ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری کے لیے ماجد خان کی تجاویز


پاکستان میں حکومت تبدیل ہو تو کرکٹ بورڈ کا چئیرمین بھی نیا آتا ہے، جو اپنے فہم کے مطابق پالیسیاں بناتا ہے۔ ماضی اور حال میں بڑا فرق عظیم کرکٹرعمران خان کے وزیر اعظم بننے سے پیدا ہوا ہے، اس لیے سابق حکمرانوں کی بہ نسبت ان کے ذہن میں پاکستان کرکٹ کو ترقی دینے کا پورا خاکہ موجود ہے، جس پر وہ عمل کرانا چاہتے ہیں ۔ وہ پاکستان میں رائج ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں ، جس میں ڈیپارٹمنٹ کرکٹ انھیں سب سے زیادہ کھلتی ہے۔ ان سے ایک انٹرویو میں جب یہ پوچھا گیا کہ ہمارا نظام اتنا برا ہے تو پھر یہ عظیم کرکٹر کیسے پیدا کرتا رہا؟ اس پر ان کا جواب تھا کہ بڑے کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کی وجہ سے نہیں ، اس کی خرابی کے باوجود سامنے آئے۔

عمران خان ڈومیسٹک کرکٹ کے دنیا میں رائج نظاموں میں آسٹریلیا کے شیفلڈ شیلڈ کو پسند کرتے ہیں جس میں چھ ریاستوں کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں ۔ ان کے بقول، ’آسٹریلیا میں ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام معیاری اور مسابقتی ہے، اس لیے کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ میں آتا ہے تو اسے ایڈجسٹ کرنے میں دشواری نہیں ہوتی جبکہ پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کے ناقص ہونے کی وجہ سے کرکٹر قومی ٹیم کا حصہ بنتا ہے تو وہ مضبوط حریف کے سامنے اور بولنگ کے لیے سازگار وکٹوں پر اچھا پرفارم نہیں کر پاتا۔ ،

آسٹریلیوی شیفلڈ شیلڈ کی طرز پر عمران خان پاکستان میں بھی کم ٹیموں کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ قابل عمل نہیں ، ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ آسٹریلیا اور پاکستان کی آبادی میں بڑا نمایاں فرق ہے۔ آسٹریلیا کی آبادی ڈھائی کروڑ جبکہ پاکستان کی بیس کروڑ ہے۔ دوسرے آسٹریلیا کا نظام سو سال سے پرانا اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ سے پہلے کے مراحل کا معیار بھی اونچا ہے مثلاً کلب کرکٹ کو ہی لیجیے، جسے آسٹریلین کرکٹ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے یہاں کلب کرکٹ کا حال بہت ہی پتلا ہے اور سکول، کالج اور یونیورسٹی کرکٹ کی حالت بھی دگرگوں ہے اس لیے نیا نظام بنانے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ ہمیں اپنے حالات کے مطابق کوئی ایسا نظام وضع کرنا ہے جو پاکستان کرکٹ کو آگے لے جائے کیونکہ صرف ڈیپارٹمنٹ کرکٹ ختم کرنے سے معاملات بہتر نہیں ہوں گے۔

ممتاز کرکٹراور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ماجد خان نہ صرف پاکستان بلکہ کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک میں رائج ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام سے گہری واقفیت رکھتے ہیں ۔ ان کے پاس ڈومیسٹک کرکٹ سنوارنے کا پورا منصوبہ ہے، جس پر اگر عمل ہو جائے تو پاکستان کرکٹ بہتری کی راہ پر چل سکتی ہے، اس منصوبے کے خدوخال کیا ہیں اور یہ کس طرح بروئے کار آ سکتا ہے، اس کے بارے میں ان سے ہماری جو تفصیلی گفتگو ہوئی وہ ”ہم سب“ کے پڑھنے والوں کی نذر ہے :

* فرسٹ کلاس کرکٹ کی خرابیوں کو دور کیسے کیا جا سکتا ہے؟

” میرے ذہن میں ڈومیسٹک کرکٹ کا جو ڈھانچہ ہے، اس میں گیارہ فرسٹ کلاس ڈویژنل ٹیمیں ہوں گی۔ ہرٹیم اکتوبرسے مارچ تک کے سیزن میں دس چارروزہ میچ کھیلے گی۔ ڈویژنل ٹیم چارڈسٹرکٹس سے منتخب کردہ کھلاڑیوں پرمشتمل ہو گی۔ فی میچ کھلاڑی کامعاوضہ چالیس ہزارہوگا، بورڈ کے پاس پیسے زیادہ ہوں تو اسے بڑھایابھی جاسکتا ہے۔

دس میچوں سے کھلاڑی چار لاکھ کی معقول رقم کما سکے گا۔ اکتوبرسے مارچ کے دوران لیگ ٹورنامنٹ ہوگا، جس میں ہر وہ چار ڈسٹرکٹس، جن سے مل کرایک ڈویژنل ٹیم بنے گی، آپس میں چوبیس میچ کھیلیں ۔ بارہ اپنے ڈسٹرکٹ میں ۔ بارہ باہرجا کر۔ یہ میچ تین دن کے ہوں گے۔ ابتدائی طور پر معاوضہ پانچ ہزار ہو، اگربورڈ کے پاس پیسہ زیادہ ہے اوراسپانسرز ہیں تو معاوضہ بڑھایا جا سکتا ہے۔

ہرڈسٹرکٹ کا الگ سے کوچ اوردوامپائرہوں گے۔ ہرڈویژن کی ٹیم، تین سلیکٹر ڈسٹرکٹ میچزدیکھ کرمنتخب کریں گے۔ ڈویژن کی ٹیم نے چھ ماہ میں دس میچ کھیلنے ہوں گے، دوڈھائی ہفتے کے بعد میچ آئے گا، بیچ میں جو وقفہ آئے گا، اس دوران کھلاڑی ڈسٹرکٹ کی طرف سے بھی کھیل سکتے ہیں ۔ ہرڈویژن کا چیف ایگزیکٹو فرسٹ کلاس کرکٹریا انٹرنیشنل کرکٹرہوگا، جولکھنا پڑھنا جانتا ہو تاکہ میچ منعقد کرانے کے لیے خط کتابت کرسکے۔

میرے تجویزکردہ نظام میں گیارہ نان فرسٹ کلاس ڈویژنل ٹیمیں بھی ہوں گی۔ ہرکوئی تین دن کے دس میچ کھیلے گی۔ انٹرڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ الگ سے ہوگا جس میں ہرٹیم چوبیس میچ کھیلے گی، جن کا دورانیہ دو دن کا ہوگا۔ فرسٹ کلاس ڈویژنل ٹیموں میں سے آخری پوزیشن پر آنے والی ٹیم، نان فرسٹ کلاس ڈویژنل ٹیموں میں چلی جائے گی اورنان فرسٹ کلاس ڈویژنل ٹیموں میں پہلے نمبرپر آنے والی ٹیم، فرسٹ کلاس ڈویژنل ٹیموں میں شامل ہوجائے گی۔

سب کھلاڑیوں کومعقول معاوضہ ملے گا۔ امپائرز، کوچز، سلیکٹر، اسکورر، گراؤنڈزمین سب تنخواہ دارہوں گے، ان کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹرہونا شرط ہوگی۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں تجربے کا معیار رکھنا ہوگا، یہ نہیں کہ جس نے ایک میچ کھیل لیا وہ امپائریا کوچ بن جائے، بلکہ اسے فرسٹ کلاس کرکٹ کا خاطرخواہ تجربہ ہونا چاہیے۔ گراؤنڈز مین اور اسکورر اس معیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔ انھوں نے اگرایک بھی میچ کھیلا ہوتوانھیں ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں وہی گیند استعمال ہوگا جوٹیسٹ میں ہوتا ہے، تاکہ بیٹسمین گیندکوکنٹرول کرنا سیکھیں اورجب بین الاقوامی کرکٹ میں آئیں توان کونئی قسم کے گیند سے ایڈجسٹمنٹ میں دشواری نہ ہو۔ ڈسٹرکٹ کے کھلاڑیوں کے لیے ون اسٹارہوٹل کا انتظام کرلیں ، ڈویژن کی ٹیم تھری اسٹارمیں ٹھہرجائے۔ خرچہ فرض کریں چار کروڑ ہوتا ہے۔ دو کروڑ بورڈ دے، باقی دو کروڑ اسپانسرز سے اکٹھا کر لیں ۔

ڈویژن کی باڈی کا صدراسپانسرز کا treasure بن جائے۔ چیف ایگزیکٹوبورڈ کا ممبربن جائے۔ ایک ڈویژن کے خرچہ کا تخمینہ لگالیں باقی دس کا بھی اندازہ ہوجائے گا۔ نان فرسٹ کلاس گیارہ ٹیموں کا خرچہ اس سے آدھا کردیں ۔ گیارہ ڈویژنل ٹیموں کی ایگزیکٹوباڈی بنے، اسے ووٹنگ کا حق ہو۔ یہ سال میں چاربار میٹینگ کریں ۔ نان فرسٹ کلاس گیارہ ڈویژنل ٹیموں کی جنرل باڈی بنے اوریہ سال میں ا یک بارملیں ۔ جوٹیم نیچے سے اوپر آئے گی اسے ووٹنگ کا حق ملے گا جواوپرسے نیچے جائے گی، اس کا حق چھن جائے گا۔ اس نظام میں پول آف پلیئربڑھ جائے گا۔ مثلاً، چارڈسٹرکٹ ہیں تو آٹھ اوپنرہوں گے۔ سولہ مڈل آرڈربیٹسمین۔ بارہ تیزبولر۔ چاراسپنرز۔ وکٹ کیپر۔ ان سب کی کوشش ہوگی کہ بہترپرفارم کرکے ڈویژن کی طرف سے کھیلیں ۔ چارڈسٹرکٹس کے چوالیس پلیئر۔ آٹھ امپائر۔ چار کوچز۔ چاراسکورر۔ ہر ڈویژن کے تین سلیکٹر۔ اب ڈویژنل ٹیموں اورڈسٹرکٹ ٹیموں سے وابستہ کھلاڑیوں اور دیگر آفیشلزکی تعداد بہت زیادہ ہوجائے گی، جس سے روزگارپیدا ہوگا، اوران میں سے آپ کو کھلاڑی ہی نہیں ، اچھے امپائر، ایڈمنسٹریٹرز، کوچز، اسکورر، گراؤنڈزمین بھی ملیں گے۔

ڈویژنل ٹیموں کے درمیان میچ فرسٹ کلاس گراؤنڈز پر ہوں ، میچوں میں دوہفتے کا وقفہ ہوگا، پچزکی تیاری میں وقت ملے گا تو ان کا معیار بہتر ہو گا، پچز بہتر ہونے سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔ ڈسٹرکٹ کی سطح پرکرکٹ میں چوبیس میچ ہونے سے سفارشی کھلاڑیوں کے فرسٹ کلاس کرکٹ میں آنے کا رستہ بند ہوگا۔ ڈسٹرکٹ کے آفیشل ہرمیچ میں ایک دوسفارشی کھلائیں گے لیکن وہ دوچارسے زیادہ میچوں میں اسے موقع نہیں دے سکیں گے، سفارشی کی جگہ وہ اگلے میچوں میں کسی دوسرے سفارشی کوموقع بھی دیں گے تو آٹھ نومیرٹ والے کھلاڑی کھیلتے رہیں گے۔ چوبیس میچوں میں آخر کب تک سفارشی خود کوچھپاسکے گا۔ ڈسٹرکٹ کی ٹیم ڈسٹرکٹ والے خود بنائیں گے۔ ڈویژنل ٹیم تین سلیکٹر منتخب کریں گے، ڈسٹرکٹ ٹیموں کے میچ دیکھنے کے بعد۔ ڈویژنل ٹیم میں ناقص کارکردگی دکھانے پرکھلاڑی ڈسٹرکٹ ٹیم میں واپس آجائے گا اور اگر یہاں بھی وہ کچھ نہیں کرتا توباہرہوجائے گا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کے معیارکوبہتربنائے بغیراچھی ٹیم نہیں بن سکتی۔

اس طرح یونیورسٹی کرکٹ کے احیا کی ضرورت ہے۔ جتنی یونیورسٹیاں ہیں ، ان کو دو گروپوں میں تقسیم کر دیں ۔ علاقائی اعتبار سے ان کواکٹھا کر دیں ۔ گیارہ ٹیمیں ایک گروپ میں ، گیارہ دوسرے گروپ میں ۔ ہرٹیم میں چارپانچ یونیورسٹیوں کے لڑکے ہوں ۔ اکتوبرسے مارچ تک وہ تین دن کے دس میچ کھیلیں ۔ جمعہ۔ ہفتہ۔ اتوار۔ ٹاپ دوٹیمیں فائنل کھیلیں گی۔ یونیورسٹی لیول پر لڑکے پرفارم کریں گے تو فرسٹ کلاس کرکٹ میں جگہ ملے گی اوروہاں بھی پڑھے لکھے لوگوں کا ایک پول بن جائے گا۔ یونیورسٹی کرکٹ سے لیڈرشپ جنم لے گی۔

قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا انتخاب ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پرہو۔ سلیکٹرزمیچ دیکھ کرٹیم سلیکٹ کریں اورصرف اعدادوشمار پر بھروسہ نہ کریں ۔ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لینا لازمی ہونا چاہیے، اس سے معیارمیں بہتری آئے گی، اوراسٹارز کے ساتھ کھیل کرنئے لڑکے بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔

* نظام میں بگاڑ کا ذمہ دار کون؟

” ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں باربارکی تبدیلی سے خرابی پیدا ہوئی۔ کوئی بھی نظام ہو، اس کی کامیابی کے لیے تسلسل ضروری ہوتا ہے۔ انگلینڈ میں 125 برس قبل انٹرکاؤنٹی چیمپئن شپ شروع ہوئی، اس کا بنیادی ڈھانچہ آج بھی وہی ہے۔ آسٹریلیا میں سوبرس سے زائد عرصہ سے انٹراسٹیٹ کرکٹ چل رہی ہے۔ اس طرح جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیزاورنیوزی لینڈ میں بھی ڈومیسٹک کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے میں سالہا سال سے تبدیلی نہیں آئی۔ ہندوستان میں رانجی ٹرافی 1934 ء سے جاری ہے۔

پاکستان میں 1952۔ 53 ء میں سب سے پہلے قائداعظم ٹرافی صوبائی بنیادوں پر شروع ہوئی۔ اس میں ناک آؤٹ سسٹم تھا۔ 60 ء میں اسے ڈویژنل بنیادوں پرشروع کردیا گیا، کیونکہ سرحد اوربلوچستان کے پاس ایسے وسائل ہی نہیں تھے کہ وہ پنجاب اور سندھ کی ٹیموں کا مقابلہ کر سکیں اور ان دونوں صوبوں میں بھی زیادہ ترکھلاڑی کراچی اورلاہور سے ہوتے۔ 1960 ء کی دہائی میں قائداعظم ٹرافی کے ساتھ ایوب ٹرافی شروع کی گئی، جو بعد میں پیٹرن ٹرافی کہلائی، اس میں بھی ڈویژنل ٹیمیں ناک آؤٹ کی بنیاد پرشریک ہوتیں ، جس میں وہ ٹیمیں جو قائد اعظم ٹرافی کھیلتی تھیں ، وہ، اورساتھ میں کچھ مزید ٹیمیں شریک ہوتیں ۔ ستر میں عبدالحفیظ کاردار ڈیپارٹمنٹ کرکٹ لے آیا اور دوبارہ سے صوبائی بنیادوں پر سسٹم چلا گیا۔ توقیر ضیا کے دور میں ریجنل کرکٹ کا نظام آ گیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں