عمران، قادری اور قانون کے مہرے


\"imranملک میں قانون کی بالا دستی اور انصاف کے حصول کی جد وجہد کے لئے ہر قربانی دینے کا بار بار اعلان کرنے والے دو لیڈروں عمران خان اور علامہ طاہر القادری خود قانون کے کسی ضابطے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ صرف اسی بات کو انصاف کہتے ہیں جو ان کے منہ سے ادا ہو جائے۔ اس کا مظاہرہ آج اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں دیکھنے میں آیا ہے۔ عدالت 2014 کے دھرنے کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کے ایک مقدمہ میں متعدد بار ان دونوں لیڈروں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔ لیکن پولیس ان احکامات پر عمل کروانے سے قاصر ہے ۔

عمران خان اور طاہرالقادری اس مقدمہ میں اپنی ضمانت کروانے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ آج ایک بار پھر اس مقدمہ کی سماعت ہوئی تو تھانہ سیکریٹریٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل ایس ایچ او نے عدالتی حکم کی تعمیلی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس پارٹی عمران خان کی گرفتاری کے لئے بنی گالہ گئی تھی۔ لیکن دروازے پر موجود گارڈ نے اسے بتایا کہ اسے نہیں پتہ کہ عمران خان کہاں ہیں۔ اس لئے پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ طاہر القادری کے بارے میں پولیس کا مؤقف تھا کہ وہ بدستور ملک سے باہر مقیم ہیں۔ اس لئے پولیس نے طاہرالقادری کی گرفتاری کے بارے میں تعمیلی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔حالانکہ پاکستان عوامی تحریک کے لیڈر گزشتہ ہفتہ کے دوران بڑی دھوم دھام سے پاکستان واپس آئے ہیں اور جمعہ کے روز انہوں نے لاہور میں دھرنا نما جلسہ بھی منعقد کیا تھا ، جس میں اپنے کارکنوں کی ہلاکت پر انصاف نہ ملنے کی دہائی دی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان ملک میں انصاف اور قانون کی بالا دستی کے لئے مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ ان دونوں لیڈروں کا مؤقف رہا ہے کہ کسی قانون شکنی کی صورت میں کسی بھی شخص کو خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز ہو اور کتنا ہی بااثر ہو، اسی طرح سزا ملنی چاہئے جس طرح عام شہری کو کوئی جرم کرنے پر جواب دہ کیا جاتا ہے۔ اسی لئے طاہرالقادری ماڈل ٹاؤن سانحہ میں اپنے 14 کارکنوں کی ہلاکت کے الزام میں نواز شریف اور شہباز شریف کو پھانسی لگتا دیکھنا چاہتے ہیں اور عمران خان پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد نواز شریف کا استعفیٰ بھی چاہتے ہیں اور ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مبینہ الزامات کی روشنی میں انہیں فوری قید کی سزا ہونی چاہئے۔ اگر کوئی عدالت ان دونوں لیڈروں کا یہ مؤقف تسلیم نہیں کرتی تو وہ نظام کو گرانے کی بات کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے۔ ان دونوں کے خلاف مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج نے پولیس رپورٹ پر سر پیٹتے ہوئے کہا کہ دونوں ٹی وی پر تو سب کو نظر آتے ہیں ، پولیس کو کیوں نہیں ملتے اور ضابطہ کے مطابق دونوں کو 20 جولائی تک گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس حکم پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکے گا۔

اسی بارے میں: ۔  پیپلز پارٹی اور پاکستان کا المیہ

انصاف کے جس اصول کی بات دونوں لیڈر کرتے ہیں ، اگر وہی اصول عمران خان اور طاہرالقادری پر بھی نافذ کیا جائے تو ان پر بھی پولیس پر حملہ کرنے اور پولیس افسروں کو زدوکوب کرنے کا سنگین الزام عائد ہے۔ ان پولیس افسروں میں ایک ایس ایس پی آپریشنز عصمت جونیجو بھی شامل ہیں۔ دو سال سے یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری اس ملک کے عام شہری ہیں، اگرچہ طاہر القادری نے اب کینیڈا کی شہریت بھی حاصل کرلی ہے۔ اپنے ہی بیان کردہ اصول کے مطابق انہیں خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہئے تاکہ یہ بات طے ہو سکے کہ ان کا انصاف کا نعرہ صرف سیاسی دشمنی کے لئے حکومت کو گرانے کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ واقعی اس ملک کے سب شہریوں کو مساوی سمجھتے ہیں اور بنیادی حقوق اور ذمہ داری کے معاملہ میں وہ خود بھی کسی سے بالا تر نہیں ہیں۔ لیکن ان کے عمل اور رویہ سے واضح ہوتا ہے کہ انصاف کا پیمانہ ان کے کسی فعل پر نافذالعمل نہیں ہوتا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان دونوں لیڈروں کو گرفتار کرنے پر آمادہ نہیں ہے کیوں کہ اس طرح ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان یوں تو دبنگ ہیں جو سب کو قانون کی لاٹھی سے ایک طرح ہانکنے کی بات کرتے نہیں تھکتے، اس کے باوجود وہ بھی ایسے لیڈروں کی گرفتاری کا خطرہ مول نہیں لے سکتے جو سیاسی طور سے مشکلات پیدا کرسکیں۔ عمران خان اور طاہر القادری بھی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی موجودہ سیاسی حیثیت میں جو قانون چاہیں توڑ لیں، کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ انصاف اور قانون نافذ کرنے کی یہ عجیب اور مضحکہ خیز صورت سب کو نظر آتی ہے لیکن پھر بھی ان کے نفاذ کی بات کرنا سیاسی نعرے کے طور پر اہم ہے۔

اسی بارے میں: ۔  شعبہ طبیعیات ڈاکڑ عبدالسلام کے نام سے منسوب۔۔۔ حکومت کا دلیرانہ قدم

ایسے میں عام آدمی کو کیسے اس بات پر یقین دلایا جائے کہ یہ سارے لیڈر واقعی قانون کی عملداری اور انصاف کا بول بالا چاہتے ہیں ۔ وہ حکومت کے عہدیدار ہوں یا عمران خان اور طاہر القادری جیسے انصاف پسند لیڈر، قانون ان کے لئے سیاسی کھیل میں ایک مہرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ ہو سکتا ہے کہ ان دونوں پر پولیس پر تشدد کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا ہو لیکن اس کا فیصلہ بہر طور عدالت کو کرنا ہے اور ملزم نامزد ہونے کے بعد کوئی بھی شخص عدالت کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں انصاف پسند اگر خود ایک معمولی مقدمہ میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر آمادہ نہیں تو اقتدار میں آکر بھی وہ ایسا ہی ’ہوشمند ‘ انصاف نافذ کریں گے جو بااثر لوگوں کو پہچان سکتا ہے لیکن غریب اور بے وسیلہ شہریوں کے معاملہ میں ’اندھا‘ ہو جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 686 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali