارے گاﺅں کو پتہ چلا کہ چاچا تنہا ہونے کے باوجود تنہا نہیں تھا۔ وہ کئی طرح کے رشتوں کی ڈور سے بندھا تھا۔ جس میں بیلوں کی وہ جوڑی بھی شامل تھی جو وہ جوانی میں رہٹ اور ہل چلانے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ پھر اچانک اس کے بچوں کی ماں ایسی بیمار ہوئی کہ دور کے گاﺅں سے ایک زیرک حکیم کو بلوانا پڑا۔ ان کے آنے جانے اور دوائیں بنانے کا خرچ پورا کرنے کے لئے چاچا کو بیلوں کی جوڑی بیچنا پڑی۔ پھر کبھی ویسی جوڑی اسے نصیب نہ ہوئی۔
سب کو راہ عدم پر رخصت کرنے والا چاچا جب بھی کسی نئی ایجاد کی خبر سنتا تو کم ہی حیرت کا اظہار کرتا۔ البتہ جب گاﺅں کے ایک نوجوان نے ایک گھر کی ٹوٹی پھوٹی بیٹھک میں جس کی دیوار ڈھے چکی تھی اور جسے سب چوپال کہتے تھے …. بیٹری سے چلنے والا ایک ٹیلی ویڑن چلایا تو گا?ں کے لوگوں نے پہلی بار چاچے کی آنکھوں میں چمک دیکھی۔ اور وہ حیرت سے گویا ہو¿ا: ” یہ تو بولتا بھی ہے۔ تصویر بھی دکھاتا ہے“
پھر چاچا سارا دن اور رات گئے تک ٹکٹکی باندھے ٹیلی ویڑن دیکھتا رہتا۔ البتہ اس کی سب سے زیادہ دلچسپی خبروں اور تبصروں میں ہوتی۔ وہ غور سے سب باتوں کو سنتا اور پھر اپنے طور پر گاﺅں کے دوسرے لوگوں کے سامنے ان معلومات کو دہراتا اور تجزیہ کرتا۔ وہ مسلمانوں کے نفاق اور دنیا بھر میں ان پر ہونے والی تنقید پر دکھی رہتا۔
آہستہ آہستہ اس نے دنیا میں رونما ہونے والے واقعات پر اتنی دسترس اور مہارت حاصل کر لی کہ گاﺅں کے چھوٹے بڑے لوگ معلومات میں اضافہ کے لئے اس سے سوال کرنے لگے۔ اگر دو لوگ کسی واقعہ کے بارے میں الجھ جاتے تو بات یہیں پر ختم ہوتی کہ چلو چاچا سے تصدیق کروا لیتے ہیں۔
پھر چاچا انہیں بتاتا کہ ہاں مسلمانوں نے دو جہاز نیویارک کی سب سے بڑی عمارت سے جا ٹکرائے۔ تین ہزار لوگ مارے گئے، امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور صدام کو پھانسی لگا دی۔ اسرائیل نے غزہ میں تباہی مچا دی۔ نائیجیریا میں مسلمان گروہ نے کئی سو لڑکیاں اغوا کر لیں اور یہ کہ اب طالبان ، القاعدہ اور بوکو حرام، الشباب کے بعد داعش کے نام سے ایک گروہ شام اور عراق میں سامنے آیا ہے جس نے خلافت قائم کر لی ہے۔ یہ گروہ لوگوں کی گردنیں کاٹتا ہے اور عورتوں کی منڈیاں لگاتا ہے۔
” توبہ توبہ “ چاچا یہ ذکر کرتے ہوئے شرمندہ اور آبدیدہ ہو جاتا۔
” یہ کیسی خلافت ہے۔ یہ ظالم تو اسلام ، شریعت اور خلافت سب کا نام بدنام کرنے پر لگے ہیں۔“ چاچا اس بات پر کڑھتا تھا کہ مسلمان ہی مسلمان کا گلا کاٹ رہے ہیں۔
”یہ کیسے قرآن اور سنت کے ماننے والے ہیں۔ جنہیں رحم کرنا نہیں آتا۔ جو اپنے ہی بھائیوں کو مار کر اپنا جھنڈا اونچا کرنا چاہتے۔“
چاچا اس بات پر پریشان تھا کہ مسلمانوں کی حکومت کبھی قائم نہیں ہو گی۔
” مگر مسلمانوں کی حکومت تو دنیا کے 50 سے زائد ملکوں میں قائم ہے“ کوئی دیہاتی اسے اداس دیکھ کر بتانے کی کوشش کرتا۔
” یہ کیسی حکومتیں ہیں میرے لال …. یہ تو بے بس ، بے توقیر حکمران ہیں جو کم ہمت اور لاچار ہیں۔ یہ تو بڑی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف ہی گروہ بندی کرتے ہیں۔ یہ کیسی حکومت ہے۔“ بات بتانے والا لاجواب ہو جاتا اور چاچا اداس نظروں سے ٹیلی ویڑن دیکھنے یا دونوں ٹانگیں پیٹ میں سکیڑ کر گٹھری سی بنا ایک کونے میں پڑ رہتا۔
آج یہ نوجوان ہانپتا کانپتا تھکا ہارا چوپال میں پہنچا تو ٹیلی ویڑن بند تھا اور چاچا ایک کونے میں خاموش بیٹھا فضا میں گھور رہا تھا۔ نوجوان اس کے لئے خوشخبری لایا تھا۔
” چاچا۔ چاچا تمہاری ساری پریشانیوں کا حل لے کر آیا ہوں۔ مٹھائی منگاﺅ۔ ابھی خوشخبری سناتا ہوں۔“
چاچے پر اس پرجوش ابتدائیہ کا کوئی خاص اثر نہ ہو¿ا مگر اس نے چہرے کی ہڈیوں میں دھنسی آنکھیں پھاڑ کر نوجوان کو دیکھا گویا کہہ رہا ہو: ” بولو میں سن رہا ہوں“
نوجوان سے مسرت چھپائے نہ چھپتی تھی۔ بولا:
” میں ابھی ساتھ والے گاﺅں میں ماسٹر صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔ انہوں نے اخبار میں سے ایسی خبر سنائی کہ دل خوش ہو گیا۔ میں نے سوچا سب سے پہلے تمہیں بتاتا ہوں۔“
نوجوان نے ذرا سانس لیا۔ پاس رکھے کولر میں پانی کا گلاس بھر کر پیا اور بولا:
” خبر میں لکھا تھا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد اگلے بیس تیس سال میں دوگنی ہو جائے گی۔ اسی طرح دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ ماسٹر صاحب کہتے تھے کہ جتنے مسلمان زیادہ ہوں گے ، اتنی ہی ان کی طاقت میں اضافہ ہو گا۔ کفر کو نیچا دکھانا آسان ہو جائے گا“
چاچا مایوسی نما حیرت سے نوجوان کو دیکھتا رہا۔
” چاچا تم خوش نہیں ہوئے“ نوجوان نے بے قراری سے پوچھا
” کس بات پر“ چاچے نے مایوسی سے ماتھے پر ہاتھ مارا اور بولا:
” ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت تھی، کیا وہ کثرت میں تھے۔ پھر انگریزوں نے ہندوستان کو غلام بنا لیا اور تین سو سال یہاں حکومت کی۔ کیا وہ اکثریت میں تھے؟
بات آبادی کی نہیں۔ عمل کی ہے۔ بات کہنے کی نہیں کرنے کی ہے۔
مسلمان نے اپنا آپ چھوڑ دیا بس نام اور تعداد کو لے کر بغلیں بجانے سے کیا ہو گا۔
نہ تم سچ بولتے ہو
نہ ظلم کو مسترد کرتے ہو
نہ رحم اور انسان سے محبت تمہاری عادت رہی ہے
تم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور اپنی انا یا فائدے کے لئے دوسروں کا گھر جلانے والے لوگ بن چکے ہو
اقتدار اور کامیابی ابھی بہت دور ہے۔ “
چاچا بولتے بولتے خاموش ہو گیا۔
پھر اس کی آواز کہیں دور سے سنائی دی۔ جیسے خود ہی سے بات کرہا ہو۔
” بیس سال کے نوجوان نے سینکڑوں لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ ماں اسے دہشت، وحشت اور ظلم سے بچانا چاہتی تھی۔ وہ اسے کہتی تھی کہ اس گروہ کا ساتھ چھوڑ دو جو تمہیں انسانوں کو قتل کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ آو¿ کہیں امن کا گوشہ تلاش کریں“۔
بیٹے نے اپنے امیر سے پوچھا اور ماں کو موت کی نیند سلا دیا۔
وہ گولیاں مارتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا:
” یہ دین کی لڑائی ہے۔ اس کے راستے میں جو بھی آئے گا اسے ختم کرنا ہوگا۔“
موت پھیلانے والا یہ کون سا دین ہے۔
ماں کو بیٹے کے ہاتھوں قتل کروانے والا یہ کون سا پیغام حق ہے۔
تم کہتے ہو ہماری آبادی بڑھ رہی ہے۔ تو پھر مارنے والے بھی تو بڑھیں گے۔
نہ بیٹا ابھی منزل دور ہے۔
ابھی کامیابی ہمارا مقدر کہاں۔ ہمارا مقدر…. “
نوجوان حیرت سے چاچے کو تکتا رہا۔ پھر اس کا کندھا پکڑتے ہوئے پکارا:
” چاچا تم اتنے مایوس کیوں ہو۔“
چاچے کی گردن ایک طرف لڑھک گئی۔
وہ اپنے بچھڑے ہوﺅ ں کے پاس جا چکا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali