صحافی، سیاستدان، انسانی حقوق کے کارکن اور نازیبا الفاظ کا استعمال


محترم مبشر زیدی صاحب نے کل اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں پاکستان کے چیف جسٹس صاحب کے لیے چند “نازیبا” الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ مجھے کم از کم ایک پڑھے لکھے اور کتب شناس شخص سے یہ توقع ہرگز نہیں تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ وقاص گورائیہ بن گئے ہوں۔ وقاص گورائیہ صاحب سے چند ماہ پہلے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے بھی گزارش کی تھی کہ پلیز الفاظ کے چناو میں خاص توجہ دیں، آپ “ناشائستہ الفاظ” بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ وقاص صاحب نے جواب دیا کہ گالیاں بھی ایک زبان ہیں اور اظہار خیال کا ایک ذریعہ ہیں۔

میں نے کہا کہ اگر ہر کوئی یہی طریقہ اظہار اپنائے گا تو رہی سہی انسانیت کا جنازہ بھی نکل جائے گا۔ میں زندگی بھر آپ کے ان دلائل کی مخالفت کروں گا۔

اسی طرح پاکستان میں سوشل میڈیا کے مشہور کردار “بابا کوڈا” ہیں۔ وہ بھی جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، ان کا دفاع ناممکن ہے۔ اس پیج کی تحقیق اور حقائق کے باوجود میں آج تک ان کی ایک پوسٹ کو بھی لائیک نہیں کر سکا، وجہ یہی بنیادی اخلاقی اصولوں سے ان کی روگردانی ہے۔ ان کے استعمال کردہ “ناشائستہ الفاظ” اب سوشل میڈیا پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اسی طرح سوشل میڈیا کے ایک محترم سجاد شاہ بھی ہیں، ہر ایک کا نام لکھنا ناممکن ہے کیوں کہ نامناسب الفاظ کا استعمال کرنے والی ایسی شخصیات کی فہرست طویل ہے۔ ادب اور صحافت میں “ لفظی انتہاپسندی” کا ایک ایسا کلچر فروغ پا رہا ہے کہ جس کے اثرات مبشر زیدی صاحب ایسے اعلی پائے کے صحافیوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ میری سب نظریاتی لکھاریوں سے گزارش ہے کہ آج کے دور میں اختلاف کرنا اور لفظوں کا استعمال سیکھنا ہے تو براہ مہربانی وجاہت مسعود صاحب کی تحریر پڑھ لیا کریں۔ میں ان کے بہت سے نظریات سے اتفاق نہیں کرتا لیکن ان کی اس خوبی کا قائل ہوں۔ انہیں جس سے لاکھ اختلاف بھی ہو، نفرت بھی ہو تو وہ اپنی تحریر میں آپ جناب کہہ کر اس سے مخاطب ہوتے ہیں۔

 دوسری جانب “ناشائستہ الفاظ” کا استعمال سیاست میں بھی اس قدر بڑھ چکا ہے کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیں اور بچوں کو ایسے الفاظ کے معانی بتانا مشکل ہو جاتا ہے۔

مسلم لیگ کے خواجہ صاحب کے محترمہ شیریں مزاری کے لیے ریمارکس ہوں یا پھر محترم عمران خان صاحب کے مسلم نون کے حامیوں کے لیے استعمال کیے جانے والے الفاظ، سبھی “زبان میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی” کی طرف اشارہ دیتے ہیں۔

ایسے الفاظ شاید چند غصے سے بھرے لوگوں کو تسکین تو شاید فراہم کر دیتے ہوں لیکن یہ کم علمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں یہ الفاظ “کھوکھلے پن” کا اظہار ہیں۔ اور آخر میں جناب چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ براہ مہربانی آپ کا منصب جن الفاظ کا تقاضا کرتا ہے، وہی استعمال کیا کریں۔ جس طرح اور جس انداز میں دوسرے فریق سے آپ مخاطب ہوتے ہیں، وہ کسی طور بھی قابل ستائش یا قابل تعریف نہیں ہے۔ ملزم ہو یا پھر مجرم، ان کے بھی بنیادی انسانی حقوق ہوتے ہیں، جو انہیں ملنے چاہئیں۔ قاتل کو بھی قتل کی سزا تو ملے گی لیکن جب آپ اسے پکاریں گے تو اسے بھی آپ کہلانے کا حق حاصل ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں