ریما کا ریٹ کیا ہے؟


ہمارے ایک دوست نے یہ اعتراض اٹھایا، کہ ہیں تو آپ شوبز سے، لیکن آپ سیاست پر لکھتے ہیں۔ یہ کیوں؟ آپ شوبز کی داستان سنایا کریں۔ فن کار کو سیاست یا سیاست پر تبصرے سے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ میں نے یونھی ایک دو مثالیں دیں، پوچھا کہ کیا شاعر ادیب رومان کی بات کرے تو ہی فن کار کہلائے گا؟ ان یورپی امریکی ادیبوں کے حوالے دیے، جو سیاسی نقطہ نظر رکھنے کے باعث معتوب ٹھیرے۔ طنز کیا گیا کہ کیا آپ اپنے آپ کو ان ادیبوں کے ہم پلہ سمجھتے ہیں؟ ظاہر ہے میرا خاموش رہ جانا ہی مناسب تھا۔

سوال یہ ہے کہ جب آپ مغربی جمہوریت کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں، تو جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے مغربی ادیبوں کی نقالی میں‌ کیا حرج؟

نثار قادری پاکستان ٹیلے ویژن سے شناخت پانے والے بہ ترین اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ایک بار وہ کراچی سے اسلام آباد کے لیے جہاز میں سوار ہوئے۔ جہاز میں زیادہ مسافر نہیں تھے۔ تھوڑی دیر بعد میزبان قریب آئی اور اشتیاق سے پوچھا، ”آپ نثار قادری ہیں، ناں؟“ پھر قادری صاحب کے لیے چند تعریفی کلمات کہے اور انتہائی احترام سے انھیں اکانومی کلاس سے بزنس کلاس میں لے گئیں۔
”ایئر ہوسٹس کی طرف سے ایسی توجہ، ایسا خلوص پا کے مجھے لگا، کہ میں ملک کے معزز ترین افراد میں سے ایک ہوں۔ میں نے بزنس کلاس میں جاتے ہی اپنا کوٹ اتار کے سیٹ کی پشت پر پھیلایا، گردن میں سریا تان کے یوں ٹانگیں پسار دیں، جیسے مہمان خصوصی میں ہی ہوں“ ۔

کہتے ہیں مزید وقت گزرا تو میرے دائیں ہاتھ پر زرا فاصلے پر بیٹھے ایک شخص نے مجھے غور سے دیکھا، اور اُٹھ کے میرے قریب آ گیا۔ مجھے انداز ہو گیا کہ یہ بھی میرا کوئی پرستار ہی ہے، اس اندازے نے میری گردن کے سریے کو مزید تقویت دی۔ اس شخص نے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے اس کے بڑھے ہاتھ کو اپنی دو انگلیاں چھو کر وعلیکم السلام کیا۔
”مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ اداکار ہیں!“

اس نے جب یہ کہا تو قادری صاحب کو لگا، جانتا تو ہو گا، جان بوجھ کے ان جان بن رہا ہے، کہ ”بتایا گیا ہے“ ۔ قادری صاحب نے رُکھائی سے جواب دیا، ”جی جی“ ۔ اب اس شخص نے اپنا تعارف کروایا۔ موصوف اس وقت کی سندھ حکومت کی کابینہ کے ایک وزیر تھے۔ وہ ان کے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا، اور خوش دلی سے باتیں کرنے لگا۔ اب ایک فن کار کو یہ احساس کہ میں اتنا پاپولر ہوں، کہ سفری میزبان پروٹوکول دیتی ہے، صوبائی وزیر میرے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ غرور تو بنتا ہی تھا۔

”میں منتظر تھا، کہ یہ مجھ سے میرے فنی سفر کے بارے میں سوال کرے گا، تجربات جاننا چاہے گا۔ وغیرہ۔ صوبائی وزیر صاحب نے ادھر ادھر کی باتیں کرتے، اچانک مجھ سے یہ پوچھا.
”آپ بتا سکتے ہیں، کہ ریما کا ریٹ کیا ہے؟“

قادری صاحب کہتے ہیں، کہ میرا سارا غرور مٹی میں مل گیا۔ کندھے ڈھیلے پڑ گئے، گردن میں اٹکا سریا دُہرا ہو گیا، اور میرا سر شرمندگی کے عالم میں میرے سینے سے جا لگا، کہ یہاں اداکار کو دلال سمجھا جاتا ہے۔ مجھے لگا کہ مجھے اٹھ کے اکانومی کلاس ہی میں چلے جانا چاہیے۔

ہند و پاک میں مولوی، شاعر، ادیب، گلوکار، استاد، رقاص اور اس طرح کے دیگر پیشوں سے وابستہ افراد کو ”کمی“ سمجھا جاتا ہے۔ کام کرنے والوں کو ”کمی“ کہنا عار نہیں، انھیں ”کمین“ سمجھنے کی نفسیات نے ہمیں ایسا بنا دیا ہے، کہ ہم ان کی رائے کو، ان کے مشورے کو، ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اول تو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، تسلیم کریں بھی تو اتنا کہ گوّیا محض گانا سنائے، تصور کیا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ نہ وہ کچھ سوچے، نہ سوچنا چاہیے، نہ شاید سوچ سکتا ہے۔ گاوں کے معاملات کو چودھری صاحب جیسے بھی چلانا چاہیں، یہ مراسی کی صواب دید نہیں۔ وہ بس اپنے حصے کا اناج لے اور جب جب شادی بیاہ کی رسوم ہوں، وہ ڈھول پیٹنے آجایا کرے۔ یوں کہیے کہ ہنر مند، فن کار اور دیگر علوم حاصل کرنے والے کم تر درجے کے شہری ہیں۔ وہ کسی اکبر کے دربار کے نورتن میں سے تو ہو سکتے ہیں، کہ شہنشاہ کے راگ الاپیں، انھیں شاہ کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں۔

شاہ پرست اقوام کی ایسی نفسیات ہو، یہ حیرت کی بات نہیں۔ بھلا ہو فرنگی راج کا ہندستانیوں کو جمہوریت کے اسباق پڑھا گیا۔ ہم بھی ایسے کند ذہن طالب علم کہ پڑھ پڑھ کے یاد کچھ نہ کیا۔ ہر شہری کے حقوق برابر ہیں، یا ہر شہری کے حقوق ہیں، یا شہری کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں؛ یہ سوال، یہ شعور شاہی نظام میں پنپتا بھی کیوں کر! پہلے ہم اس سے باخبر تھے کہ شاہی سواری گزرنے والی ہو، تو پیٹھ کر کے کھڑے ہو جانا چاہیے، یا نگاہیں جھکا کے خاموشی سے کھڑے رہیں۔ (آج ہمارے یہاں کے شاہوں کا ”پروٹوکول“ اس کی جدید شکل ہے)۔ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی کہانیوں میں یہی منظر دکھایا جاتا ہے۔

ہم میں سے اکثر، ایسا خوش نصیب بننے کے خواب دیکھتے ہیں، جس غریب پر شہزادی کی نگہ پڑی، اور اس نے اپنے لیے منتخب کر لیا۔ پھر وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔ خوشیوں کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کی کہانیوں میں بھی ایک بزرگ نمودار ہوتے ہیں، جو ایسا منتر بتاتے ہیں، کہ تمام مشکلیں حل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ہم وہی اسم اعظم مانگتے ہیں، بزرگ تلاش کرتے رہ جاتے ہیں۔

ایسے غریب کی کوئی کہانی نہیں، جسے شہزادی نے پسند کیا، اور اس نے انکار کر دیا کہ میں کیا جانوں شاہی تخت کیا ہوتا ہے، میں اپنی پسند کا آپ مالک ہوں۔
کبیر داس چاہے جتنی دانش کی باتیں کرے، اس سماج میں رہے گا وہ جولاہے کا جولاہا۔ جولاہا بادشاہ نہیں ہو سکتا، ماسوائے اسے شہزادی نہ پسند کر لے۔ خیر! کبیر داس کو بادشاہ بننا قبول بھی نہ ہوتا۔

کوئی کبیر داس فرد کو ’آزادی‘ گھول کے نہیں پلا سکتا۔ فرد تو تبھی آزاد ہو گا، جب وہ اپنے حقوق پہچان لے گا، آزادی کا شعور حاصل کرے گا۔ ہمارے یہاں کا احوال یہ ہے، کہ سمجھا جاتا ہے، کبیر داس یہ شعور کیسے دے سکتا ہے، نہیں دے سکتا کیوں کہ وہ جولاہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہم ایسا بھی دیکھتے ہیں، ”یہاں وہ بھی دانش ور بنا ہے، جسے گھر والے سبزی لینے نہیں بھیجتے، کیوں کہ باسی سبزی لے کے آ جاتا ہے“ ۔ گویا تازہ سبزی لانے والا دانش ور ہوتا ہے۔ ہر شہری کو حق ہے کہ وہ اپنا اظہار کرے۔ اس پر قدغن لگانا، اس کا ٹھٹھا اڑانا دانش مندی ہرگز نہیں۔ فن کار کہیں جسے، وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے، واقعات، سانحوں، روایات، رسوم، بغاوتوں، سیاست سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ان سب پہ اس کی ایک رائے بھی ہوتی ہے، اپنی رائے کا اظہار اس کا حق ہے۔ آپ اس سے اتفاق کیجیے یا اختلاف، یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن آپ اس کے اظہار کے حق پر کیوں انگلی اٹھاتے ہیں؟ کیا ہمیں ایسے افراد مطلوب ہیں جو صحت مند سبزی خرید کر لا دیں؟ کیا ہمیں محض ایسے داستان گو مطلوب ہیں، جو ہمیں بادشاہوں اور شہزادے شہزادیوں کی کہانیاں سنائیں۔ حرم کے رنگین مناظر دکھائیں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 258 posts and counting.See all posts by zeffer-imran