فورٹی رولز آف لو پر تبصرہ


”محبت زندگی کا پانی ہے اورمحبوب کی روح آگ ہے، اور جب اسی آگ کو پانی سے محبت ہو جائے تو کائنات کا رخ بدل کر رہ جاتا ہے“۔

ایک جادوئی، مسحورکن، دل کی تہوں میں طوفان برپا کر دینے والی تحریر جو ایک ترکش مصنفہ ایلف شفق کے قلم سے نکلتی ہے اور قاری پر اپنی ایسی تاثیر چھوڑ تی ہے کہ آپ پہلے لفظ سے خود کو بھول کر مصنفہ کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں اور اس کی تحریر کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ رہڑکنے لگتے ہیں۔ قاری ایک ہی وقت میں اکسویں صدی کی یہودی عورت کی گھریلو، خوبصورت اور مکلمل زندگی کے ستم سہتا اور اس کی شناخت کے سفر میں اس کے حوصلے دیکھتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ تیرہویں صدی عیسوی کے درویش کے ساتھ صحراوں کی خاک چھانتا، عشق کے عین سے قاف تک کے سبق سکھاتا، فلسفی کو اس کے مرتبے سے اتار کر شاعر، رقاص اور ملنگ بناتا، تڑپاتا، سِسکتا اور فنا ہو جاتا ہے۔ قاری دو مختلف صدی کے دو مختلف کرداروں میں ایک روح ایک وجود کی شبیہ دیکھتا ہے۔ ایمان اور یقین جو دنیاییں بدل دیتا ہے لہروں کے رخ موڑ دیتا ہے اور۔ عشق حقیقی جو توڑ کر جوڑ دیتا ہے، بگاڑ کے بعد تعمیر دیتا ہے اور فناییت کے بعد امر ہو جاتا ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے نارتھ ایمپٹن کی یہودی خاتون ایلا سے، نوجوان بچوں کی ماں اور بے وفا شوہر کی شریک حیات، ماضی کی یادوں اور مستقبل کے خوابوں میں گم رہنے والی، حال کی خوبصورتیوں سے نظر چرانے والی ایلا، جس کی گھریلو زندگی اضطراب اور مسائل کا شکار ہے۔ ایلا کی خوبصورت اور مکمل گرہستی۔ جسمیں وہ ایک غیر ضروری ساماں کا حصہ ہو چکی ہے اور شوہر اور بچوں کے ساتھ بھرپور دکھنے والی زندگی میں درحقیقت تنہائیوں اور سناٹوں کی شکارہے۔

” ایلا کی عزیز تر بیٹی ماں کی صورت سے بیزار گھر چھوڑ جاتی ہے، بے وفا شوہر مصروفیت کے نام پر راتیں سراوَں کی نظر کر دیتا ہے۔ موم بتیوں سے سجی ڈنرٹیبل اس کے گھر کی زندگی میں اجالا کرنے سے قاصر تھی۔ گھر اور جگر گوشوں پر لٹای حیات اگر ایلا کو استحقاق نہ دے سکی تو بیکار جھوٹ تھا، زندگی اک گناہ بے لذت تھی۔ ایلا ایک مشرق کی ستی سوتری نہ تھی کہ جل جائے پر چولہے سے بندھی رہے۔ کچلی جائے مگر سرتاج کے پیروں تلے اور مر جائے اولاد پر نچھاور ہو کر، اس کے باوجود اس کے نزدیک رشتوں کی بے تحاشا اہمیت تھی۔ مغرب کے بے نیاز معاشرے کی وہ ایک وفا شعار اور روایت پسند بیوی تھی۔ شریک حیات کی بے نیازی اور بچون کی بے اعتنای ایلا کو اس کے سجے سجائے گھر میں تنہا کر دیتے ہیں ں تو اس پر اپنے خسارے کا انکشاف ہوتا ہے۔

”کیا زندگی جیسی اب تک گزری، آگے بھی ایسے ہی گزرے گی؟ ایک خوفزدہ کرنے والی وحشت مجھے گھیرنے لگتی ہے۔ سوال کے جواب کی ’ہاں‘ اور ’ناں‘ اگر ایک ہی جیسے تباہ کن حالات کا باعث بنیں؟ “

ایلا جو کسی خیالی جذبے یا عادت کی موت بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی مگر شادی شدہ زندگی میں محبت کی حیات پر یقین نہیں رکھتی۔ بیکار حقیقت ہو چکی زندگی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی ا یلا برسوں سے جانتی ہے کہ اس کی زندگی محروم ِمحبت ہے۔ اور ان اطوار اور حالات کی عادی ہونے کے باوجوداپنے دل کی خاموش کوٹھری سے یہ بازگشت سنتی ہے کہ ایک دن خاموشی سے وہ اپنا گھر، بچے، بے وفا شوہر اور ہمسائے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر دنیا کے خطرناک راستوں پر اکیلی نکل جائے گی۔

” ہمیشہ! ہمیشہ محبت کا انتخاب کرو! تم دیکھ چکے کہ محبت کی مٹھاس کے بغیر زندگی اک اذیت ہے! “

ایلا عادتوں اور روایات میں خود کو دفنائے ہوئے، برسوں کی مشقت اور قربانیوں کو مٹی ہوتے دیکھتی ہے۔ چند سو گز کے گھر میں میلوں کے فاصلے تھے، قریب بیٹھے جسموں میں قیامت خیز دوری تھی۔ ایلا مرتے ہوئے سپرٹ (اسکا پالتو کتا) کی طرح ناتواں ہڈیاں کھینچے زباں نکالے بیٹھ کر جب ایک ناآسودہ زندگی کی رنجیدگی سے تھک جاتی ہے تو ”میٹھی گستاخی“ کا مصنف کسی درویش کی طرح اس کی نبض پر ہاتھ رکھ دیتا ہے۔ ایک دور دنیا کا باسی، شفیق، محبت کرنے والا بے غرض شخص ایلا کو الجھنوں کے جالے سے باہر نکالتا ہے اور اس کی بے رنگ بصارت کو رنگین کر دیتا ہے۔ راہ کے پتھر چنتا، ذات کا شعور اور جرات دیتا ہے۔ جب ایلا اپنی گھر اور بچوں کو اپنے خوابوں کی طرح خوبصورت بنانے کی بے اثر جدوجہد کرتی ہے تو ایسے میں کوی اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہے۔

” کچھ لوگ جھک جانے کو بزدلی تصور کرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں۔ یہ تو کاینات کے ان اصولوں اور تقاضوں کو سکون اور اطمینان سے قبول کرنے کا اظہار ہے جن کو ہم بدل نہیں سکتے۔ “

ایلا کے لیے محبت، صرف ایک لمحاتی مٹھاس اور غیر اہمجذبہ تھا۔ ۔ مگر محبت پر تنقید کرنے والے اکثر اس کے جانثار ثابت ہوتے ہیں۔ محبت کو وقتیجذبہ کہنے والی ایلا جب محبت کی تاثیر چکھتی ہے تو اس کے لیے دنیا تیاگ دیتی ہے۔ اس کی پرسکوں ٹھہری ہوی جھیل سی زندگی میں گرا محبت کا پتھر پانی کی سطح کو تلاطم میں بدل دیتا ہے اور پھر اس کی زندگی کی ساکن جھیل کناروں تک یکسر بدل جاتی ہے۔ زہرا دنیا کے دوسرے سرے سے ایلا کے من کے خالی گھڑے کو جانچتا، پرکھتا۔ اور اسے محبت کے میٹھے پانی سے بھر دیتا ہے۔

” خدا کرے تمھیں محبت تب اور وہاں ملے جب اور جہاں تمھیں اس کی توقع تک نہ ہو۔ “

جب ایلا کے ساتھ بیٹھا ڈیوڈ اسے دیکھ نہیں پاتا عزیز سینکڑوں میل کی دوری سے اس کے رنگ پہچانتا ہے۔ اس کے دل کے ان کہے لفظ سنتا ہے اور خود اس کی نظروں سے بھی اوجھل اس کے خوف دور کرتا ہے۔ ایسے میں ایلا محفوظ جگہ پر آنے والی موت سے گھاٹیوں کی موت کو ترجیح دیتی ہے، روایت کی پابند زندگی پر محبوب کے ساتھ کو اہمیت دیتی ہے۔ اور اس دنیا سے چلے جاتی ہے جہاں ہر وقت خوفزدہ کرنے والی چیزیں وقوع پزیر ہوتی ہیں۔ ایک کم ہمت، کم حوصلہ عورت میں یہ جرات پیدا کرنے والا، اس کے سکوت توڑنے والا اور اندھیر وں میں روشی کرنے والا عزیز تھا۔

” ہر سچی محبت اوردوستی ایک غیر متوقع واقعات کی کہانی ہوتی ہے۔ اگر محبت کے آنے اور جانے سے ہماری حالوں میں تغیر برپا نہ ہو تو پھر وہ محبت نہیں۔ “

دنیا کے دوردراز، خطرناک اور مشکل راستوں پر سیاحت کا شوقین ملنگ اور صوفی عزیز زہرہ صرف ایک ناول لکھتا ہے۔ زہرہ منزل منزل دنیا کے شواہد دریافت کرتا کائنات کے چھُپے راز ڈھونڈنے میں سرگرم ہے۔ زہرا نام کا یہ سورج ایلا کی زندگی کے ٹھہرے پانیوں میں طلوع ہوتا ہے تو ساکن پانی کی سطح کو ہزاروں جھلمل کرتے ستاروں سے بھر کر اپنی تمازت پانی کی تہہ تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ عشق کیا صرف مادی جسموں کا ملاپ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ ناول کبھی نہ لکھا جاتا۔

عشق وہ معراج ہے جو صرف خالص دلوں پر اپنے آسماں کھولتی ہے۔ یہ کشکول پکڑے فقیر لوگوں کی میراث نہیں۔ ستاروں پر پاؤں دھرنا، آسماں سے پانی برسانا اور سوکھے پیڑ پر منٹوں میں گلاب اُگا دینے کا ہنر رب صرف شمس آف تبریز اور عزیز زہرہ جیسے لوگوں کو ودیعت کرتا ہے۔ اتفاقات کے نام پر ہونے والے واقعات محبت کے معجزات تھے۔ جو ایلا کے پیروں کی بیڑھیاں کھول دیتے ہیں، اور نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتے ہیں۔ دور کہیں ان کی ڈوریں آسمانوں سے ہلای جاتی ہیں۔

”کوشش کرو کہ اپنی راہ میں آنے والی تبدیلیوں کی مزاحمت نہ کرو۔ اس کی بجائے زندگی کو انمیں سے گزرنے دو! پریشان مت ہو کہ تمھاری زندگی الٹ رخ چلنے لگی ہے۔ تم کیسے جان سکتے ہو کہ جس رخ کے تم عادی ہو وہی سب سے بہترین ہے؟ “

اکسویں صدی کے مدمقابل چلتی دوسری کہانی ناول کے اندر موجود دوسرے ناول سویٹ بلاسفیمی کی ہے جو عزیز زہرا کے قلم سے نکلا ہے اور ایلا کی نئی نویلی نوکری میں اس کے ہاتھوں میں تبصرہ کے لیے پہنچا ہے۔ یہی وہ کتاب ہے جو ایلا کی زندگی کو نیے سرے سے تحریر کرتی ہے۔ یہ ناول کہانی سناتا ہے ہے شہرہ آفاق عالم اور عظیم فلاسفرجلال الدین رومی کے عروج سے زوال یا پھر زوال سے عروج کی، اس کے فلسفی سے درویشی اور ہستی سے مستی تک کی۔ اور اس تبدیلی کا باعث بننے والے اس کے دلعزیز دوست شمس آف تبریز کی۔ ایلا کی زندگی کی تحلیل نفسی سے لے کر تعمیر ہستی تک شمس کا ہی کارنامہ ہے۔

اس حصہ میں تیرہویں صدی عیسوی کے عشق و مستی کے وہ اسباق ہیں جو ایک ملنگ کو دنیا تیاگ کرنے پر پہنچا دیتے ہیں اور وہ سر پر راکھ ڈالے جنگلوں میں اور سر اور چہرے کے بال منڈوائے جنگلوں سے شہروں کی سمت جا نکلتا ہے۔ شمس آف تبریز اور رومی کے عشق کی حدتیں آنے والے صفحات پر طوفان برپا کر دیتی ہیں۔ اونچایوں پر رہنے والے فلاسفر کو زمین پر پٹخ دیتی ہیں اور رومی عشق کا عظیم سبق پڑھتا شمس کے ہاتھ سے ایک کے بعد ایک زہر کی پیالی امرت سمجھ کر پیتا جاتا ہے اور دونوں کا وجود دنیا میں امر ہو جاتا ہے۔

” محبت کی وضاحت نہیں کی جاسکتی۔ اس کا محض تجربہ کیا جا سکتا ہے، محبت کی وضاحت نہیں کی جا تی، پھر بھی یہ سب واضح کر دیتی ہے۔ “

شمس آف تبریز رومی کے لیے ایک آئینہ ہے ایک ایسا آیینہ جو اسے اس کا اصل اپنی پوری سچایوں، خوبصورتیوں اور بد صورتیوں کے ساتھ دکھاتا ہے۔ اپنی بدصورتیوں کو خوبصورت بنانے کے لیے رومی کئی کئی بھٹیوں میں جلتا ہے اور ہزار طرح کی آزمایشیں پار کرتا ہے۔ اپنے خیالات وتصورات سے تراشے سب بتوں کو گراتا اور نیی شکلوں میں ڈھالتا ہے۔ یہاں تک کہ بیچ چوراہے میں سیما ( درویشانہ رقص ) تک جا پہنچتا ہے۔ اور عاشق و معشوق ”ایک ہاتھ آسمانوں کی طرف بڑھائے ہوئے اور دوسرا زمیں کی طرف جھکائے ہوئے، خدا سے ملنے والی ہر محبت اس کے بندوں تک پہنچاتے ہوئے“ ایک ایسی ِلے کو جنم دیتے ہیں، ایسی مستی کی بنیاد رکھ دیتے ہیں جو آنے والی صدیوں تک درویشی کی پہچان بننے والی تھی۔ ایک ایسا رقص جو شمس وقمر کے متوازی چلتا فطرت اور کاینات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہی درویشانہ رقص رومی کی زندگی میں طوفان و بادوباراں کے بعد اس کو تاریخ کے اوراق پر امر کر دیتا ہے اور رومی کے علم کو معراج نصیب ہوتی ہے

”محبت کی شراب بہت نرمی سے ہمارے سروں کو گھماتی ہے اور مجھے بہت خوشی اور شکرگزاری کے ساتھ محسوس ہوا کہ ہوا نے مایوسی کی سرگوشیاں بند کر دی ہیں۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں