خوشامد کو بھی سیاسی فراست کا حصہ بنایا جائے


قوموں کی طرح لیڈروں کی ناکامی یا جدید اصطلاح میں کامیابی کی ایک بڑی وجہ خوشامدی ٹولے کا حصار ہے۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے سیاسی اصطلاح اور فلسفہ میں نئی جہتیں تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو انہیں چاہئےکہ وہ اپنے دیرینہ و جدید دوستوں و حامیوں کی سہولت کے لئے خوشامد کو بھی سیاسی فراست کے بنیادی اصولوں میں شامل کرلیں۔ اس طرح ملک میں جمہوریت کا پہلے سے بگڑا چہرہ بھلے مزید بھیانک ہوجائے لیکن عمران خان کے علاوہ ان کے دوستوں کو سہولت ہوجائے گی کہ کسی کو ان پر طعن و تشنیع کا موقع نہیں ملے گا۔ اگر کوئی پھر بھی ایسا حوصلہ کرے تو سیاسی فراست کی نئی لغت میں لکھی تشریح دکھا کر ان عناصر کا منہ بند کیا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان ان دنوں مخالفین کی زد پر ہیں۔ گو کہ ان کی پنی حرکات و سکنات سے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ امور مملکت میں زیادہ دلچسپی لینے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن وہ جن شرائط پر اقتدار کی منازل طے کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کی وجہ سے انہیں وزارت عظمی کے اصل اختیارات کو ضمانت کے طور پر جمع کروانا پڑا ہے۔ اب وہ وزیر اعظم ہونے کا ڈھونگ ہی کر سکتے ہیں۔ رہی سہی کسر چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ملک کی سپریم کورٹ پوری کررہی ہے جسے یہ نادر روزگار خیال القا ہوچکا ہے کہ امور مملکت میں ان کی مداخلت کے بغیر نہ اس قوم کا بھلا ہو سکتا ہے اور نہ حکومت لائن کی سیدھ میں ادھر ادھر نگاہ ڈالے بغیر کام کرسکتی ہے۔ اس لئے ہر اس کام میں جو حکومتی اہل کاروں یا وزیروں کے کرنے کا ہے، اسے سپریم کورٹ کے سو موٹو احکامات کے ذریعے انجام دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ سول بیورو کریسی اس صورت میں حکومت کے وزیروں کی طرف دیکھنے کی بجائے چیف جسٹس کے تازہ سو موٹو کا انتظار کرتی ہے تاکہ اس کے مطابق لائحہ عمل تیار کرسکے۔

 اس صورت حال کا یہ فائدہ تو ہؤا ہے کہ ہر ادارہ و شخص وہ کام اس طریقے سے انجام دینے کی کوشش کررہا ہے جو اس کے کرنے کا نہیں ہے۔ اسی لئے وہ اس کے رموز سے بھی بے بہرہ ہوتا ہے۔ لیکن اس طرح ایک ایسی افراتفری کی کیفیت ضرور پیدا ہو گئی ہے جو قومی مفاد کے لئے ضروری تصور کی جارہی ہے۔ اور ملکی معاملات کو ایک خاص ڈھب سے طے کرنے کا تہیہ کرنے والی قوتوں کو اطمینان سے کام کرنے کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔

سول ملٹری تنازعہ کے جھمیلے میں سب سے بڑی مشکل یہی ہوتی تھی کہ سول حکومت کو کام کرنے نہیں دیا جاتا تھا اور آزادی رائے و صحافت کے نام پر اچھل کود کرنے والا میڈیا ان لوگوں کو بھی کام کرنے نہیں دیتا تھا جو خو د کو اس کا اہل سمجھتے رہے ہیں۔ اس مشکل سے نکلنے کے لئے سول ملٹری تنازعہ کا خاتمہ یوں کیا گیا کہ ایک ایسا ہونہار وزیر اعظم منتخب ہوگیا جس کے پاس مخالفین کی ایک طویل فہرست پہلے سے ہی موجود ہے۔ عمران خان نے بائیس برس کی طویل جد و جہد میں یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ اقتدار میں آنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے کون سے طریقے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ ان طریقوں میں صرف ان سیاست دانوں کے خلاف مہم جوئی کو بڑھاوا دینا ہی کافی نہیں ہے جو الیکٹ ایبلز یا مصالحت یا قومی مفاد یا اس سے بڑھ کر ملک کے لئے ایثا رکے نام پر اس گروہ میں شامل ہوجائیں جو حکومت کا حقدار ٹھہرے ۔ بلکہ ان فرائض میں یہ بھی اہم ہے کہ ایسے نت نئے تنازعات بھی کھڑے کئے جائیں جن کی وجہ سے عوام تو کیا خواص کی توجہ بھی ان معاملات کی طرف نہ جائے جو قوم و ملک کے لئے مشکل پیدا کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ تاکہ یکسوئی سے قومی مفاد کے لئے کام ہوتا رہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے ملکی میڈیا کو دام میں لانے کے لئے نقرئی زنجیریں تو ہمیشہ کی طرح کارآمد رہتی ہیں کہ مالکان کے علاوہ قلم کو ترقی کا زینہ سمجھنے والوں کی کبھی بھی اس ملک میں کمی نہیں رہی ہے۔ انہوں نے ہر زور آور کو قوم کا محسن اور ہر تاریک دور کو نئی صبح کی نوید بنا کر بیچا اور اپنا دامن سنہرے سکوّں سے لبریز کیا۔

ایسے میں اگر کچھ لوگ پھر بھی قومی مقصد کے عظیم کام میں رکاوٹ ڈالنے کے ’مذموم ہتھکنڈے‘ چھوڑنے پر تیار نہ ہوں تو ان کی گوشمالی کے لئے فواد چوہدری جیسے جیالے کو وزارت اطلاعات کا قلمدان اور مخالفین پر ہر طرح کا کیچڑ اچھالنے کا لائسنس دے کر معاملات کو قابو میں رکھنے کا کام لیا جارہا ہے۔ جو لوگ پھکڑ باز وزیر کی باتوں اور اختیارات سے متاثر ہونے سے بھی انکار کرتے ہوں انہیں سپریم کورٹ کے ایوان میں ان کی اوقات میں لانے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ ساری زندگی حرف کی آزادی ، رائے کی حرمت اور انسان کے وقاراور حقوق کی جد وجہد کرنے والے حسین نقی جیسے قد آور شخص کو جب چیف جسٹس ’ یہ کون ہے، اسے جرات کیسے ہوئی یا اسے باہر نکالو‘ جیسے الفاظ سے مخاطب کریں گے تو آزادی اور رائے کے احترام کا سبق پڑھنے والی نوجوان نسل کو کو خود ہی علم ہوجائے گا کہ یہ اتحاد اور اتفاق کا وقت ہے۔ اس وقت اختلاف کرنا، حق کی بات کرنا ، اصولوں کو بیان کرنا یا جمہوریت کی روایت جیسی’ کمزور ‘ دلیل کو برتنا سخت معیوب ہے۔ عمران خان نے درست فرمایا ہے کہ پاکستان کو ان جیسا دیانت دار لیڈر آج تک نصیب نہیں ہؤا ۔ ہر رہنما نے کسی نہ کسی طرح ان قوتوں کا ہاتھ روکنے کی کوشش کی تھی جو قومی مفاد کو ادارہ جاتی وراثت سمجھ کر من مانی کرنا اپنا بنیادی حق تصور کرتے ہیں اور معاملات خراب ہونے کی ذمہ داری جمہوریت کے دامن میں انڈیلنے کے لئے جمہوریت کے دعویداروں کا پول کھولتے رہتے ہیں۔ حتی کہ محمد خان جونیجو جیسے وزیر اعظم نے بھی ضیا جیسے مطلق العنان کو ناراض کرنے کا حوصلہ کرلیا تھا۔ لیکن عمران خان کی شان نرالی ہے۔ وہ سیاست و سیاست دانوں کو کو بدنام و بے وقعت کرکے جمہوریت پر عوام کا اعتبار ختم کرنے کا ایک ایسا کارنامہ سرانجام دے رہے ہیں جو کسی عظیم تر لیڈر ہی کی شان ہو سکتا ہے۔

اس قدر عظیم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بڑے لیڈر کو اپنی قدر و قیمت اور اہمیت بتانے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اسی لئے اب انہوں نے سیاسی مخالفین کے بخیے ادھیڑنے کے علاوہ سیاسی حکمت و دانش کے نئے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا کارنامہ عظیم سرانجام دینے کا قصد کیا ہے۔ مخالفین اس بڑے لیڈر کی ذہنی استعداد اور سیاسی عظمت کو سمجھے بغیر اپنے معمولی مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے عمران خان پر طرح طرح کے الزامات عائد کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھکنڈا ’عمران خان کے یو ٹرن‘ کے نام سے مشہور ہؤا ہے۔ اسے سادہ لفظوں میں منحرف ہونا یا اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا کہا جاتا ہے۔ عمران خان نے قومی مفاد کے تحفظ کی جد و جہد میں کئی ٹھوکریں کھائی ہیں ۔ ان ٹھوکروں کے دوران دن کو رات اور رات کو دن کہنے کی ضرورت بھی محسوس ہوتی رہی ہوگی۔ لیکن مخالفین نے اسے عمران خان کی دروغ گوئی قرار دے کر ان کا نام ہی ’یو ٹرن خان ‘ رکھ دیا تھا۔ عمران خان نے گزشتہ روز یہ واضح کرکے ان مخالفین کے منہ بند کردئیے ہیں کہ یو ٹرن تو عظیم لیڈر کی شان ہوتی ہے۔ بونے اور کم قامت رہنما اس بات کو کیا جانیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جو لیڈر یو ٹرن نہ لے سکتا ہو، اسے لیڈر کہلانے کا کوئی حق نہیں کیوں کی وہ ہٹلر اور نپولین کی طرح قوموں کو تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح عمران خان اس ملک کی تاریخ کے وہ پہلے عظیم دانشور لیڈر بن رہے ہیں جو سیاست ہی نہیں بلکہ سیاسی فلسفہ کو نئی اصطلاحات و معانی فراہم کرنے کا سبب بھی بنے ہیں۔

عمران خان کی اسی عظمت کو بھانپ کر صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم کے یو ٹرن کی وضاحت و صراحت کے لئے سیاسی فلسفہ ایجاد کرنے کے کارنامہ عظیم کو خرج تحسین پیش کرنے کے لئے بتایا ہے وہ خود بھی زندگی میں کئی یو ٹرن لے چکے ہیں۔ یعنی انہوں نے بھی عمران خان کی طرح کئی جھوٹ بولے ہیں۔ یوٹرن اور جھوٹ میں فرق یہی ہے کہ یوٹرن لیڈر لیتا ہے جو اسے عظیم سے عظیم تر بناتا ہے جبکہ جھوٹ عام آدمی بولتا ہے جو اسے کمتر و کہتر کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم کے بعد صدر مملکت کی تائد کے بعد ملک کے عوام اپنے عظیم وزیر اعظم سے اس بات کی توقع کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وہ خوشامد اور کاسہ لیسی کو بھی اپنی نئی سیاسی لغت بلکہ فلسفہ کا حصہ بنائیں ورنہ مخالفین کا کیا ہے وہ ڈاکٹر عارف علوی جیسے وفادار کو جھوٹے کے علاوہ خوشامدی کہہ کر ان کا تمسخر اڑانےکا سلسلہ شروع کردیں گے۔

قومی ترقی کے اس سفر میں عمران خان اناڑی سے کھلاڑی اور اب سیاست کو فلسفہ کی رموز سے آشنا کرنے والا لیڈر بن چکا ہے۔ وہ سیاست کو کرکٹ کا میدان بنانے کے سفر پر گامزن ہیں۔ ایسے میں یو ٹرن نہ لئے جائیں اور ان کی تائد نہ کی جائے یعنی عرف عام میں خوشامد نہ ہو تو قومی مقاصد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ لاحق ہوسکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1003 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali