طاہر داوڑ کی کہانی اور شہر ناپرساں


محمد طاہر داوڑ شمالی وزیرستان میں پیدا ہوئے۔  وہ بچپن اور جوانی میں ان سب صعوبتوں سے گزرے جن سے قبائلی علاقوں کا ہر نوجوان گزرتا رہا اور ان کے خاندان کو بھی اسی طرح جبر اور بے دخلی کے عذابوں کو جھیلنا پڑا جو عذاب وزیرستان کے ہر گھرانے کا مقدر بنے تھے۔  شاعرانہ طبیعت پائی تھی اس لئے ایم اے پشتو کو ترجیح دی۔ عشق و محبت اور امن کی آس کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری پر وطن اور اس میں رہنے والے انسانوں سے پیار کا رنگ غالب تھا۔

اپنی شاعری میں انہوں نے اپنے لوگوں کی صعوبتوں اور دکھوں کو اس خوبصورتی سے الفاظ کا جامہ پہنایا کہ پشتو کے معروف گلوکار ان کی شاعری گانے پر مجبور تھے۔  البتہ وہ اپنی قوم کو مایوسی کی طرف لے جا رہے تھے اور نہ بغاوت پر اکسا رہے تھے بلکہ تعلیم اور محنت کا درس دے کر وہ ان مصائب سے نکلنے کا مناسب اور مثبت راستہ دکھا رہے تھے۔  اپنی دھرتی اور لوگوں کی حفاظت کا شوق انہیں محکمہ پولیس میں لے آیا۔ وزیرستان میں چونکہ پولیس کا نظام نہیں تھا اس لئے وہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پختونخوا پولیس میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے۔  مختلف حیثیتوں میں وزیرستان کے سنگم پر واقع ضلع بنوں میں کئی سال تک آگ سے کھیلتے رہے۔  ان کو مارنے کے لئے خودکش حملے بھی ہوئے لیکن اللہ نے ان کو سلامت رکھا۔ کچھ عرصہ قبل وہ پشاور کے

ایس پی رورل تعینات ہوئے اور اغوا کے دن تک اس پوسٹ پر کام کرتے رہے۔  26 اکتوبر کو وہ نئے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جس کی سیکورٹی کے براہ راست انچارج وزیراعظم ہیں، میں چھٹی کا دن گزارنے آئے جہاں سے نامعلوم افراد نے ان کو اٹھا لیا۔ ان کی اغوا کی خبر میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی لیکن پولیس کی کوئی حرکت نظر آئی اور نہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی۔ ان کے قتل کی خبر تک درمیان کے اٹھارہ دنوں میں وزیر مملکت برائے داخلہ کی زبان سے نہ ان کا نام سننے کو ملا، اس حوالے سے کوئی کمیٹی بنی اور نہ ہی کوئی اجلاس ہوا۔

ان کے بھائی اور بیٹا کبھی ایک در اور کبھی دوسرا در کھٹکھٹاتے رہے لیکن کسی وزیر مشیر نے ان کی اشک شوئی نہیں کی۔ اغوا کے دو دن بعد ان کے موبائل فون سے ان کی اہلیہ کو انگریزی زبان میں ایس ایم ایس موصول ہوا کہ وہ خیریت سے ہیں اور ایسے علاقے میں ہیں جہاں سگنل کام نہیں کرتے۔  ان کے بھائیوں کے مطابق پولیس نے انہیں بتایا کہ جہاں سے ایس ایم ایس آیا تھا، وہ جہلم کے ساتھ سرائے عالمگیر کا علاقہ تھا۔ کے پی حکومت اور پولیس کی طرف سے ان کے اہل خانہ کو مشورے دیے جاتے رہے کہ وہ خاموش رہیں لیکن تنگ آکر ان کے اہل خانہ اور داوڑ قبیلے کے عمائدین نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرلی، تاہم پھر بھی حکومت حرکت میں نہیں آئی۔

ان کے اغوا کے چند روز بعد وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی اور ترجمان افتخار درانی نے دعویٰ کیا کہ طاہر داوڑ کے اغوا کی خبر میڈیا نے غلط طور پر پھیلائی ہے۔  وہ دو تین دن کے لئے چھٹی پر گئے تھے اور اب واپس پشاور پہنچ گئے ہیں۔  وائس آف امریکہ کی اینکر نے ان کے دعوے پر حیرت کا اظہار کیا لیکن درانی صاحب نے دعویٰ کیا کہ باخبر ترین حکومتی عہدیدار اور پختون ہونے کے ناتے ان سے زیادہ قوی بات کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔

ان کے اغوا کے دنوں میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے ملک بھر کے دورے بھی کیے، ٹی وی کو لمبے لمبے انٹرویوز بھی دیے، تھانوں پر چھاپوں کے تماشے بھی کیے اور اپنے خیالات عالیہ سے الجزیرہ ٹی وی کے ذریعے دنیا کو باخبر کرنے کے لئے قطر کے دورے پر بھی گئے لیکن وقت نہیں نکال سکے تو بس طاہر داوڑ کی بازیابی کی خاطر کوشش کے لئے یا ان کے اہل خانہ کے پاس جانے کے لئے۔  بالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ 13 نومبر یعنی کے اغوا کے اٹھارہ دن بعد طاہر داوڑ کی میت کی تصویروں کے ساتھ یہ خبر آئی کہ پشاور کے باسیوں کی زندگیوں اور عزتوں کے تحفظ کی ڈیوٹی پر مامور طاہر داوڑ مردہ حالت میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پائے گئے ہیں۔

اگلے دن جب وزیر مملکت برائے داخلہ سے میڈیا والوں نے سوال کیا تو انہیں تب بھی حقیقت حال کا پتا نہیں تھا اور فوٹو شاپ کی ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ابھی کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا اور چونکہ یہ حساس معاملہ ہے اس لئے وہ اس پر سردست بات نہیں کر سکتے۔  اگلے دن وہ سینیٹ میں آئے اور پھر بلند آواز میں بلند دعوؤں کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ بالآخر وزیراعظم حرکت میں آ گئے ہیں اور تحقیقات کے لئے ان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اب کمیٹیوں کے قیام کا کیا فائدہ؟

بے حسی کا اس سے بڑا نمونہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی مبینہ مثالی پولیس کے ایک ایس پی، نئے پاکستان کے دارالحکومت سے اغوا ہوئے اور آج اٹھارہ دن بعدان کے معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی بنا ئی گئی ہے۔  رہی سہی کسر افغان حکومت نے پوری کر دی۔ افغان حکومت میں موجود پاکستان اور افغان دشمن عناصر (میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ جو افغان پاکستان کے ساتھ اپنی حکومت کے تعلقات خراب کر رہے ہیں وہ صرف پاکستان کے نہیں بلکہ افغانستان کے بھی دشمن ہیں اور جو پاکستانی افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کر رہے ہیں وہ افغانستان کے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بھی دشمن ہیں ) نے طاہر داوڑ کی میت کو حوالے کرنے کے معاملے میں جس گندی سیاست سے کام لیا اسے اسلامی، انسانی، سفارتی اور پختون روایات کی بدترین پامالی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔

افغانستان کی حکومت نے جو کچھ کیا وہ اپنی جگہ افسوسناک ہے لیکن اب اس کی آڑ میں حکومت پاکستان جس طرح اپنے جرائم کو چھپانا چاہتی ہے، وہ افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔  طاہر داوڑ کے پی کے مثالی صوبے، جس پر پانچ سال پی ٹی آئی نے حکومت کی ہے، کے افسر تھے۔  وہ اسلام آباد سے اغوا ہوئے جس کی سیکورٹی براہ راست وفاقی وزیر داخلہ عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔  یہاں سے انہیں سرائے عالمگیر جو وزیر اطلاعات کا علاقہ ہے، لے جایا گیا۔

پھر انہیں میانوالی جو وزیراعظم کا حلقہ ہے، سے گزارا گیا۔ اس کے بعد انہیں کوہاٹ جو وزیرمملکت برائے داخلہ کا علاقہ ہے سے گزار کر بنوں کے راستے افغانستان لے جایا گیا (واضح رہے یہ روٹ شہریار آفریدی نے سینیٹ میں بتایا ہے ) اور پھر افغانستان کے صوبہ ننگرہار منتقل کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس دوران حکومت کہاں تھی اور درجنوں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کنٹرول رکھنے والے وزیراعظم کیا کر رہے تھے؟ اگر کسی بندے کو اسلام آباد سے اٹھا کر اس روٹ سے افغانستان لے جایا جاتا ہے جس کی نشاندہی شہریار آفریدی نے کی ہے تو اغوا کاروں کو کم ازکم پچاس چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے جس میں اسلام آباد پولیس کی چیک پوسٹس بھی آتی ہیں، پنجاب پولیس کی بھی، کے پی پولیس کی بھی، آرمی کی بھی، ایف سی کی بھی اور لیویز کی بھی۔

سوال یہ ہے کہ ان سب چیک پوسٹوں سے انہیں کیسے گزارا گیا؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ہم جیسے عام شہری اپنی عزت اور جان کے تحفظ کے لئے اس ریاست پر اعتماد کریں تو کیسے کریں؟ وزیراعظم کے ترجمان اور معاون خصوصی افتخار درانی نے جس بے دردی کے ساتھ مغوی پولیس آفیسر کے بارے میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے میں بیٹھ کر سفید جھوٹ بولا کہ وہ تو پشاور میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں پھر اس حکومت کے کسی اور دعوے پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

وزیراعظم کے ترجمان کی اس بے حسی اور ڈھٹائی کے بعد اب ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ آسیہ بی بی سے متعلق اس حکومت کا دعویٰ درست ہے۔  اب میں کیسے مان لوں کہ اسرائیل کا جہاز پاکستان نہیں آیا۔ یہ حکومتی ترجمان اگر مغوی طاہر داوڑ کے بارے میں میڈیا پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ پشاور میں اپنے گھرمیں بیٹھے ہیں تو پھر نجانے ان معاملات پر کس قدر جھوٹ بول رہے ہوں گے جن کی ہم تصدیق نہیں کر سکتے۔  سوال یہ ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یا پھر شہر ناپرساں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں