تین کردار، ایک کہانی اور بیس کروڑ تماشائی


\"haider ١- وہ اینٹ کی بھٹیوں میں کام کرنے والے مزدور تھے لیکن سپنے دیکھنا جانتے تھے – 24سالہ شمع اپنے جسم میں ایک نئی زندگی پال رہی تھی جسے کچھ عرصے میں شمع اور اس کے 27سالہ خاوند سجاد کی مشترکہ امنگوں کا امین بننا تھا – لیکن نومبر 2014میں ایک دن جوش ایمانی سے سرشار ہزاروں کے مجمع نے دونوں کو گھیر لیا – مشہور ہو چلا تھا کہ ایک دن قبل جو اوراق قرآنی کسی کے ہاتھ لگے تھے ان کو تلف کرنے میں سجاد کا ہاتھ تھا – جب ایمان کے نقارخانہ میں مستانوں کی ہا و ہو کا شور ہو تو کسی عقل کی طوطی کی آواز کب کسی کو سنائی دے سکتی ہے – خوف سے سکتے میں گرفتار میاں بیوی پر وار کرنے میں بپھرےہوۓ گروہ میں شامل افراد اک دوجے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے – جب دونوں کے جسموں کی نحیف و نزار ہڈیاں ٹوٹ چکیں تو گروہ میں سے کسی کو خیال آیا کہ زیادہ ثواب کے لئے ادھ موۓ جسموں کو جلا دینا چاہیے – چنانچہ جلدی سے تیل کا بندوبست کیا گیا اور دونوں کے جسموں کو آگ لگا دی گئی – شمع بی بی نے کچھ ایسے کپڑے پہن رکھے تھے کہ آگ ٹھیک طریقے سے نہیں لگ پا رہی تھی. چنانچہ کاٹن کے کپڑے سے اس کو ڈھانپا گیا اور پھر آگ لگا دی گئی – جوش ایمانی کی آتش کے آگے پٹرول کی آگ کی کیا حقیقت ہے – بپھرے ہوئے گروہ کا دل اب بھی نہ بھرا تھا اس لئے دونوں لاشوں کو اٹھا کر اینٹوں کی بھٹی میں پھینک دیا گیا – یوں ایمان کی حرارت والوں کا کچھ کلیجہ ٹھنڈا ہوا تو گروہ منتشر ہو گیا –

2-چوبیس سال آفتاب ،مضبوط اور تندرست جسم کا مالک  ،پانچ بچوں کا والد تھا. وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن جس سیاسی جماعت سے وابستگی تھی وہاں اس جیسے شہر کے نا ظم بن کر نام کما چکے تھے – اس لئے اپنی جماعت کے سب سے اہم رہنما کا رابطہ کار بننے کے بعد سے اس کے خاندان والوں کو یقین ہو چلا تھا کہ جلد یا بدیر وہ اپنے نام کی طرح آفتاب بن کر ابھریگا –  یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن تھا جب کراچی کے فیڈرل بی ایریا میں واقع اس کے گھر پر رینجرز کی گا ڑی آئی اور اس کو گرفتار کرکےلے گئی – عدالت سے تین مہینوں کے لئے اپنے پاس رکھنے کی اجازت بھی حاصل کرلی گئی – اگلے دن خاندان والوں کو اطلاع ملی کہ وہ ہسپتال سےآفتاب کی لاش کی وصولی کر لیں .

اسی بارے میں: ۔  لوگ مختلف کیوں ہوتے ہیں

گ ،گبرو ہے کہ بائیس بہاروں میں پلے  ——- ل ،لاشہ ہے کہ دو روز میں سڑ جائے

آفتاب افق پر ہی غروب ہو چکا تھا اور اس کی لاش تنویر سپرا کا یہ شعر بیان کر رہی تھی

تم شب کی سیاہی میں مجھے قتل کروگے -اور صبح کے اخبار کی سرخی میں بنوں گا

3- سولہ سال کی عمر انتہائی مسحورکن ہوتی ہے – زندگی حال ہی میں یبتے ہوئے بچپنے کی یادوں اور دستک دیتی جوانی کی امنگوں سے مالامال ہوتی ہے – امبرین کوئی شہزادی نہ تھی بلکہ ایک مزدور کی بیٹی تھی لیکن سنڈریلا بننے کا خواب دیکھنے سے بھلا اس کو کون روک سکتا تھا -وہ ایک شام سپنوں کے پنگوڑے میں لیٹی سستا رہی تھی جب اچانک اس کو گھر سے باہر شوروغوغا سنائی دیا – اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی محلےداروں کا گروہ اس کو گھر سے نکال کے زبردستی ایک قریبی مکان لے گیا – وہاں اس کو ایک شربت پینے کو دیا گیا – جس کے پیتے ہی اس پر غشی طاری ہوگئی – گروہ کے سر کردہ افراد نے پھر پیٹرول کے ڈبے کا بندوبست کیا اور بیہوش امبرین کو ایک گاڑی میں لیجاکے سیٹ سے باندھ دیا گیا – پھر اس پر پٹرول چھڑک کے ماچس کی تیلی اس پر پھینک دی گئی- خیال تھا کہ گاڑی میں دھماکہ ہوجاۓگا اور عمبرین کی موت ایک حادثہ تصور کی جاۓگی – لیکن آگ نے صرف عمبرین اور گاڑی کو جلا ڈالا اور پھر یہ کہانی خود آگ بن کر پورے ملک میں پھیل گئی-

اسی بارے میں: ۔  ساشا اوباما، امریکی عوام کی پشت اور خوف خدا

یہ تین مختلف کہانیاں ہیں. مقام ،کردار اور تفصیلات بظاہر بالکل منفرد ہیں لیکن اگر ذرا دل کی آنکھ سے ان کو دوبارہ پڑھا جائے تو صرف تین کرداروں پر مشتمل ایک ہی کہانی کے تین مختلف روپ لگتے ہیں. ایک وہ کردار یا کرداروں کا گروہ ہے جو خود کو روۓ زمین پر ایسا فرعون سمجھتا ہے جو اوروں کی زندگی اور موت کے فیصلے کرسکتا ہے – دوسرا بےبسی کا وہ کردار ہے جو اس زمینی خدا کے آگے اپنی عزت نفس اور زندگی دونوں ہارتا رہتا ہے – اور تیسرا کردار ان تماش بینوں کا ہے جو ہردم انجان بنے رہنے کی اداکاری کرتے رہتے ہیں – جو قتل کے یہ المناک مناظر خوب دیکھتے ہیں مگر منہ دوسری طرف موڑلیتے ہیں – یہ ایک ہی کہانی بار بار دہرائی جاتی رہتی ہے – جیسے ہر سال عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے – صرف کرداروں کے نام بدلتے رہتے ہیں. کبھی آسیہ بی بی ،کبھی حسن ناصر ، کبھی سمعیہ سرور ، کبھی رمشا مسیح ،کبھی نذیر عباسی ، کبھی سلیم شہزاد تو کبھی زینت رفیق –

 ہر سال ذاکرین کربلا اور رسم حسینی کا ذکر کرتے رہتے ہیں – ہر سال مبلغین رحمتوں اور برکتوں کی نوید سناتے رہتے ہیں لیکن جس تواتر سے یہ کہانی دہرائی جاتی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دست قاتل اتنا مضبوط ہے کہ اسے جھٹک دینے کی توفیق کسی کو بھی گوارا نہیں اور قربانی کا نشانہ بننے والوں کے جسم و دل جلا دیے جانے کے بعد مجھ جیسے سہمے ہوئے لکھاری فقط راکھ کریدتے رہتے ہیں – اور ان کہانیوں کو اپنی قصّہ خوانی کی زینت بناتے ہیں –

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔