مرد پورن کیوں دیکھتے ہیں؟


ایکسپریس ٹربیون کی 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان پہلے پانچ ممالک میں ہوتا ہے۔ جہاں پر فحش مواد انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ دیکھا اور سرچ کیا جاتا ہے اور لوگ بلیو فلمیں دیکھنے کے بہت زیادہ شوقین ہیں۔ باقی تمام ممالک میں بھی سرفہرست مسلم ممالک ہیں اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

اس سے ہمارے ملک کو اخلاقی لحاظ سے ایک بہت بڑا خطرہ درپیش ہے۔ جس کے معاشرے پر بہت ہی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے راہ روری، معصوم بچوں بچیوں پر جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اسی کا نتیجہ ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ خصوصاً مرد حضرات جنسی مواد کیوں دیکھتے ہیں۔ فحش نگاری اور پورن دیکھنا کیوں پسند ہے۔ اس وقت انٹرنیٹ پر جنسی مواد اور پورن Porn کی بیالیس کروڑ سے زیادہ Sites  موجود ہیں اور پورن اتنی زیادہ مقدار اور تمام دستیابی کی وجہ سے دیکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے دیکھنے والوں میں دماغی بیماریاں، جسم میں نامیاتی تبدیلیوں کے علاوہ رشتوں پر کافی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جس میں ایک پورن دیکھنے والے کے دماغ کا سکین کیا گیا تو پتہ چلا کہ پورن دیکھنے سے اس آدمی کے دماغ پر اتنا اثر ہوا ہے جتنا کہ ایک منشیات کے عادی پر ہوتا ہے۔ Nofap کے نام سے مشہور ایک تنظیم اور کمیونٹی Reddit جو کہ لوگوں کو پورن دیکھنے اور اس کے نتیجہ میں خود لذتی سے دور رکھنے کیلئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سروے کے دوران گھر گھر جا کر لوگوں میں خود آگاہی پیدا کی ہے۔ اگرچہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ لیکن کافی اچھا کام ہوا ہے جس کی مدد سے پورن دیکھنے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

اب دیکھنا ہے کہ لوگ خصوصاً مرد پورن کیوں دیکھتے ہیں اس کا جواب اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ ہم سوچتے ہیں۔ بیشتر خواتین یہ سوچتی ہیں کہ مردوں کی یہ پسند ہے اس لیے وہ اس کے ساتھ چپکے رہتے ہیں۔ اس میں کچھ حد تک تو یہ وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ مکمل صحیح نہیں ہے۔ عورتوں کی یہ سوچ غیر معمولی نہیں کہ ان کے مردوں کو پورن دیکھنے کے بعد ان سے جنسی تعلقات میں کشش محسوس نہیں ہوتی یا وہ ان سے محبت نہیں کرتے۔ Nofap نے پورن اور خودلذتی کا شکار لوگوں پر کافی ریسرچ کی ہے۔ انہوں نے مندرجہ ذیل اسباب اور اس کے بعد ان کے نقصانات کا احاطہ کیا ہے۔

٭ پورن دیکھنے والوں کی جنسی زندگی میں کافی تبدیلیاں نظر آتی ہیں ان کو اپنے یا ایک ہی پارٹنر سے راحت محسوس نہیں ہوتی چونکہ وہ پورن فلموں میں نت نئے اور بہت زیادہ پارٹنر دیکھ دیکھ کر اپنے اندر جوش کی وجہ سے خود لذتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پورن کے بغیر وہ اپنے آپ کو بہت ٹھنڈا محسوس کرتے ہیں جبکہ دیکھنے سے ان کے اندر جوش پیدا ہوتا ہے۔

٭ریگولر پورن دیکھنے والے پانچ میں سے ایک آدمی نے اقرار کیا ہے کہ وہ پورن دیکھ کر اپنی ناآسودہ خواہش کو کنٹرول کرتے ہیں۔

٭رپورٹ میں شامل لوگوں میں سے بارہ فیصد لوگ ہفتہ میں پانچ گھنٹے تک پورن دیکھنے میں وقت صرف کرتے ہیں اور ستاون فیصد لوگ ہفتہ میں پندرہ گھنٹے سے زائد وقت پورن دیکھنے میں گزارتے ہیں۔

٭Nofap ریسرچ رپورٹ میں شامل لوگوں میں پچاس فیصد لوگوں نے زندگی میں کبھی جنسی تعلقات قائم نہیں کیے بلکہ ان کا جنسی علم صرف نیٹ تک محدود ہے۔

٭بیالیس فیصد طالب علم ریگولر بنیادوں پر فحش مواد دیکھتے ہیں جبکہ تریپن فیصد لوگ بارہ سے چودہ سال کی عمر میں پورن دیکھنے کی عادت کا شکار ہوئے ، سولہ فیصد لوگ بارہ سال سے بھی کم عمری میں اس لت کا شکار ہوئے جو کہ بہت ہی خوفناک ہے۔

٭رپورٹ کے مطابق چونسٹھ فیصد لوگوں میں پورن کی لت لگنے کے بعد مسلسل پورن دیکھنے والے بہت سے لوگ مختلف جنسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ ستائیس سال سے اکتیس سال کے سولہ فیصد افراد سرعت انزال کا شکار ہوئے ہیں۔ پچیس فیصد افراد اپنے پارٹنر یا شریک حیات سے جنسی تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتے چونتیس فیصد لوگ آرگزم کو نہیں پہنچ پاتے اور بتیس فیصد ایستادگی میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

٭خود لذتی اور پورن سے جان چھڑانے والے افراد نے Nofap رپورٹ میں اقرار کیا ہے کہ ان کی ذاتی جنسی زندگی میں کافی بہتری آئی ہے۔ ستاسٹھ فیصد افراد لوگوں میں توانائی اور کارکردگی میںاضافہ ہوا ہے۔

یہ دیکھنا کہ مرد حضرات پورن زیادہ کیوں دیکھتے ہیں، زیادہ ضروری نہیں ہے جتنا یہ دیکھنا کہ دیکھنے والوں پر کیا منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مرد اور عورت دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ سب مرد پورن دیکھتے ہیں جوکہ درست نہیں ہے۔ پورن دیکھنے کے منفی اثرات جاننے سے قبل ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مردوں کے پورن دیکھے کی وجوہات کیا ہیں۔

ایک امریکن ڈاکٹر Kurt Smith نے مندرجہ ذیل آٹھ وجوہات لکھی ہیں۔

1۔ پورن دیکھنے والے افراد جنسی ہیجان خیزی کا مزہ لیتے ہیں اور جلد ریلیز چاہتے ہیں جو کہ پورن انہیں فراہم کرتا ہے جس سے یہ خود لذتی کرتے ہیں۔

2۔ وہ جنسی تعلقات میں انواع و اقسام چاہتے ہیں جو کہ ان کو پورن فراہم کرتا ہے چونکہ فحش فلموں میں جوڑے عموماً بلاتے رہتے ہیں اور مرد انہیں اپنی پسند کے مطابق دیکھ سکتے ہیں۔

3۔اپنی عملی زندگی میں وہ اپنے پارٹنر کے ساتھ وہ جنسی عمل نہیں کر سکتے جو کہ وہ فلموں میں دیکھتے ہیں۔ اس لیے وہ پردہ سکرین پر سب کچھ دیکھ کر اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔

4۔ عملی زندگی اور خانگی زندگی میں مردوں کیلئے بہت سی پریشانیاں، دباﺅ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے لیکن پورن کی دنیا مرد کے اپنے کنٹرول میں ہوتی ہے جہاں وہ اپنی مرضی سے سب کچھ دیکھ سکتا ہے جو کہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ کر نہیں سکتا۔

5۔ مردوں کی عملی زندگی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ کبھی آپ کا پارٹنر تیار ہے اور آپ تھکے ہوئے ہیں یا پھر آپ کی خواہش عروج پر ہے اور آپ کا پارٹنر مصروف ہے یا پھر بالکل تیار نہیں ہے لیکن پورن کی دنیا میں آپ کا حرم ہر وقت تیار ہوتا ہے۔ آپ ایک بٹن دبا کر اس دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔

6۔ پورن کی دنیا میں آپ کے اپنے تصورات ہیں، خواب ہیں جن کی تکمیل کے لیے آپ دنیا کی حسین ترین عورتوں کو اپنے ساتھ تصور کر سکتے ہیں اور پردہ سکرین پر وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جس کا تصور بھی اپنی خاتون خانہ کے ساتھ مشکل ہے۔

7۔ دفتری مشکلات، کاروباری مصروفیات، گھریلو زندگی سے بیزاری اور فیملی پریشانیوں میں بندے کو پورن میں راحت محسوس ہوتی ہے اور وہ اس راحت سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔

8۔ وقتی تسکین ہمارے لیے خاص کشش نہیں رکھتی۔ ایک کسٹمر نے بتایا کہ تیز رفتاری کے اس دور میں ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے لیے ہر چیز فوراً حاضر ہو۔ پورن کی دنیا ایک تیز ترین حل پیش کرتی ہے جس میں آپ اپنی خواہش کی فوری تکمیل کر سکتے ہیں میں اکثریہ سنتا ہوں اور مرد مجھے بتاتے ہیں کہ لامتناہی اور غیر محدود انتخاب اور ایسے پسندیدہ معاملات، انواع و اقسام اور ایسی پسند جو اپنے پارٹنر سے حاصل نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے وہ پورن کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں۔

مندرجہ بالا میں سے صرف چار وجوہات کا تعلق سیکس سے ہے، باقی وجوہات مختلف ہیں۔ کیا پورن دیکھنا عورت کے ساتھ دھوکہ ہے۔ بہت سی عورتیں ایسا ہی سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں پورن دیکھنے کے بہت ہی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انٹر نیٹ کی فراوانی اور آسان رسائی کی وجہ سے کم عمری میں پورن دیکھنے کا رحجان بڑھ گیا ہے اور دیکھنے والے اپنی نا آسودہ خواہشات کی تکمیل کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں اور ان کا شکار عموماً کم عمر بچے اور بچیاں ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آپ پچھلے چند سالوں میں بچوں پر جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات دیکھ رہے ہیں۔ اس کا عام لوگوں کی ازدواجی زندگی پر بھی پڑتا ہے جس سے ازدواجی زندگی میں بہت سے بگاڑ پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے ماں باپ اور سنجیدہ لوگ اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں