کچھ بات انتظار حسین اور عبداللہ حسین کی


\"asif-farrukhi_1\"افسانے کے ایک استاد کا دوسرے عبقری کو خراجِ تحسین۔ عبداللہ حسین کے انتقال کے فوراً بعد انتظار حسین نے یہ کالم روزنامہ ڈان کراچی کے لیے لکھا تھا۔ یہ کالم جولائی 2015ء میں شائع ہوا۔ دنیا زاد کے لیے انتظار حسین سے ایک خصوصی تحریر کی فرمائش کی گئی تو اُنھوں نے کہا کہ اس کالم کا ترجمہ کر ڈالو۔ اس کالم کی اشاعت اور عبداللہ حسین کے انتقال کو ایک برس بیت گیا اور اس بہانے سے اُنہیں یاد کرنے کا ایک موقع مل گیا۔ اس لیے کالم حاضر ہے۔ لیکن ’’آنگن‘‘ کے سنہ اشاعت کے بارے میں مصنف کو یقیناً تسامح ہوا ہے۔ اس کالم کا انگریزی سے ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے۔

حقیقت نگاری کا ماہر

عبداللہ حسین اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ وہ گزر گئے اور اپنی متاع کے طور پر اپنا سب سے قیمتی سرمایہ چھوڑ گئے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ اپنی بہترین سوجھ بوجھ کے ساتھ اس کا جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ادب میں کوئی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ آنے والی نسلیں یہ ذمہ لے لیتی ہیں کہ ماضی کے کسی بڑے ماہر فن کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اپنے نئے فہم و فراست کے مطابق اس کی مختلف تشریح سامنے لائی جائے۔

عبداللہ حسین کو اپنے پہلے ہی ناول ’اداس نسلیں‘ کی اشاعت کے بعد شہرتِ عام حاصل ہوگئی یہاں تک کہ بہت سے پڑھنے والے ابھی تک وہیں پر اٹکے ہوئے ہیں۔ پڑھنے والوں کا یہ روّیہ ہمیں چاہے اچھا نہ لگے مگر اس کے اپنے اسباب ہیں۔ اس لیے اس ناول پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کوئی بھی ادب پارہ مناسب طریقے سے سمجھ میں نہیں آتا اگر اسے کاٹ کر علیحدہ کر دیا جائے۔

’’اداس نسلیں‘‘ پاکستان کی دوسری دہائی میں سامنے آیا جب ہمارا افسانوی ادب 30ء اور 40ء کی دہائی کے سحر سے نکل رہا تھا اور ایک نئے رجحان کے زیراثر آرہا تھا۔ افسانے سے ناول کی طرف گریز ہوا۔ تقسیم کے فوراً بعد سامنے آنے والا پہلا ناول قرۃ العین حیدر کا تھا۔ ان کا ناول ’’میرے بھی صنم خانے‘‘ 1949ء میں شائع ہوا اور اس کے بعد جلد ہی خدیجہ مستور کا ’’آنگن‘‘ سامنے آیا۔ اس زمانے میں اردو ناول خواتین کا معاملہ معلوم ہوتا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  ایک انگریز بابے سے ملاقات

\"asifجب 1959ء میں قرۃ العین حیدر آگ کا دریا لے کر آئیں تو یہ واقعی ایک بہت بڑی جست تھی۔ اب وہ قدیم بھارت کے زمانوں میں پہنچ گئی تھیں۔ ان کے کردار ویدانت اور بُدھ مت کی زبان بول رہے تھے۔۔۔ یہ 30ء اور 40ء کے مارکسزم سے مکمل اجتناب تھا۔ ترقی پسندوں کا سیاسی، معاشرتی شعور مطالبہ کرتا تھا کہ ادیب اپنے زمانے کے پابند رہیں اور ماضی میں فرار کی کوشش نہ کریں۔ مگر اب اردو ناول نے یہ آزادی حاصل کرلی تھی کہ تاریخ کی وسیع دنیا میں سفر کرے بلکہ ماقبل تاریخ تک پہنچ جائے جو غالب کی اس خواہش کے عین مطابق تھا:

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

اسی زمانے میں ایک نوجوان ناول نگار سامنے آیا جو بالکل گم نام تھا اور وہ بغل میں ایک ناول داب کر لایا جس کا نام ’’اداس نسلیں‘‘ تھا۔ اس ناول میں کردار ایک وسیع علاقے میں حرکت کرتے ہیں، ذہنی افق بھی وسیع ہوگئے ہیں۔ سارے مذاہب امن اور آشتی کے علم بردار ہیں۔ ’’لیکن کیوں؟، ایک کردار سوال کرتا ہے‘‘ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب کسی ایک مذہب سے واسطہ ہو تو دوسرے مذاہب کے خلاف اتنی نفرت اور تعصّب پیدا ہو جاتا ہے؟ ‘‘ لیکن یہ سارے مباحثے وقتی ثابت ہوتے ہیں۔ وقت اتنی تیزی کے ساتھ ایک دور سے دوسرے دور میں سفر کرجاتا ہے کہ اس میں بہت ہیجان پیدا ہو جاتا ہے اور اس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر خون ریزی میں ظاہر ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ تمام بیانیہ اپنے اندر ایک اٹل کیفیت لے کر آگے بڑھتا ہے جو پڑھنے والے کے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔

اس ناول کے علاوہ جس کی اپنی بڑی دلکشی ہے، عبداللہ حسین نے افسانے بھی لکھے ہیں، طویل اور مختصر، جو ان کے تخلیقی ذہن کے تنوّع کو ظاہر کرتے ہیں۔ غالباً وہ اپنے فن کی بلندیوں پر اس مجموعے میں نظر آتے ہیں جو ’’نشیب‘‘ کے نام سے چھپا۔ اس مجموعے میں دو مختصر ناول ’’نشیب‘‘ اور ’’واپسی کا سفر‘‘ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اس مجموعے میں پانچ افسانے بھی شامل ہیں۔ یہ سب ایک ساتھ مل کر حقیقت پسندانہ طرز نگارش میں ان کی مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  گوادر پورٹ پر میٹرو بس ٹرمینل بنایا جائے

\"asif
ان کا مختصر ناول ’’واپسی کا سفر‘‘ خاص طور پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ حقیقت پسندی کے کتنے بڑے ماہر فن تھے۔ یہ ناول پاکستانی تارکین کے چھوٹے سے گروہ کی عکاسی کرتا ہے جو ایک عمارت کے مختصر سے حصّے میں ساتھ رہ رہے ہیں اور کیا شان دار بیانیہ ہے__ جس میں کردار ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کررہے ہیں اور ایک ساتھ مل کر ان فلاکت زدہ حالات میں گزارا کررہے ہیں کہ جن میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اس فلاکت زدہ کونے میں رہتے ہوئے وہ اپنی اپنی نوکری کے علاوہ کچھ اور سوچنے کے قابل نہیں رہے، لیکن دھیرے دھیرے اور بغیر کسی ارادہ کے، اس کا رابطہ ایک سفید فام عورت سے ہو جاتا ہے جو اسی چھت کے تلے رہتی ہے۔ یہ رابطہ بڑھتا چلا جاتا ہے، وہاں مقیم ہر ایک فرد کے روّیے میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔ وہ زندگی سے لطف لینے لگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بڑی مصیبت میں مُبتلا پاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ بڑی مصیبت میں ہیں مگر ان کے حالات بھی بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

درحقیقت ’’واپسی کا سفر‘‘ میں مصیبت اور فلاکت کے دوران زندگی کے بہتر ہونے کا بہت عمدہ نقشہ کھینچا گیا ہے۔ یہ مصیبت کے بھیس میں خیروبرکت کی کہانی ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: آصف فرّخی)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔