چارسدہ کا پرنالہ بھارت میں گرتا ہے ؟


husnain jamal (2)جب سانحہ چارسدہ کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھی، عین اسی وقت ایک اور کارروائی ہمارے قابل عزت بزرگوں میں بھی جاری تھی۔ وہ یہ کہ اس سارے معاملے کا ملبہ کس پر ڈالا جائے۔ اس معاملے پر لکھنے سے پہلے چند کالم نگاروں کی آرا کا انتظار کیا گیا تاکہ ہوا کا رخ دیکھا جا سکے۔ اور یہ بہتر ہوا۔
فرض کیجیے آپ کے گھر ایک شخص ڈاکا مارتا ہے، اس کے بعد قتل و غارت گری کرتا ہے، اور یہ سب آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ آپ اس شخص کو پہچانتے ہیں کہ یہ سڑک پار رہتا ہے۔ اس کا نام فلاں ابن فلاں ہے اور یہ اسی طریقے سے پہلے بھی ایک واردات کر چکا ہے۔ چوں کہ آپ جانتے بھی ہیں اور طریقہ واردات سے بھی آگاہ ہیں تو اب تین کام ہو سکتے ہیں۔
آپ تھانے میں رپورٹ درج کروائیں گے
اس کے خلاف خود کارروائی کریں گے
یا اس کو اتنا دیانت دار سمجھیں گے کہ اس کے فون کا انتظار کریں؟
اور جب وہ آپ کو فون کر لے اور قبول کرے کہ “حضور یہ گناہ میں نے کیا تھا، شوق سے رپٹ کروائیے” تب آپ اس کی ایف آئی آر کٹوائیں گے؟
اگر آپ اس کے فون کا انتظار کریں گے اور یقین کے ساتھ کریں گے کہ وہ سچ بولے گا تو معذرت کے ساتھ، اس سے بڑی بے وقوفی کوئی نہیں ہو سکتی۔
بابا آپ کے ملک پر حملہ ہوا ہے، وہی سامنے کے لوگ ہیں، وہی طریقہ واردات ہے، وہی ہتھیار ہیں، وہی سم ہے، وہی ملک ہے جہاں فون جاتے ہیں، وہی فوج ہے جو بے چاری آ کر سنبھالتی ہے، وہی جنرل ہے جو ایران سے آ کر سیدھا ان تھک وہاں جاتا ہے، پھر پریس کانفرنس کرتا ہے اور وہی سیاست دان ہیں جو ابھی جانے کا سوچ رہے ہیں۔ ابھی آپ شک میں ہیں کہ یہ بھارت نے کروایا ہے، اور وہ بھی تیس لاکھ روپے میں؟
تیس لاکھ میں اگر ایسا سب کچھ ممکن ہے تو وہ کشمیر بیچنے پر علامہ اقبال نے کیا کہا ہو گا جو آج یہ مصرع فٹ بیٹھتا ہے کہ “قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند”
کچھ لوگ بھارتی وزیروں کے صدیوں پرانے ٹوئٹس گود میں رکھے بیٹھے ہیں، کوئی تیس لاکھ کی کہانی سناتا ہے، کوئی قونصلیٹ کے ورد کرتا ہے یعنی جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔ سوائے مفتی رفیع عثمانی صاحب کے، ابھی تک کھل کر اس واقعے کی مذمت شاید ہی علما کی طرف سے آئی ہو۔ آپ دیکھیے وہ کیسے دو ٹوک انداز میں بات کر رہے ہیں؛
“اس المناک سانحے پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے، کم ہے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات اور تسلیم شدہ اقدار کے شدید منافی ہے۔ یہ سب کچھ ان لوگوں کا کیا دھرا ہے جن کا کوئی مذہب نہیں۔ جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ ملک اور مسلمانوں کے باغی ہیں۔ اگر ان کی قسمت میں توبہ اور اصلاح کی توفیق نہیں ہے تو ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں برباد کرے جو اسلام کا نام لے کر اسلامی تعلیمات کے یکسر منافی حرکتیں کر رہے ہیں۔ تمام سوگوار خاندانوں سے ہم دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تمام شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔”
اگر غیر جانبدار تجزیہ کیجیے تو پاک بھارت تعلقات کی حالیہ گرم جوشی، اقتصادی راہداری اور حالیہ بحرانوں میں پاکستان کا برادر اسلامی ملک کے ساتھ گرم جوشی نہ دکھانا وہ تین چیزیں ہیں کہ جن کی بھڑاس میں چارسدہ کا پرنالہ بھارت گرایا جا رہا ہے۔
عامر خاکوانی صاحب ہمیشہ اعتدال پسند رائے کا اظہار کرتے ہیں، ان کے کالم سے ایک اقتباس دیکھیے؛
“اس بار ایک کام مختلف ہوا کہ ٹی ٹی پی کے مرکزی ترجمان نے اس حملے سے انکار کیا جبکہ اس کے ایک اہم گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دراصل یہ بھی ٹی ٹی پی اور ان جیسے دہشت گرد تنظیموں کا پرانا حربہ ہے کہ کسی کارروائی سے عوامی ردعمل کا خطرہ ہو تو اس کی براہ راست ذمہ داری قبول نہ کی جائے اور ایک الگ گروپ بنا دیا جائے جو ذمہ داری قبول کر لے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ کنفیوژن قائم رہے، عوامی مخالفت نہ بڑھے، عوام میں ان کے حامی بھی مطمئن رہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو ذمہ داری قبول نہ کرنے والا بیان بطور ثبوت دکھاتے رہیں۔”
اب ایک اقتباس ان کا بھی دیکھیے جن کو بچپن سے ہم ایک ہی سوچ کے ساتھ بوڑھا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ بہت قابل احترام ہیں لیکن ان کی رائے سے اختلاف کا حق بہرحال اپنے تئیں محفوظ ہے ہمارے پاس۔
ملاحظہ کیجیے؛
“د±کھ اور درد کی اس گھڑی میں حواس اپنے بحال رکھیں اور کمزوریوں کی تشخیص ضرور کریں مگر کسی ابہام کا شکار نہ ہوں کہ دشمن ہم سے یہی چاہتا ہے چانکیہ کا پیروکار اور میکیاولی فکر پر عمل پیرا‘ چالاک‘ مکّار اور فریب کار …
بَغل میں چھری منہ میں رام رام۔”
بہرحال ایک بات طے ہے کہ کل جو ریسپانس فوج کا اور جنرل راحیل شریف کا دیکھا، وہ متاثر کن تھا۔ ضرب عضب اور سرحدوں پر مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ کوئیک ریسپانس فورس کا کردار جس طرح نبھایا گیا، وہ قابل ستائش ہے۔
پختون بھائیوں کا ردعمل اس بار بہت شدید ہے، اور بر حق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جتنی قربانیاں اس جنگ نے خیبر پختونخواہ سے لی ہیں شاید ہی تاریخ میں اس تناسب سے کسی نے دی ہوں۔ اس مرحلے پر ہمیں صرف ایک چیز کی ضرورت ہے۔
یکجہتی۔
ایک دشمن کے خلاف یکجہتی۔
اگر، مگر، ادھر، ادھر، کیوں، کیسے، چونکہ، چنانچہ، حالانکہ، وغیرہ کی بجائے ایک متفقہ بیانیے کی ضرورت ہے۔
اگر آپ دشمن کے خلاف اس بات پر متفق ہو جائیں کہ دشمن کون ہے تو یہ مسئلہ شاید جلدی ختم ہو جائے۔ اور اگر پرنالے میں ڈانگ پھیرتے رہنے کا شوق ہے تو ….لمبی ہے غم کی شام…. مگر شام ہی تو ہے….


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 150 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “چارسدہ کا پرنالہ بھارت میں گرتا ہے ؟

  • 23-01-2016 at 6:26 am
    Permalink

    ap ki baat sy 100% itifaaq hy, or bhi bohat kuch kaha ja sakata hy,
    magar,
    “kia ittifaaq” waloon ko bhi es sy Ittifaq hy…??

Comments are closed.