فیس بک ہمارے بارے میں کیا کچھ جانتی ہے؟


چار ہفتے پہلے فیس بک کی طرف سے کمیونٹی کے معیارات کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ بقول مختار مسعود صاحب، ”جب خواہش قلبی اور فرائض منصبی کی حدیں مل جائیں تو خوش بختی جنم لیتی ہے۔ “ وقت طے تھا، مقام بھی آگیا۔ ہم نے پہنچنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا۔ جھٹ میں رجسٹریشن کنفرم ہوئی پٹ میں ہم فیس بک کے مرکزی دفتر کی لابی میں تھے۔ ساٹھ ممالک اور اکتیس کمپنیوں سے لگ بھگ دو سو کے قریب مندوبین آئے ہوئے تھے۔ بہترین ناشتے کا انتظام تھا ہلکی موسیقی اور بھانت بھانت کی بولیاں سماعت سے ٹکرا رہیں تھیں۔

اتنا پھرتیلا عملہ تھا کہ چہرے کے تاثرات سے آپ کی ضرورت کا اندازہ لگا رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ہم رز کارلٹن، فور سیزن یا مینڈارن اورینٹل کے مہمان ہیں۔ فیس بک کے بنیادی فیچرز کے ڈیجیٹل ڈسپلے جگہ جگہ آویزاں تھے۔ ادھر ادھر گھوم پھر کے چند تصویریں اور کچھ سیلفیاں بنائیں تاکہ سند بوقت ضرورت کام آویں۔ اتنے میں مدھم سی آواز میں اناونسمنٹ ہوئی کہ شرکا بریفنگ روم کی طرف بڑھیں۔ دیکھنے میں جگہ سادہ سی لگی۔ لیکن پتہ بعد میں چلا کہ اندر آنے والے ہر شخص کی آنکھ کا آئرس سکین ہو چکا ہے اور فیس بک کے سسٹم کو پتا چل چکا ہے کہ آپ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں، آپ کیسے بندے ہیں، کتنی زبانیں جانتے ہیں، کیا پسند ہے، کونسے برانڈ کو ترجیح دیتے ہیں، لب و لہجہ کیا ہے، آپ پے کون فدا ہے، آپ کس پے فدا ہیں، کون آپ کا دوست ہے، کون آپ کا دشمن ہے، آپ کے کتنے فیک اکاونٹ ہیں، کتنے بجے سوتے ہیں، جاگتے کس وقت ہیں۔ آپ کا مذہبی رجحان کیا ہے، اگلے الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دیں گے؟ اگر سوال پوچھا تو اس کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے؟

جو لوگ الگوردھم کے لفظ سے واقف ہیں انہیں کوئی زیادہ حیرانی نہیں ہو رہی ہو گی۔ باقی کے لئے یہ شاید غائب کا علم ہو۔ یہ سب بہت کم ہے، فیس بک اس سے بہت زیادہ ہے۔ بریفنگ کے دو حصے تھے۔ پہلی بریفنگ میں فیس بک کے کمیونٹی سٹینڈرڈز پے سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ کون سی چیزیں ہیں جن کی امریکی آئین تو اجازت دیتا ہے لیکن فیس بک نہیں۔ آزادی اظہار رائے کی فیس بک پے کیا حدود ہیں۔ کن صورتوں میں بظاہر قابل اعتراض مواد بھی فیس بک سے نہیں ہٹایا جاتا؟ ابھی تک لائیک کا بٹن تو ہے ڈس لائک کا بٹن کیوں نہیں ہے؟ فیس بک کے کتنے شعبے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس سب میں ہماری اتنی دلچسپی نہیں تھی۔

پھر خصوصی ہدایات دی گئیں کہ کیمرہ استعمال نہ کیا جائے۔ دوسری بریفنگ میں پچیس پچیس لوگوں کے گروپ بنا کر مختلف کانفرنس رومز میں بھیج دیا گیا۔ فیس بک کیا کرتی ہے جو ہمیں معلوم نہیں؟ کیسے کرتی ہے؟ اس سب کی ایک جھلک ملی۔ یقیناً واشگاف الفاظ میں کوئی بھی ایسی بات نہیں بتائی گئی جو فیس بک کے بارے میں نئی ہو۔ لیکن پانچ لوگوں کی جو ٹیم بریفنگ دے رہی تھی اس سے بہت سی ایسی باتیں پتہ چلیں جو پہلے محض سازشی تھیوریز لگتی تھیں۔ سوشل میڈیا کے سب سے بڑے اس پلیٹ فارم پے دو ارب لوگ موجود ہیں۔ 583 ملین فیک اکاونٹ الگ ہیں۔ جن میں سے بہت سارے اکاونٹ مختلف قسم کی خلاف ورزیوں کے باعث بند کیے جاتے ہیں ورنہ فیس بک کو کوئی اعتراض نہیں ان اکاونٹس پے۔ فیس بک پے روزانہ اوسطاً دس لاکھ وائرس اٹیک ہوتے ہیں۔

اس وقت فیس بک کا سسٹم اتنا ایڈوانس ہو چکا ہے کہ اگر آپ لائیو سٹریمنگ استعمال کرتے ہوئے بلیڈ یا تیز دھار آلہ یا پستول اپنے یا کسی دوسرے شخص کے جسم کے قریب لے کر جائیں گے تو آپ کی ویڈیو سٹریمنگ بند کر دی جائے گی۔ آنے والے وقتوں میں اسی قسم کی معلومات کے لئے دنیا پھر کے سیکیورٹی ادارے پیسے دے کر فیس بک کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اگر امریکہ میں موجود سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضرورت محسوس ہو تو وہ تحریری درخواست اور مخصوص فیس کی ادائیگی کے بعد وہ معلومات فیس بک سے حاصل کر سکتے ہیں جو پرائیویٹ ہیں۔ بھلے آپ کے میسیجز ہی کیوں نہ ہوں یا دس سال پہلے ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا ہو۔

کچھ دوست احباب فیس بک پے نہیں ہیں اور اس حوالے سے اپنی پرائیویسی کے بارے میں قدرے مطمن ہیں۔ صاحب فیس بک کو آپ کا بھی پتا ہے۔ ایسے تمام لوگ جو زندہ ہیں اور فیس بک استعمال نہیں کرتے، نہ کبھی کسی کیمرے نے ان کی تصویر بنائی ہے، نا کبھی کسی نے ان کا نام لکھا ہے فیس بک پے، نا کبھی حوالہ استعمال ہوا ہے یعنی وہ تمام لوگ جو جنگلوں میں رہتے ہیں جہاں تہذیب ابھی دو سو سال پیچھے ہے صرف وہ تسلی رکھیں باقی سب کو فیس بک جانتی ہے۔ ایسے تمام لوگوں کی نفسیات کے مطالعے کے حوالے سے بھرپور تحقیق جاری ہے۔ دنیا پھر کی یونیورسٹیوں میں فیس بک نے ایسے تحقیقی منصوبوں کے لئے باقاعدہ فنڈنگ کا ایک نظام مرتب کر رکھا ہے۔ بظاہر وٹس ایپ اور فیس بک کے آپریشنز الگ الگ ہیں لیکن چونکہ وٹس ایپ بھی فیس بک کی ملکیت ہے تو اس بارے میں ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں کہ یہ روزانہ شئیر کیے جانے والے دس ارب میسیجز، ستر کروڑ تصاویر اور دس کروڑ ویڈیوز کا کیا کر رہے ہیں۔

فرض کریں آپ نے آج سے چھ سال پہلے فیس بک اکاونٹ بنایا تھا۔ آپ کو ایک فیصد بھی یاد نہیں ہو گا کہ اب تک آپ نے کیا کیا کیا ہے فیس بک پے۔ لیکن فیس بک کو نہ صرف پتہ ہے بلکہ وہ ہر روز آپ کا پروفائل اپڈیٹ کر رہی ہے۔ وہ اس بات کا بھی اندازہ لگا رہی ہے کہ ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی حالات سے آپ کی کے رویے میں کیا تبدیلی آ رہی ہے۔ میں حیران ہوا یہ سن کے فیس بک کو پتہ چل گیا ہے کہ پٹواری کا مطلب صرف روایتی سرکاری ملازم نہیں بلکہ یہ پاکستان میں سیاسی مزاح اور تنقید کے لئے استعمال ہورہا ہے اور یہی حال یوتھیوں کا ہے۔

اسی طرح جب اسی سال کے آغاز میں محکمہ زراعت اور خلائی مخلوق کے معانی بدلے تو فیس بک نے بھی اپنی لغت کو اپڈیٹ کیا۔ تیس ہزار باقاعدہ ملازمین، ہزاروں کنڑیکیٹرز اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے فیس بک استعمار کا ایک نیا نظام تشکیل دے رہی ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس، بنکنگ، بزنس، مارکیٹنگ، نیوز میڈیا سمیت یہ ہر طرف پانی کی طرح اپنا رستہ بنا رہی ہے۔ مستقبل میں سوائے علم کے کوئی ہتھیار اس کا راستہ نہیں روک سکے گا۔

یہ سب کچھ سمجھ کے، دیکھ سن کے جب راقم کانفرنس روم سے باہر نکلا تو دل میں خیال آیا کہ ہم تو پہلے ہی ہتھیار ڈال کے بیٹھے ہیں۔ دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، بیس لاکھ رجسٹرڈ مدارس میں زیر تعلیم ہیں، جو رسمی تعلیم لے بھی رہے ہیں ان میں زیادہ تر کی کوالٹی آف ایجوکیشن انتہائی مایوس کن ہے۔ تو صاحب ان حالات میں غلامی ہی ہمارا مقدر ہے، مفلسی ہمارا سرمایہ ہے، جہالت ہی ہمارا غرور ہے، گداگری ہمارا ذریعہ معاش ہے اور یوٹرن ہی ہمارا راستہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں