مولانا سمیع الحق کے سیکرٹری سید احمد شاہ سے مبینہ جنسی تعلقات کے شبہ میں خاتون گرفتار


تفتیش کاروں نے مولانا سمیع الحق مرحوم کے سیکرٹری سید احمد شاہ سے مبینہ ناجائز مراسم کے شبے میں ایک خاتون کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی لیکن مولانا سمیع الحق کے پرسنل سیکرٹری گزشتہ 6 روز سے اکوڑا خٹک سے لاپتہ ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زیر حراست مشتبہ خاتون کو لاپتہ سیکرٹری سید احمد شاہ کے موبائل ریکارڈ ڈیٹا کے ذریعے حراست میں لیا گیا ہے تاہم خاتون کو مولانا سمیع الحق کے قتل سے متعلق کوئی علم نہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایئر پورٹس پولیس نے پولیس اسٹیشن ریس کورس کے ساتھ مل کر راول ٹاؤن میں ایک گھر پہ چھاپہ مارا اور (کے بی) نامی خاتون کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کیلئے تھانہ ایئر پورٹ منتقل کر دیا گیا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس افیسر نے میڈیا کو بتایا کہ مولانا سمیع الحق کے پرسنل سیکرٹری احمد شاہ لاپتا ہیں۔ زیر حراست خاتون سے ان کے گزشتہ کئی ماہ سے فون پر رابطے تھے خاتون شادی شدہ ہے اور بچوں والی ہے۔ اس کے سید احمد شاہ سے مبینہ تعلقات تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاتون سے لاپتہ سیکرٹری سے متعلق پوچھ گچھ کر رہے ہیں، تاہم اس کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بظاہر تو ہی لگتا ہے کہ زیر حراست خاتون بے گناہ ہے اور قتل سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

دوسری جانب عدالتی بیلف نے خاتون کی فیملی کی درخواست پر غیر قانونی حراست میں رکھنے پر چھاپہ بھی مارا ہے، تاہم اس عدالتی بیلف کے چھاپے کے نتیجے میں اس کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا کیونکہ اسے کسی دوسری نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید انکشاف کہا کہ پولیس کے تفتیش کاروں نے مولانا سمیع الحق قتل کیس سے شبے میں خیبرپختونخواہ کی ایک یونیورسٹی کی طالبہ کو بھی گرفتار کر کے راولپنڈی منتقل کیا گیا ہے، تاہم سی پی او راولپنڈی عباس احسن نے دونوں خواتین کی حراست سے متعلق خبر کی تردید کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ سیکرٹری احمد شاہ کے خاندان نے مولانا کے قتل میں تمام تعاون کرنے کی پیشکش کی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں