طاہر داوڑ کی زندگی سے جنازے تک


اپنے اغوا ہونے سے صرف تین دن پہلے طاہر داوڑ اور میں اس سکول سے باہر اکٹھے نکل آئے، جہاں ہم دونوں کے بیٹے زیرِ تعلیم ہیں اور ہمیں سکول انتظامیہ نے دوسرے بچوں کے والدین سمیت مشاورت کے لئے ایک ہی دن بلایا تھا کار پارکنگ میں آکر طاہر داوڑ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنا خوبصورت پشتو شعر سنایا، جس کا ترجمہ یُوں ہے کہ

نہیں اترا ہے تو بھی آسماں سے
میں خاشاک زمیں ہرگز نہیں ہوں

میں نے شعر پر واہ واہ کے ڈونگرے برسائے تو اس کے اندر کا شاعر جاگ اُٹھا اور یکے بعد دیگرے کئی اور اشعار بھی سنائے (جواس وقت یاد نہیں آرہے ہیں )

اس دن وہ بڑے شاعرانہ موڈ میں تھا اس لئے لنچ کی آفر دے دی اور کہا کہ چلو یونیورسٹی روڈ پر فلاں ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہیں اور شاعری پر گفتگو کرتے ہیں لیکن میری کہیں اور مصروفیت تھی اس لئے ٹال دیا تاہم جاتے جاتے اس نے بتایا کہ چند دنوں کے لئے پشاور سے باہر ہوں گا اس لئے واپس آؤں تو ڈنر کے لئے باہر چلیں گے۔ اور صرف شاعری پر گفتگو کریں گے، اور پھر بد قسمتی سے ہماری یہ گفتگو اب کبھی نہ ہو سکے گی کیونکہ طاہر داوڑ کو غلط فہمی ہو گئی تھی کہ ”میں خاشاکِ زمیں ہرگز نہیں ہوں“۔ ورنہ کسی ریاست اور جیتے جاگتے معاشروں میں انسانوں کے ساتھ یہ تو نہیں ہوتا جو اس کے ساتھ ہوا۔

اسلام آباد جیسے محفوظ شہر سے وہ سرشام اغوا ہوا، پنجاب کے وسطی شہر سرائے عالمگیر (جہلم) سے اس کا فون کال ٹریس ہوا۔ پھر وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے شہروں میانوالی اور کوہاٹ سے گزارا گیا اور افغانستان کے صوبہ ننگرہار پہنچا دیا گیا ( یہ معلومات سینٹ میں وزیرداخلہ شہریار آفریدی نے دیں) جہاں سے پندرہ نومبر کی شام کو اس کی چھلنی لاش تورخم بارڈر پر اس کے بچوں کے حوالے کردی گئی۔

آٹھ بجے پولیس لائن میں اس کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، لیکن خاندان کے افراد رات دس بجے طاہر داوڑ کے گھر کے قریب جنازہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے عام لوگ اور عزیز و اقارب وہاں پہنچ چکے تھے۔

ممتاز صحافی رحیم اللہ یوسفزئی تھوڑی دیر پہلے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے پوچھا کہ ننگر ہار کے آس پاس جو دو بڑے طالبان گروپس ہیں۔ ان کا ٹارگٹ عام طور پر افغان اور نیٹو فورسز ہیں یا زیادہ سے زیادہ مخالف طالبان گروپ اور دوسری بات یہ کہ پاکستان بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ اس طرح کے معاملات میں اُلجھنے سے گریز کرتے ہیں۔ پھر اس طرح کا غیر متوقع واقعہ رونما ہونے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

رحیم اللہ یوسفزئی نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بات بدل دی۔ رات دس بجے طاہر داوڑ کا جنازہ اس کے گھر کے قریب ایک پارک میں لایا گیا تو فضا حد درجہ جذباتی اور غیر معتدل تھی۔ نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد جن میں سے اکثریت فاٹا خصوصاً وزیرستان سے تھی۔ انتہائی متنازعہ نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم بعض لوگ ان نوجوانوں کو اس موقع پر صبر اور خاموشی کی تلقین کر تے رہے۔

میں نے نوٹ کیا کہ طاہر داوڑ کا چھوٹا بیٹا آصف جس کی عمر محض چودہ سال ہے۔ اس موقع پر اس طرح کے نعروں سے نہ صرف پریشان نظر آیا بلکہ اس نے ایک موقع پر ہمیں کہا کہ انکل پلیز ان لوگوں کو روک لیں۔

طاہر داوڑ کے بھائی اور دوسرے قریبی عزیز بھی اس فضا اور نعروں سے کافی فاصلے پر نظر آئے بلکہ ان کی توجہ جنازے کے انتظامات اور مہمانوں سے ملنے پر رہی جو یہاں کی روایت ہے۔

طاہر داوڑ کے بعض عزیز اور رشتہ دار روایت کے مطابق اس کی لاش اپنے گاؤں خدی (وزیرستان) لے جانے کے حق میں تھے لیکن وہاں کے خراب حالات کی وجہ سے ایسا ممکن نہ تھا، اس لئے اس کے گھروالوں (خصوصًا اس کی اہلیہ، بچوں اور بھائی ) نے فیصلہ کیا کہ لاش کو پشاور (حیات آباد ) کے قبرستان میں دفن کریں گے، جہاں طاہر داوڑ کا اپنا گھر بھی ہے اور اس کے اہل خانہ بھی یہیں مقیم ہیں۔ کیونکہ اس کا گاؤں تو کب کا اجڑ چکا ہے اور یہی دکھ وہ اپنی شاعری میں ہمیشہ روتا رہا تبھی تو آخری مغل تاجدار بھادر شاہ ظفر کی مانند اپنے اجڑے دیار میں اسے دفن ہونے کو دو گز زمین بھی نصیب نہ ہو سکی!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں