رابعہ الربا کی آنٹی کہانی کا ادبی و نفسیاتی تجزیہ



آنٹی ایک عورت کا نام نہیں ایک سماجی کردار کا نام ہے۔ میرا اس کردار سے تعارف نہ ہوتا اگر میری ڈاکٹر لبنیٰ مرزا سے ملاقات نہ ہوئی ہوتی۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے مجھے آنٹیوں کی اتنی کہانیاں سنائیں کہ میں ایک ادیب اور ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے اس کردار میں گہری دلچسپی لینے لگا۔ یہ کردار ایسے مشرقی ماحول کا پروردہ ہے جہاں منافقت سب سے چھپ کے ہنستی ہے اور ہمدردی سب کے سامنے ٹسوے بہاتی ہے۔ چونکہ ایسے معاشرے میں لڑکوں کی لڑکیوں سے اور مردوں کی عورتوں سے کھل کر ملاقاتیں نہیں ہوتیں اس لیے ایسی آنٹی جب چاہیں کسی جوان عورت کی شادی اور کسی شادی شدہ مرد کی طلاق کروا دیتی ہیں۔ جب چاہیں کسی بدکردار کو نیکو کار اور کسی نیکوکار کو بدکار بنا دیتی ہیں۔ آنٹی روایتی معاشرے میں وہ کردار ادا کرتی ہیں جو عہدِ جدید میں سوشل میڈیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کی آنٹی کہانیوں نے مجھے رابعہ الربا کے افسانے لبرل آنٹی کی ولگر کہانی کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رکھا تھا۔
جو لوگ اردو افسانے کے سنجیدہ قاری اور نقاد ہیں وہ جانتے ہیں کہ رابعہ الربا عہدِ حاضر کی افسانہ نگاری کا اہم نام ہیں۔ ان کے افسانے اپنا جداگانہ مزاج اور شناخت رکھتے ہیں۔ ایک جملے میں کہا جا سکتا ہے کہ رابعہ الربا کے افسانے ترقی پسند ادب کی سماجی حقیقت پسندی اور جدید ادب کی تجریدیت کے درمیان ایک تخلیقی پل تعمیر کرتے ہیں۔ وہ قاری سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ افسانے کی تفہیم کے لیے اس میں تخلیقی طور پر involve ہوں۔ ان کی باقی کہانیوں کی طرح لبرل آنٹی کی ولگر کہانی بھی ہماری پوری توجہ کی متقاضی ہے۔ اس کہانی کا protagonist لبرل آنٹی ہیں جنہیں ایک محفل میں ایک خوبصورت عورت نظر آتی ہے جو انہیں بھا جاتی ہے۔ وہ دل ہی دل میں اسے اپنے بیٹے کے لیے پسند کر لیتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کا بیٹا شادی شدہ ہے۔ چنانچہ وہ اس جوان عورت کو پھنسانے کے لیے پہلے اسے ایک پری بناتی ہیں پھر اسے اپنے بیٹے کے خوابوں کی شہزادی بناتی ہیں اور پھر اس پری چہرہ کو بہو بنانے کے لیے پہلی بہو کو طلاق دینے کا منصوبہ بناتی ہیں۔
یہ بات نفسیاتی طور پر اہم ہے کہ وہ آنٹی جو بظاہر لبرل اور روشن خیال دکھائی دیتی ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹے اور ہونےوالی بہو سے جنس کے موضوع پر کھل کر بات کر سکتی ہیں درپردہ ایک نفسیاتی مریضہ ہیں۔ وہ ایسی مریضہ ہیں جو
اپنے بیٹے کے بیڈروم میں گھس جاتی ہیں
بیٹے کی جنسی زندگی ایک غیر عورت سے ڈسکس کرتی ہیں
اپنی بہو کو طلاق دینے کے لیے تیار ہیں اور
ہونے والی بہو کو شادی سے پہلے ہی آزادی کا پیغام دے دیتی ہیں۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایسے معاشرے میں جہاں عورت دوسرے درجے کی شہری سمجھی جاتی ہے جب وہ عورت ماں یا ساس بنتی ہے تو اپنے ہی معاشرےکا طاقتور کردار بن جاتی ہے اور پھر اس طاقت کا جائز اور ناجائز استعمال کرتی ہے۔
رابعہ الربا کے افسانے کا یہ حصہ ترقی پسند ادب کی سماجی حقیقت پسندی کی ترجمانی کرتا ہے جہاں وہ ظالم و مظلوم جابر و مجبور کی power dynamics کی نشاندہی کرتی ہیں۔
رابعہ الربا اس بات کی داد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے کسی روایتی فیمنسٹ کی طرح ہر عورت کو مظلوم اور ہر مرد کو ظالم نہیں سمجھا۔ انہوں نے انسانی نفسیات اور تضادات کی گرہیں کھولی ہیں اور ایک جینون ادیبہ کی طرح ہمیں سچ کا آئینہ دکھایا ہے چاہے اس آئینے میں عورت ظالم ہی کیوں نہ ہو۔
جہاں رابعہ الربا کے افسانے میں social realism ہے وہیں بدھا کے کردار‘ نروان ‘ من مندر کی گھنٹیاں‘خواب کی پری اور دل دروازے کا ذکر بھی ہے جس سے مرد اور عورت کے ازلی و ابدی رشتے کے حوالے سے جدید ادب کی ایمائیت اور تجریدیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ رابعہ الربا کا قلم جب شعور کی رو میں بہنا شروع کرتا ہے تو اس کا ایک پائوں انفرادی نفسیات اور دوسرا پائوں دیومالائی تصورات میں پہنچ جاتا ہے۔
رابعہ الربا اپنے قاری سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ ادبِ عالیہ کی روایت اور بغاوت دونوں سے واقف ہو تاکہ فکشن سے پوری طرح محظوظ ہو سکے۔ وہ جانتی ہیں کہ کوئی بھی فن پارہ صرف سمجھنے کی نہیں محسوس کرنے کی چیز بھی ہے جس کے لیے ذوق بھی چاہیے اور شوق بھی۔
کافکا فرماتے تھے کہ اچھے افسانے کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ قاری کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے۔ رابعہ الربا کی کہانی بھی ہمیں اسے دوسری دفعہ پڑھنے کی ترغیب دیتی ہے تا کہ ہماری اس کے مخفی معنوں تک رسائی ہو سکے۔ آپ بھی اس ریویو کو پڑھنے کے بعد اسے دوبارہ پڑھیں تا کہ آپ بھی حقیقت اور خواب کے پراسرار رشتے کو محسوس کر سکیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 166 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail