سفارت کاری میں بھارت کے بدلتے رنگ


\"sushma-swaraj\"بھارت نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ این ایس جی کی رکنیت کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس بارے میں نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے اس گروپ کا رکن بننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ این ایس جی 48 ملکوں پر مشتمل ایک گروپ ہے جو دنیا میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق آلات و صلاحیت کی تجارت پر کنٹرول کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ اب بھارت، امریکہ کے تعاون سے اس گروپ کا رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر صدر باراک اوباما نے بھارت کی اس گروپ میں شمولیت کی پرزور حمایت کی تھی۔ اس کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اس گروپ کے تمام ملکوں پر زور دینا شروع کیا تھا کہ وہ بھارت کی شمولیت کی حمایت کریں۔ تاہم چین کا مؤقف ہے کہ بھارت جب تک ایٹمی روک تھام کے عالمی معاہدے NPT پر دستخط نہیں کرتا، اس وقت تک اس گروپ میں اس کی شمولیت ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہو گی جن کےلئے یہ گروپ 1974 میں قائم ہوا تھا۔

امریکہ نے 1974 میں بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد اس گروپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکہ کا موقف تھا کہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت ہے۔ نئے ملکوں کو دھماکے کرنے اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس لئے اس گروپ میں ایسے تمام ملکوں کو شامل کر لیا گیا تھا جو یا تو ایٹمی طاقت تھے یا وہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کےلئے آلات اور مواد کی تجارت کرتے تھے۔ اس طرح یہ گروپ باہمی مشاورت سے صرف ان ملکوں کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتا رہا ہے جو اسے صرف سول مقاصد کےلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بھات کے بعد خود حفاظتی کے نقطہ نظر سے پاکستان نے بھی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ امریکہ کے علاوہ دیگر طاقتوں کے زبردست دباؤ کے باوجود 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تھے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کے ساتھ دشمنی اور ضد کے رشتہ کی وجہ سے وہ صرف ایٹم بم حاصل کر کے ہی قومی سلامتی و یکجہتی کا تحفظ کر سکتا ہے۔

اس وقت دنیا میں 5 ملکوں ۔۔۔۔۔۔ امریکہ ، روس ، چین ، فرانس اور برطانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کو باقاعدہ ایٹمی طاقت مانا جاتا ہے لیکن بھارت اور پاکستان بھی ڈی فیکٹو ایٹمی طاقت بن چکے ہیں۔ چونکہ ان دونوں ملکوں نے ایٹمی پھیلاؤ کی روک تھام کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کئے اس لئے انہیں باقاعدہ ایٹمی طاقت نہیں مانا جاتا۔ اسی لئے این ایس جی کے اراکین ان دونوں ملکوں سے بلا روک ٹوک جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کی تجارت بھی نہیں کرتے۔ البتہ گزشتہ چند برس میں امریکہ نے بھارت کے بارے میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے نئی دہلی کو خصوصی مراعات دینے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ امریکہ ایک طرف بھارت کی وسیع منڈیوں کو اپنی صنعتوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کےلئے استعمال کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف بھارت کو ایشیا میں بڑی فوجی طاقت بنا کر چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں امریکہ نے 2006 میں بھارت کے ساتھ سویلین نیوکلیئر معاہدہ کیا تھا لیکن پاکستان کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکہ کے اثر و رسوخ ہی کی وجہ سے این ایس جی NSG نے 2008 سے بھارت کو استثنیٰ دے دیا تھا۔ اس طرح بھارت تمام رکن ملکوں سے جوہری تجارت کرنے میں آزاد ہے۔ تاہم گزشتہ ایک برس کے دوران بھارت نے امریکہ کے تعاون سے این ایس جی کا باقاعدہ رکن بننے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ امریکہ اور بھارت کی خواہش ہے کہ اس ماہ کے آخر میں جنوبی کوریا میں این ایس جی کا جو اجلاس ہو رہا ہے، اس میں بھارت کو گروپ کا رکن بنا لیا جائے۔

تاہم چین کی طرح اس گروپ کے متعدد دوسرے رکن ملکوں نے بھی بھارت کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ اعتراض بنیادی طور پر اسی اصول کی بنیاد پر ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT پر دستخط کئے بغیر کسی ملک کو اس گروپ کا رکن بنانا ، اس کے بنیادی مقصد سے انحراف کا باعث ہو گا۔ اس عالمی معاہدے پر دستخط کئے بغیر اس بات کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی کہ بھارت اس گروپ کی رکنیت کے ذریعے جوہری مواد اور ٹیکنالوجی تک جو دسترس حاصل کرے گا ، اسے ایٹم بم بنانے کےلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ رکنیت کےلئے بھارت کے اصرار اور امریکہ کی طرف سے لابی کرنے کی کوششوں کے بعد پاکستان نے بھی گزشتہ ماہ اس گروپ میں شرکت کی باقاعدہ درخواست دائر کر دی تھی۔ اس ماہ کے شروع میں واشنگٹن میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے امریکی حکام کو ایک خط میں اپنی درخواست کی حمایت کرنے کےلئے کہا تھا۔ تاہم امریکہ کا موقف ہے کہ اگر اس گروپ میں پاکستان کے حق میں اتفاق رائے ہو گیا تو وہ بھی اس کا رکن بن جائے گا۔ یہ امریکی موقف بھارت کی رکنیت کےلئے اختیار کی جانے والی پالیسی سے قطعی مختلف ہے۔ اس بارے میں امریکی نمائندوں کے بیانات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ این ایس جی NSG میں پاکستان کی رکنیت کی حمایت نہیں کرتا لیکن کھل کر اس کا اظہار کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ پاکستان نے ماضی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سرکردگی میں ایران اور شمالی کوریا کو جوہری صلاحیت فراہم کر کے مسلمہ عالمی اصولوں کی خلاف ورزی کی تھی، اس لئے گروپ کے دیگر رکن ممالک از خود پاکستان کی درخواست مسترد کر دیں گے۔ یہ اندازہ مبنی بر حقیقت بھی ہے۔ این ایس جی NSG میں پاکستانی رکنیت کی مخالفت کرنے والے ملکوں کی اکثریت ہے جن میں ممکنہ طور پر امریکہ بھی شامل ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی مخالفت چین ، نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا ، سوئٹزر لینڈ ، میکسیکو اور چند دوسرے ملک کر رہے ہیں۔

بھارت کی طرف سے مخالفانہ رائے رکھنے والے ان ملکوں کو رام کرنے کےلئے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دورہ امریکہ کے علاوہ سوئٹزر لینڈ اور میکسیکو کا دورہ بھی کیا تھا۔ اب وزیر خارجہ سشما سوراج نے بتایا ہے کہ وہ خود 23 ملکوں سے رابطے میں ہیں۔ ان میں سے ایک دو کو کچھ اعتراضات ہیں لیکن ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سشما سوراج کی پریس کانفرنس سے پہلے یہ خبر آ چکی تھی کہ بھارت کے سیکرٹری خارجہ ایس جے شنکر نے گزشتہ ہفتے کے شروع میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔ اس خفیہ دورہ کا مقصد چین کو این ایس جی NSG میں بھارت کی رکنیت کی تائید کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔ آج بھارتی وزیر خارجہ نے اس دورہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین بھارتی درخواست کی مخالفت نہیں کر رہا بلکہ اسے ضابطے کے طریقہ کار پر کچھ اعتراضات ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان اعتراضات کو دور کر لیا جائے گا۔ اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بھارت اس گروپ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت نہیں کرے گا۔ یہ بھارتی موقف بھی دراصل چین کو مطمئن کرنے کےلئے اختیار کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ چین کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کئے بغیر بھارت کی شمولیت کےلئے استثنیٰ دینے کی بات اسی وقت قابل قبول ہو سکتی ہے اگر پاکستان کو بھی یہ سہولت دی جائے۔

حیرت انگیز طور پر بھارت کو اپنی رکنیت کےلئے چین اور چند ایک ملکوں کی مخالفت کا سامنا ہے لیکن وہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کےلئے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں 48 رکنی گروپ میں پاکستان کے مخالفین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن پاکستان کی طرف سے ان ممالک سے رابطہ کرنے اور انہیں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کی کوئی خاص سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دو ہفتے قبل اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے دوسرے درجے کے ایک افسر نے چند ملکوں کے سفیروں کو بلا کر پاکستانی رکنیت کےلئے اپنا موقف ضرور پیش کیا تھا یا مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے چند ملکوں کے وزرائے خارجہ کو ٹیلی فون کئے ہیں۔ پاکستان کی ساری امیدیں چین کی تائید سے بندھی ہیں۔ 48 رکنی گروپ کا ایک بھی رکن اگر مخالفت کرے تو نئے ممبر کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن پاکستان کا خیال ہے کہ چین کی اعانت سے یا تو وہ بھات کو این ایس جی NSG کا رکن نہیں بننے دے گا۔ یا اپنی مخالفت کے باوجود بھارت کی رکنیت کے ساتھ پاکستان کی شمولیت کو مشروط کروا کے، اس گروپ کا ممبر بنا جا سکے گا۔ یہ منفی حکمت عملی کسی ذمہ دار ملک کی باوقار خارجہ پالیسی کے شایان شان نہیں ہے۔

اس دوران امریکہ کے نیو یارک ٹائمز اور چین کے سرکاری اخباروں نے گروپ میں بھارت کی شمولیت کی مخالفت کی ہے۔ چین کے اخبار کا موقف ہے کہ این ایس جی میں بھارت کی شمولیت پاکستان یا چین کےلئے اچھی خبر نہیں ہو گی کیونکہ اس سے جنوبی ایشیا میں جوہری عدم استحکام میں اضافہ ہو گا۔ اخبار نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ایٹمی خواہشات میں اندھا نہ ہو جائے کیونکہ اس حکمت عملی سے علاقے میں ایٹمی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے بھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کو بنیاد بنا کر بھارتی رکنیت کی مخالفت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر بھارت کو اس اہم گروپ کا رکن بنایا گیا تو پاکستان تنہا رہ جائے گا اور وہ اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کےلئے کوئی بھی ہتھکنڈہ اختیار کر سکتا ہے۔ اخبار نے ماضی میں پاکستان کی طرف سے ایران اور شمالی کوریا کو جوہری صلاحیت فراہم کرنے کی بے قاعدگی کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کےلئے پاکستان اور بھارت کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کرنےکی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ملک این ایس جی کی رکنیت چاہتے ہیں تو انہیں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT پر دستخط کرنے پر اتفاق کر لینا چاہئے تاکہ جنوبی ایشیا میں مہلک ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام ہو سکے۔

آج بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پریس کانفرنس میں پاکستان کے بارے میں متوازن اور مفاہمانہ رویہ اختیار کیا اور متعدد سوالوں کے جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات معطل نہیں کئے گئے بلکہ صرف موخر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پٹھان کوٹ سانحہ کی تحقیقات میں بھی تعاون کیا ہے۔ البتہ بھارت اس سانحہ کے بارے میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے رویہ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت این ایس جی NSG کی رکنیت کےلئے دنیا کے طاقتور ملکوں کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تصادم کا خواہشمند نہیں ہے۔ بلکہ مشکلات کے باوجود ہمسایہ ملک کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتا ہے۔ یہ اگرچہ ایک مثبت رویہ ہے لیکن بھارت کو عارضی مقاصد کےلئے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی بجائے، مستقل بنیادوں پر مسائل کو حل کرنے اور بہتر دوستانہ تعلقات استوار کرنے کےلئے اقدام کرنا ہو گا۔ اس صورت میں بھارت اور پاکستان دونوں کو فائدہ ہو گا اور وہ مل کر علاقے میں اقتصادی امکانات سے استفادہ کر سکیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali