ناروے میں مُسلمانوں کو درپیش چیلنج


\"masoodپچھلے دنوں \” آزاد الفاظ\” کے ایوان میں ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی تھی ، جس میں اسلام کو اسلامیت میں بدل کر اشتراکیت اور نازیت کے ہم معنی ، ہم مزاج اور ہم متن قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی ۔ کتاب کی تقریبِ رونمائی میں کچھ ایسے چہرے بھی تھے جنہیں ناروے کی حکمران قوتوں کے نمائندے کہا جا سکتا ہے ۔

ظاہر ہے اس طرزِ فکر کے پیچھے کوئی منظم قوت موجود ہے جو اسلامیت کے نام پر ناروے میں مقیم مسلمانوں کو ملک کے گلی کوچوں میں انتقام کا نشانہ بنا نا چاہتی ہے اور آج 18 جون کی سہ پہر کو درامن میں ریلوے سٹیشن کے عین سامنے ایک پراپیگنڈہ مہم دیکھنے میں آئی جس میں مقررین اسلام کے خلاف لفظی گولہ باری کر رہے تھے ۔ مقررین اتنے غضبناک تھے کہ وہ مونہہ سے مسلمانوں پر دستی بم پھینکنے کے علاوہ \” آ بیل مجھے مار \” کا پیغام بھی نشر کر رہے تھے ۔ اسی مظاہرے میں کچھ خواتین و حضرات (نارویجین اور غیر نارویجین ) مل کر مسلمانوں کی حمایت میں دیوار بنائے کھڑے تھے ۔ اور جب ایک نارویجین خاتون نے آزادیء اظہار کے اس بھیانک شو کے خلاف جملہء اعتراض کہا تو آگ برساتی مقررہ نے بالکل خواجہ آصف کے انداز میں کہا :

\” تم میں تو شرم کی رتی بھی نہیں \” ۔ اور یہ جملہ انتہائی نفرت انگیز لہجے میں دوہرایا بھی گیا ۔

اس مظاہرہ نما جلسے میں جس کے شرکاء کی تعداد تین پولیس والوں ، مظاہرے کے خلاف کھڑے دس بارہ احتجاجیوں سمیت پچیس سے زیادہ نہیں تھی ، ایک چار صفحات کا لیف لیٹ بھی تقسیم کیا جا رہا تھا ، جو مجھے بھی تبرک کے طور پر دیا گیا ۔ اس لیف لیٹ میں تنظیم کا نام لکھا تھا :

ناروے کو اسلامی رنگ میں رنگنا بند کرو ۔

لیف لیٹ کا عنوان ہے:

ناروے کو امن کے دین سے خطرہ ہے

تحریر کے اختتام پر وہی بد نامِ زمانہ کارٹون چھپا ہے جو ڈنمارک میں ایجاد ہوا تھا اور جسے ناقابلِ اشاعت قرار دیا جا چکا ہے مگر آزدایء اظہار کے نام پر اسے بار بار شائع کیا جا رہا ہے ۔ پمفلٹ کا متن کیا کہتا ہے ، چلیے میرے ساتھ مل کر اس کی خواندگی کیجیے۔

\” یہ جھوٹ ہے کہ اسلام امن کا دین ہے ۔ اسلام ایک باقاعدہ تشدد کا دین ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو ہدف بناتا ہے ۔ لفظ اسلام کا مطلب عجز و انکسار سے اطاعت ہے ۔ اسلامی نقطہء نظر سے امن جنگ کی عدم موجودگی کا نام ہے جب کہ اسلام سے اختلاف کرنے والی ہر قوت کو تہ تیغ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یا تو ہم قتل کر دئے جائیں یا اسلام کے مطیع ہو کر رہیں اور مسلمان مافیا کو وہ جبری ٹیکس ادا کریں جسے جزیہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن کی آٹھویں سورت کی اُنتالیسویں آیت اور نوین سورت کی انتیسویں آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام کا دامن امن اور آزادی سے خالی ہے ۔ اس کے بعد سوال کیا گیا ہے کہ اگر اسلام سچ مچ امن کا دین ہے تو :

اسی بارے میں: ۔  گورنر عشرت العباد، سبکدوشی کی روداد

۔۔۔ بہت سے لوگ اسلام پر تنقید کو جان لیوا کیوں سمجھتے ہیں ؟ اسلام میں تنقید کیوں برداشت نہیں کی جاتی، خواہ وہ تنقید جائز ہو یا ناجائز ۔ کیا اسلامی شریعت میں تنقید جرم ہے ؟

قرآن کہتا ہے جو اللہ اور اُس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ایذا دے اُس کی سزا موت ہے جو نارویجین قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔

۔۔۔ یہ بھی جھوٹ ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ جائزے اور اعداد و شمارکے کے مطابق ہمارے عہد میں سارے دہشت گرد مسلمان ہیں اور وہ اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کرتے ہیں ۔ حقیقت میں قرآن و سنت دہشت گردوں کے تحریری رہنما ہیں ۔

اس کے علاوہ یہ الزام بھی رقم ہے کہ مسلمانوں نے پچھلے چودہ سو سال میں دو سو ستر ملین غیر مسلم قتل کیے ہیں ۔ قرآن کی متعدد آیات کے حوالے بھی درج کیے گئے ہیں، جن میں عدم برداشت ، تشدد اور جہاد کا حکم ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن کی کسی ایک آیت میں بھی غیر مسلموں سے حُسنِ سلوک کا ذکر نہیں ملتا ۔ چنانچہ قرآن زندگی کے سنہری اصولوں سے خالی مذہب ہے جو کافر اور مشرک سے اس قدر نفرت کرتا ہے اور ایسا امتیاز روا رکھتا ہے کہ وہ ہمیں جانوروں سے بھی کم تر سمجھتا ہے ۔

اس کے بعد پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر آٹھ ایسی تہمتیں باندھی گئی ہیں کہ جو کسی بھی سادہ لوح مسلمان کو اس قدر آگ بگولہ کر سکتی ہیں کہ وہ مارنے مرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے ۔ یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ سیرتِ بنوی کا سرسٹھ فی صد حصہ جنگ و جدل کی کہانی ہے اور مشرکوں کی گردن مارنا اسلام کا اہم ترین جزو اور عمومی رویہ ہے ۔ سیرت میں سے یہ بھی ڈھونڈ کر نکالا گیا ہے کہ مسلمان پر پوری دنیا کے خلاف جہاد فرض ہے ۔ اور یہ کام نیک دل مسلمانوں نے پچھلے چودہ سو سال سے شروع کر رکھا ہے ۔

اسی بارے میں: ۔  پاناما لیکس اور جمہوری روایات

دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ جن ملکوں میں وہ رہتے ہیں وہاں اسلامی شریعت بطور قانون نافذ ہو ، جبکہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت سنہ 2003 میں یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ اسلامی شریعت ، جمہوریت اور انسانی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

اسلام نارویجین طرزِ زیست ، ثقافت اور قانونی ڈھانچے کو قبول نہیں کرتا ۔ اسلام ہماری آزادی کی اقدار اور ہمارے سیکولر نظامِ حکومت سے نفرت کرتا ہے اور وہ ناروے کو اسلامیانے کا عمل اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ ہماری تہذیب ملیا میٹ نہیں ہو جاتی ۔ اور نارویجین لوگ یا تو مار نہیں دئے جاتے یا غلام نہیں بنا لیے جاتے ۔ یہ قرآن میں اللہ کا واضح حکم ہے ۔ چنانچہ نارویجین لوگوں کو اپنی آزادی کی قدروں کی حفٖاظت کے لیے اسلام کے تاریک چہروں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا ہو گا اور یہ ابھی ہوگا ورنہ کبھی نہیں ۔ اسلام ہماری مغربی تہذیب کا خاتمہ کر کے ہم پر فسطائی اور صحرائے عرب کی قبائلی بربریت کو نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ آؤ ، ہم سب اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اسلام کی اصل حقیقت کو جان لیا جائے ۔

اس تحریر کے آخر میں وہی رسوائے زمانہ کارٹون چھاپا گیا ہے ، جسے ناقابلِ اشاعت قرار دیا چکا ہے.

میں اس تحریر پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ، میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ ناروے کے مسلمانوں کی دینی تنظیمیں جو سرکاری فنڈز پر چلتی ہیں، عقل اور آنکھیں رکھتی ہیں یا نہیں ۔ کہاں ہے اسلامسک رود ؟

( مسلمان مساجد کی فیڈریشن) اور میں سوچ رہا ہوں کہ اس ملک میں ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مسعود منور

(بشکریہ کاروان ناروے)

masood-munawar has 13 posts and counting.See all posts by masood-munawar

One thought on “ناروے میں مُسلمانوں کو درپیش چیلنج

  • 22-06-2016 at 11:30 am
    Permalink

    مسعود بھائی، ناروے میں دین اسلام اور مسلمانوں سے نفرت و تعصب اور ان دونوں کی بیخ کنی کے لیے ناروے میں شائع ہونے والے ایک لیف لیٹ کے حوالے سے جو کچھ آپ نےلکھا ہے، بد قسمتی سے وہی کچھ ڈنمارک میں بھی ہو رہا ہے بلکہ اسلام دشمنی میں ڈنمارک توناروے سے بھی کہیں زیادہ آگے ہے ۔ اور یہاں کے بعض حلقے تو قرآن پر مُلک میں پابندی لگا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ آپ ناروے میں اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں اور آپ کا یہ پوچھنا بیشک درست اور واجب ہے کہ ’’ ناروے کے مسلمانوں کی دینی تنظیمیں جو سرکاری فنڈز پر چلتی ہیں، عقل اور آنکھیں رکھتی ہیں یا نہیں ۔ کہاں ہے اسلامسک رُود ( اسلامی کونسل) ؟‘‘

Comments are closed.