کیا اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری ہے؟


کینیڈا کی HUMANIST ASSOCIATION میں میرے ایک لیکچر کے بعد ایک خاتون نے مجھ سے سوال کیا ’ ڈاکٹر سہیل ! میں ایک عیسائی ہوں۔ میں اپنی زندگی بائبل کی تعلیمات کی روشنی میں گزارتی ہوں۔ آپ ایک ہیو منسٹ ہیں۔ اگر آپ کسی خدا یا کسی آسمانی کتاب پر یقین نہیں رکھتے تو آپ کی اخلاقیات کا سرچشمہ کیا ہے؟

میں نے ان خاتون سے کہا ’آپ کا سوال بہت اہم ہے۔ اس کا جواب دینے کے لیے مجھے ایک مضمون لکھنا پڑے گا۔ چند الفاظ میں میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ صدیوں کے سفر کے بعد انسانی ارتقا اس منزل پر پہنچ گیا ہے جہاں نفسِ انسانی میں ایک ذاتی ضمیر اور سماجی شعور پیدا ہو چکا ہے۔ اس ضمیر اور شعور کی تشکیل کے بعد انسانوں کو آفاقی رشد و ہدایت کی ضرورت نہیں ہے‘۔

انسانی تاریخ کے مطالعے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری نہیں ہے۔ ہر صدی اور ہر معاشرے میں ایسے مفکر اور دانشور پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے انسان دوستی کے فلسفے کا درس دیا ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد انسانی تجربات اور مشاہدات سے حاصل کی ہوئی تعلیمات پر مبنی ہے اور یہی شعور ہماری انفرادی اور اجتماعی ہدایات کا سرچشمہ ہے۔

اکیسویں صدی کا انسان آزاد و خود مختار ہے۔ اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جنم لینے والی ان روایات کی پیروی کرے جو پیغمبروں اور صحیفوں کے ذریعے انسانوں تک پہنچیں اور یا وہ ان سیکولر اخلاقایت ‘ فلسفہ اور نفسیات کی تعلیمات سے استفادہ کرے جو سیکولر ماہرینِ نفسیات اور انسان دوست فلاسفروں نے چین‘ ہندوستان ‘یورپ اور یونان میں متعارف کروائیں۔ سیکولر دانشوروں اور ہیومنسٹ مفکروں کی فہرست بہت طویل ہے۔ میں اس کالم میں دنیا کے مختلف خطوں سے صرف پانچ انسان دوست دانشوروں کی اخلاقی اور سماجی تعلیمات پر توجہ مرکوز کروں گا تاکہ آپ کا اس مکتبہِ فکر سے تعارف ہو سکے۔

1۔ کنفیوشسCONFUCIUS

جب ہم جدید انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کنفیوشس وہ پہلے انسان دوست مفکر تھے جو 551 قبل مسیح میں چین میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے انسانیت کو سنہرے اصول سے متعارف کروایا جو اب GOLDEN RULE کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس اصول کو ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ ویسا سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو وہ تمہارے ساتھ کریں۔

کنفیوشس کا موقف تھا کہ انسان بنیادی طور پر نیک ہیں انہیں برے حالات برا بنا دیتے ہیں۔

کنفیوشس اگرچہ ایک غریب خاندان کے چشم و چراغ تھے لیکن اپنے علم اور دانائی کی وجہ سے اتنے مقبول ہوئے کہ ملک کے وزیر بن گئے۔ وہ حاکموں کو نصیحت کرتے تھے کہ وہ خود ان اصولوں پر عمل کریں جو وہ رعایا کو سکھانا چاہتے ہیں۔

اکیسویں صدی کے بہت سے دانشور کنفیوشس کو ہیومنسٹ فلسفے کا بانی سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے بہتر انسان بننے کے فلسفے میں کہیں کسی خدا‘ مذہب‘ آسمانی کتاب‘ جنت اور دوزخ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

2۔ بدھا BUDDHA

دوسرے سیکولر فلسفی بدھا تھے جو 563 قبل مسیح میں ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں وہ سدھارتھا کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ذاتی ریاضت سے جب وہ عرفانِ ذات کی منزل تک پہنچ گئے تو ان کو بدھا کے نام سے پکارا جانے لگا یعنی وہ شخص جس نے معرفت حاصل کر لی ہو۔ انہوں نے اپنے عہد کے مذہبی‘ عقائد اور توہمات پر سوالات اٹھائے اور اخلاقی روایات اور قوانین کو چیلنج کیا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ اپنے دل‘ اپنے ضمیراور اپنی عقل پر بھروسہ کرنا سیکھیں کیونکہ انسان کا اپنا تجربہ اس کا سب سے بڑا استاد ہے۔ بدھا نے فرمایا تھا

کسی بات پر اسلیے یقین مت کرو کہ وہ بات کسی بزرگ نے کہی ہے

کسی بات پر اس لیے یقین نہ کرو کہ سب لوگ اسے مانتے ہیں

کسی بات پر اس لیے یقین نہ کرو کہ اس کا ذکر قدیم صحیفوں میں آیا ہے

کسی بات پر اس لیے یقین نہ کرو کہ یہ بیان غیب سے آیا ہے

کسی بات پر اس لیے یقین مت کرو کہ سب اس پر یقین رکھتے ہیں

صرف اس بات پر یقین کرو  کہ جسے تمہاری اپنی ذات نے سچ جانا اور پرکھا ہے۔

3۔ ہپوکریٹسHIPPOCRATES

ہپوکریٹیس تیسرے ہیومنسٹ فلسفی ہیں جنہیں سیکولر طب کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ وہ 460 قبل مسیح میں یونان کے جزیرے کوس میں پیدا ہوئے اور 100  برس عمر پائی۔ وہ پہلے فلسفی تھے جنہوں نے طب کو مذہب سے جدا کیا اور اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ انسان کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کی وجوہات انسان کی اپنی ذات میں پوشیدہ ہیں۔ ہپوکریٹس نے دیکھا کہ جب لوگ بیمار ہوتے تھے تو یہ تصور کرتے تھے کہ خدا ان کو عذاب میں مبتلا کر رہا ہے کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے۔ ان دنوں بیماریوں کو دور کرنے کے لیے لوگ دیوتائوں کے سامنے قربانیاں پیش کرتے تھے۔ کچھ لوگ یہ مانتے تھے کہ مریض پر جن یا بھوت یا بدروح کا سایہ ہے۔ ہپوکریٹس نے گناہوں کے مذہبی عقاید پر سوال اٹھائے اور توہمات کو چیلنج کیا۔ انہوں نے اپنے مشاہدات اور تجربات کی بنا پر بیماریوں کی طبی اور سیکولر وجوہات پیش کیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انسانی بیماریاں ناقص غذا‘ ورزش کی کمی‘ نیند کی خرابی اور غیر صحتمند زندگی سے پیدا ہوتی ہیں۔ وہ اپنے مریضوں کو مشورہ دیتے تھے کہ دعائوں اور قربانیوں کی بجائے متوازن غذا کھائیں‘ باقاعدگی سے ورزش کریں‘ نیند پوری کریں اور اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کا راز دعائوں اور قربانیوں میں نہیں بلکہ ایک صحتمند طرزِ زندگی میں پنہاں ہے۔

4۔ وکٹر فرینکل VICTOR FRANKL

چوتھے ہیومنسٹ فلسفی وکٹر فرینکل تھے۔ وہ ایک یورپین ماہرِ نفسیات تھے جو 1905 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی کتاب MAN’S SEARCH FOR MEANING ایک ایسی بیسٹ سیلر تھی جس کا بیسیوں زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ وکٹر فرینکل چونکہ یہودی تھے اس لیے انہوں نے کئی سال نازی کیمپوں میں گزارے۔ ہولوکاسٹ میں ان کے خاندان کے بہت سے افراد مارے گئے۔ رہا ہونے کے بعد انہوں نے ایک نفسیاتی طریقہِ علاج دریافت کیا جس کا نام LOGOTHERAPY ہے۔ اس طریقہِ علاج کا موقف یہ ہے کہ انسان اپنے دکھوں سے بہتر طور پو نبرد آزما ہو سکتا ہے اگر وہ اپنے دکھوں میں معانی تلاش کر لے۔ اس فلسفے نے لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنی زندگی میں مذہبی معنی تلاش کرنے کی بجائے ذاتی معنی تلاش کریں اور خوش رہیں۔

5۔ ابراہم ماسلو ABRAHAM MASLOW

پانچویں ہیومنسٹ فلاسفر ابراہم میسلو تھے۔ وہ ایک امریکی ماہرِ نفسیات تھے جو 1908 میں پیدا ہوئے۔ ان کی کتاب MOTIVATION AND PERSONALITY  بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں میسلو نے نفسِ انسانی کی بنیادی ضروریات کی نشاندہی کی اور پھر ان ضروریات کو مختلف درجات میں ترتیب دیا۔

پہلا درجہ بھوک اور پیاس کا ہے

دوسرا درجہ تحفظِ ذات کا ہے

سب سے اونچا درجہ انسان کی تخلیقی ضرورت کا ہے۔ جب انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کر لیتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ دوسروں کی خدمت کر سکے۔ ابراہم میسلو کا خیال ہے کہ ایسے لوگ اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر کر اپنا سچ اورتخلیقی جوہر تلاش کرتے ہیں اور پھر ساری دنیا کے سامنے شاعر‘ فلسفی‘ فنکار‘ سنت‘ سادھو‘ صوفی‘ مصلح بن کر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ دانشور ہیں جو انسانیت کی ارتقا کے سفر میں رہنمائی کرتے ہیں۔

ابراہم میسلو کا موقف تھا کہ روحانی تجربات انسانی نفسیات کا حصہ ہیں اور ان تجربات کے لیے انسان کا کسی بھی خدا یا مذہب پر ایمان رکھنا ضروری نہیں۔ یہ تجربات ایک دہریہ کو بھی ہو سکتے ہیں اور ایک صوفی کو بھی۔ وہ ان تجربات کو PEAK EXPERIENCES  کا نام دیتے ہیں۔ انہوں نے روحانی تجربات کی ایسی نفسیاتی توجیہہ پیش کی ہے جو مذہبی اور غیر مذہبی دونوں مکاتبِ فکر کے لوگوں کے لیے یکساں قابلِ قبول ہے۔

دنیا کے پانچ مختلف ممالک سے پانچ ہیومنسٹ فلاسفروں کے چنائو سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ صدیوں سے سیکولر فلسفی اور ہیومنسٹ ماہرینِ نفسیات سیکولر اخلاقیات کی بنیادیں ڈال رہے ہیں اور پھر ان بنیادوں پر انسان دوستی کے فلسفے کی بلند و بالا عمارات تعمیر کر رہے ہیں۔

اکیسویں صدی میں انسانوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ آسمانی مذاہب کی روایات پر عمل کریں یا جدید نفسیات اور فلسفے کی سیکولر روایات کو اپنائیں۔ گزشتہ دو صدیوں میں سیکولر روایات کو ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 1900 میں آزاد خیال انسان دوست لوگوں کی ساری دنیا میں تعداد ایک فیصد تھی۔ 2000 میں یہ تعداد بڑھتے بڑھتے پندرہ فیصد ہو گئی ہے۔ کینیڈا میں ایسے لوگوں کی تعداد بیس فیصد ہے اور سکنڈیوین ممالک میں ان کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔

سیکولر ہیومنزم کی کامیابی کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سے مغربی ممالک میں مذہبی قوانین کی بجائے سیکولر قوانین نافذ ہو گئے ہیں جن میں گناہ کے تصور کی بجائے جرم کا تصور مقبول ہو گیا ہے۔ جب کوئی شہری جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے جہنم رسید کرنے کی بجائے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جہاں جج یا جیوری اس کی سزا کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انسان دوست فلسفے کی کوشش ہے کہ ہر ملک میں تمام شہریوں کو‘ خاص طور پر عورتوں اور اقلیتیوں کو‘ برابر کے حقوق اور مراعات حاصل ہوں۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے بین القوامی اعلامیہ نے سیکولر اخلاقیات اور قوانین کو مقبول اور رائج کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اگر ہم ساری دنیا پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ بہت سے روایتی اور مذہبی ممالک میں بھی آہستہ آہستہ سیکولر نظریات اور انسان دوستی کی روایات مقبول ہو رہی ہیں جن کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی ذاتی‘ سماجی اور سیاسی زندگی میں سیکولر اخلاقایت کی پیروی کرنے کی آزادی حاصل کر رہے ہیں اور اپنے انسانی حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 168 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail