تین ماہ یا تین سال


انتقالِ اقتدار کو تین مہینے ہونے کو آئے ہیں جن میں واقعات کی اِس قدر گہما گہمی رہی کہ گمان گزرتا ہے عمران خان کی حکومت کو تین سال ہو گئے ہیں۔ پہلے یہ احساس کسی انتقالِ اقتدار کے بعد نہیں ہوا تھا۔ جب 2008 ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی، تو یہ کہا گیا کہ ملکی خزانہ خالی ہے اور پاکستان ڈیفالٹ کرنے والا ہے۔ تب اس حکومت نے آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرض لیا۔ 2013 ء میں انتخابات ہوئے، تو مسلم لیگ نون اقتدار میں آئی۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین نے انتخابات پر ’آراوز کے انتخابات‘ کی پھبتی کسی جبکہ تحریکِ انصاف کے چیئرمین جناب عمران خاں نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک میں 126 دنوں تک دھرنا دیا اور وہ امپائر کی انگلی اُٹھنے کا انتظار ہی کرتے رہے۔ اِسی اثنا میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں بہت بڑا سانحہ پیش آیا جس میں سینکڑوں بچے اور اساتذہ گولیوں سے بھون دیے گئے۔ دہشت گردوں نے جس وحشت اور بربریت کا مظاہرہ کیا تھا، اس نے پوری قوم کے اندر دہشت گردی کو بیخ وبُن سے اُکھاڑ دینے کا حوصلہ پیدا کیا۔

سیاسی اور عسکری قیادت کئی روز سر جوڑے بیٹھی رہی۔ گہرے غور و خوض کے نتیجے میں ایک جامع قومی ایکشن پلان ترتیب پایا اور آپریشن ضربِ عضب پوری قوت سے شروع ہوا جس کا دائرہ کراچی تک پھیلا دیا گیا۔ شمالی وزیرستان کا آپریشن بہت سخت جاں تھا، مگر ہماری فوج نے ناممکن کو ممکن بنا دیا اور ڈیڑھ دو سال کی جاں فروشی سے فاٹا اور کراچی میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں مسمار کر دی گئیں اور ملک میں بتدریج امن قائم ہوتا گیا۔

نوازشریف کی حکومت میں جناب اسحٰق ڈار وزیرِخزانہ بلکہ یوں کہیے کہ ”ڈی فیکٹو“ وزیرِاعظم تھے۔ وہ قومی اسمبلی میں نصف سے زائد کمیٹیوں کے چیئرمین تھے۔ اُنہوں نے تمام تر اندرونی اور بیرونی چینلجز کے باوجود پاکستانی روپے کی قدر قائم رکھی اور اقتصادی نشو و نما پر خاص توجہ دی۔ وزیرِاعظم نوازشریف اپنی ٹیم کے ساتھ چین سے سی پیک کا معاہدہ کرنے میں کامیاب رہے اور اس وقت جب کوئی ملک پاکستان میں ایک ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، چین کی طرف سے 62 ؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا مژدہ سنایا گیا اور توانائی کے شعبے میں برق رفتاری سے کام شروع ہو گیا۔

بجلی کی قلت پر قابو پا لیا گیا اور ملک میں سڑکوں اور شاہراہوں کا جال بچھتا چلا گیا جس سے معاشی سرگرمیوں میں حوصلہ افزا تیزی آئی اور روزگار کے زبردست مواقع پیدا ہوئے۔ افراطِ زر چار فی صد سے بھی کم سطح پر رہا جبکہ معاشی نمو میں 5.8 فی صد اضافہ ہوا جو گزشتہ پندرہ برسوں میں سب سے اونچی سطح تھی، مگر جب اگست 2018 ء میں تحریکِ انصاف برسرِاقتدار آئی، تو وزیرِخزانہ جناب اسدعمر نے یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ پاکستان کو انتہائی خطرناک معاشی بحران کا سامنا ہے۔

اُن کے مایوسی میں ڈوبے ہوئے بیانات سے پاکستانی روپے کی قدر تیزی سے گرتی گئی اور تحریکِ انصاف کے ذمہ دار اشخاص نے کہنا شروع کر دیا کہ ڈالر 140 روپے تک پہنچ جائے گا، چنانچہ سرمایہ کاری کا عمل بالکل رک گیا اور مارکیٹ میں بے یقینی نے ڈیرے ڈال لیے۔ سی پیک جو پاکستان میں سرمایہ کاری کا سرچشمہ تھا، اِس کے بارے میں جناب وزیرِاعظم نے بلوچستان کے دورے کے موقع پر بیان دیا کہ ہم سی پیک کے منصوبوں کا ازسرِنو جائزہ لیں گے۔ اِس بیان سے چین کے اندر سرگوشیوں نے سر اُٹھایا اور مشیرِ تجارت جناب عبدالرزاق داؤد نے تو شدید تناؤ کی صورت پیدا کر دی جب اُنہوں نے بیان دیا کہ سی پیک کے منصوبے ایک سال کے لیے مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔

جناب اسد عمر جن کو عمران خان صاحب دس برسوں سے معاشی جادوگر کی حیثیت سے متعارف کراتے آئے ہیں، اُنہوں نے عوام کے اندر کوئی اُمنگ پیدا کرنے کے بجائے اُنہیں سخت مایوسی کا شکار کر دیا۔ نئی حکومت جو عوام کے اندر قومی ترقی اور خوشحالی کا عمل بہتر کرکے ہی مقبول رہ سکتی ہے، اسے اِس امر کا بطورِ خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ معاشرے میں یکسوئی اور مفاہمت پروان چڑھے اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے نظر آئیں۔

قوم کے اندر اپنے مستقبل پر اعتماد کو مستحکم کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے اُمید افزا اقدامات کیے جائیں اور عوام کے اندر یقین کے چراغ روشن رہیں، مگر اب تک جو تین مہینے گزرے ہیں، اُن میں زیادہ تر لوگوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب جناب بیرسٹر شہزاد اکبر نے جو پریس کانفرنس کی ہے، اس میں سوسائٹی کو خوفزدہ کرنے والے اعلانات زیادہ ہیں اور لُوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے امکانات بہت محدود۔ اُنہوں نے مژدہ سنایا ہے کہ ہزاروں پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات شروع ہو چکی ہیں اور اُن کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے والے ہیں۔

تحریک ِ انصاف کے چیئرمین اقتدار میں آنے سے قبل بڑے وثوق سے یہ دعویٰ کرتے تھے کہ دو سو ارب ڈالر کا کھوج لگا لیا گیا ہے جو کسی تاخیر کے بغیر ہم واپس لے آئیں گے۔ اب لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ اتنی بڑی رقم کہاں گم ہو گئی اور اب صرف پانچ ارب ڈالر کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ آئے دن کی پریس کانفرنسوں سے قوم کے اعصاب شل ہو جائیں گے۔ نیب کے ڈائریکٹرجنرل لاہور، ٹی وی چینلز پر انٹرویوز دیتے رہے، اُن سے خوف و ہراس پھیلا ہے اور سرکاری ملازمین اِس قدر خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کرنے اور کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔

اعلیٰ انتظامی اور پولیس افسروں کے تبادلے ایسی جلدبازی میں کیے جا رہے ہیں کہ وہ ایک طرف مذاق بن گئے ہیں اور دوسری طرف انتظامی مشینری مفلوج ہو گئی ہے۔ حکومت کے معاشی ماہرین قرضوں کا حجم بتا کر حوصلہ پست کیے دے رہے ہیں کیونکہ یہ ظاہر نہیں کیا جا رہا کہ ان قرضوں کی بدولت قومی وسائل میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ کسی حکومت میں اِس نوع کی بدنظمی اور دماغی ضعف تین چار سال بعد پیدا ہوتے ہیں جب سیاسی شباب کا زمانہ گزر چکا ہوتا ہے، مگر یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ جس سیاسی قیادت کے ساتھ قوم نے بڑی اُمیدیں وابستہ کی تھیں، وہ اُڑنے سے پہلے ہی اپنے گھمنڈ میں گرفتار ہو کے رہ گئی ہے اور قدم قدم پر تصادم اور کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔ پارلیمنٹ جس میں زیادہ تر اشتعال انگیز بیانات وزرائے کرام دیتے ہیں، مچھلی منڈی بنی ہوئی ہے اور یہ تاثر دے رہی ہے کہ کوئی حادثہ پیش آنے والا ہے۔

بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں