حمزہ علی عباسی۔۔۔ جواب حاضر ہے


\"salimمجھے نہیں معلوم کہ حمزہ علی عباسی نے کونسا آسمان گرا لیا ہے جس پر اتنی دھمکا چوکڑی مچی ہوئ ہے۔ موصوف نے، قادیانی حضرات کے ضمن میں دو سوال پوچھے ہیں ( چاہے جو بھی نیت تھی) اور ان کا جواب دینا علماء کے ذمے ہے۔

چونکہ علما ئے کرام، بوجوہ، فارغ نہیں ہیں تو یہ طالب علم، ان کا جواب عرض کردیتا ہے۔ چونکہ قادیانی حضرات اپنے لئے جماعت احمدیہ کا نام پسند کرتے ہیں، پس ذیل میں ان کو احمدی کہا جائے گا۔

حمزہ صاحب نے مختصراً یہ پوچھا ہے کہ کیا پارلیمنٹ کے ادارے کو حق حاصل ہے کہ کسی کو کافر قرار دے؟ دوسرے، اگر قادیانی کافر قراردیئے ہی جا چکے تو کیا ان کو باقی غیر مسلم پاکستانیوں جیسے حقوق میسر ہیں؟

پہلے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ نہیں۔ تفصیل یہ ہے کہ جمہوری پارلیمنٹ کا ادارہ، مذہب کے فیصلے کرنے نہیں، ملکی انتظام چلانے کے لئے وجود میں آیا ہے۔ ایک آدمی جو خدا، نبی، قرآن اور قبلہ کو تسلیم کرتا ہے، اسے سورۃ اخلاص نہ جاننے والی پارلیمنٹ تو کیا، شیوخ الحدیث کی پارلیمنٹ بھی کافر قرار دینے کی مجاز نہیں۔

مگربھائی، پاکستان کی پارلیمنٹ نے تو کبھی احمدیوں کو کافر قرار دیا ہی نہیں۔ پارلیمنٹ کی قرارداد سے فقط یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی، غیر مسلم تصور کئے جائیں اور یہ بھی گویا خود احمدیوں کے موقف کی توثیق تھی۔ (کافر اور غیر مسلم کا فرق ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے)۔

خاکسار کے موقف کو سمجھنے کیلئے، تھوڑا سا مسئلے کے پس منظر کو دہرانا ضروری ہوگا۔

کسی بھی حکومت، بالخصوص جمہوری حکومت کےلئے، اہم ترین مسئلہ ملکی امن وامان کا ہوتا ہے۔ احمدی حضرات کے مسئلہ پر، پاکستان میں دو عشروں سے کشت وخون جاری تھا جس میں ہزاروں جانیں چلی گئ تھیں۔ (یہ کشت وخون کون کرا رہا تھا؟ ایک الگ موضوع ہے، بس اتنا یاد رہے کہ ملک میں جب بھی کوئ پرتشدد تحریک چلے گی، چاہے مذہبی ہو یا ایم کیو ایم والی، اس کے پیچھے کسی \”اور\” کے سیاسی عزائم بھی ضرور ہوں گے) ۔

خیر، اس انسانی خون کی ارزانی کو روکنے، اس وقت کے وزیر اعظم بھٹو اور اپوزیشن لیڈر مفتی محمود نے، اس قضیے کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کا سوچا۔ یعنی پارلیمنٹ کے لئے، اصل موضوع، مذہب نہیں، ملکی امن وامان تھا۔

چونکہ پرتشدد تحریک کے داعیوں کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دے کر، ان کی تبلیغی سرگرمیوں پہ قدغن لگایا جائے، پس پارلیمنٹ نے قادیانی گروپ سے درخواست کی اس قضیے کا حل نکالنے میں مدد کرنے وہ پارلیمنٹ آکر اپنا موقف پیش کریں۔ یہ حکم نہیں تھا، نہ ہی وہ اس کے لئے مجبور تھے۔ مگر ان کے خلیفہ مرزا ناصر نے کمال مہربانی سے نہ صرف اس درخواست کو قبول کیا بلکہ اپنا موقف خود پیش کرنے تشریف لائے۔

پارلیمنٹ نے ان سے صرف یہ سوال پوچھا تھا کہ مسلمان کی جامع تعریف کیا ہے؟ اس کے جواب میں وہ غیر از موضوع، طول طولانی علمی بحث چھیڑ بیٹھے (یہ ایک داؤ تھا جس سے ممبران پارلیمنٹ کواپنے مذہب کی تبلیغ کرنا تھی)۔ اس پہ دو ماہ سترہ دن لگ گئے۔ بالاخر، پیپلز پارٹی نے سیدھے سبھاؤ، ان سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والوں کو مسلمان سمجھتے ہیں؟۔ اس پر انہوں نے لگی لپٹی بغیر یہ فرمایا کہ وہ مرزا صاحب کو نبی نہ ماننے والوں کو مسلمان نہیں مانتے۔ (یہ سب کچھ ریکارڈ پر ہے)۔

پس، پارلیمنٹ نے یہاں آکر،انہی کے موقف کو لیتے ہوئے، اپنے ملک کے اکثریتی شہریوں کے عقیدے کی آئینی تشریح کر دی۔ چونکہ مرزا صاحب نے ختم نبوت پر ایمان لانے والوں کو غیر مسلم قرار دے دیا جو کہ اس ملک کے اکثریتی باشندے ہیں، پس، پارلیمنٹ نے، \”مسلمان\” کی جامع تعریف یوں کردی کہ ایسا شخص جو ختم نبوت پہ ایمان لاچکا ہو اور محمد رسول اللہ کے بعد، کسی کو نبی نہ مانتا ہو۔

واضح رہے کہ یہ ایک سیاسی حل تھا جس کے لئے پارلیمنٹ مجاز بھی تھی اور ملکی امن و امان کے پیش نظر اس کی ضرورت بھی تھی۔

اب دوسرا سوال یہ کہ کیا پاکستان میں قادیانیوں کو باقی غیر مسلم شہریوں جیسے حقوق حاصل ہیں یا ان سے تعصب برتا جاتا ہے؟

اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ کم از کم معاشرے کی طرف سے نہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ واقعی پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ تشدد آمیز رویہ چل رہا ہے۔ اس کی ایک مثال تو شیزان کی بائکاٹ کی مہم ہے جو کہ قادیانیوں کا پراڈکٹ ہے۔ یعنی نبی کا کارٹون بنانے والے ملک، ناروے کے ٹیلی نار کے پیکج شوق سے لئے جارہے۔ شاتم رسول رشدی کو پناہ دینے والے، برطانیہ کے خلاف، بھوٹے منہ بھی ایک لفظ نہیں بولا جارہا بلکہ ہر سال وہاں ختم نبوت کانفرنس کرکے، مفت کی سیر کے مزے لئے جارہے مگر قادیانیوں پر عرصہ زمین تنگ کر دیا گیا۔

لیکن، میں یہ بھی عرض کروں گا کہ مسلمانان پاکستان کے اس پرتشدد رویئے پر تنقید کرتے ہوئے، ایک چھوٹا سا اصول پیش نظر رہے تومکمل تصویر سامنے رہے گی۔ وہ اصول یہ کہ کسی کے تھپڑ کے جواب میں اگر اگلا اس کے جبڑے توڑ دے تو اس شدید رد عمل پر قانونی گرفت ہونا ضروری ہے مگر پہلی جرح اسی پہ ہوگی جس نے تھپڑ مارکر ابتدا کی ہے۔ حمزہ عباسی صاحب کو یہ سوال بھی پوچھنا چاہیئے کہ مسلمانوں کے نبی اور اہل بیت کے خلاف تحقیر آمیز کلمات کی ابتدا، کہیں مرزا غلام احمد صاحب نے تو نہیں کی؟

یہ تو ہوا حمزہ عباسی صاحب کے دونوں سوالات کا جواب –

اب آخری بات یہ کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں جس کی اکائی کی بنیاد آئین ہے۔ جن لوگوں نے حمزہ عباسی کا پروگرام رکوانے، نجی چیلنز کے مالکان اور پیمرا پر دباؤ ڈالا ہے، وہ اس کا آئنی حق رکھتے ہیں۔ اس ملک میں کسی کو بھی اپنے عقائد پہ میڈیای حملہ محسوس ہو تو آئنی حدود میں احتجاج کے سب ذرائع استعمال کرسکتا ہے۔ نجی ٹی وی مالکان نے بڑے فخر سے علماء سے ملاقات کی اور ان کی بات مانی۔ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے مگر کیا یہی مالکان، قادیانی وفد سے بھی ملاقات کی تصویر بھی شائع کرا سکتے ہیں؟ نہیں نا۔ یہ ہے قادیانیوں کے ساتھ اس ملک میں امتیازی برتاؤ جس کی زیادہ ذمہ داری، خود ان پر ہے۔ (تاہم یہ بھی ایک الگ موضوع ہے)۔

المختصر، حمزہ عباسی صاحب نے جو سوالات اٹھائے ہیں ، یہ حمزہ کا حق ہے۔

یہ کہنا غیر مناسب ہے کہ ایک چیز پارلیمنٹ میں طے ہوگئ تو دوبارہ کیوں چھیڑا جارہا؟

کیا پارلیمنٹ ،وحی یا قرآن ہے؟ابھی چند دن ہی تو ہوئے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیرمین، مولانا شیرانی نے کہا تھا کہ وہ توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کرنا چاہتے ہیں جس پر، ایک ہیوی ویٹ لاہوری مولانا نے چیخ و پکار کی تھی کہ طے شدہ باتوں کو کیوں چھیڑا جارہا ہے؟ (شیرانی کو باقی معاملات میں الجھا دیا گیا مگرجس شیرانی کو میں جانتا ہوں وہ ضرور اس موضوع کو چھیڑے گا)۔

مجھے تو ہنسی ان صالحین پر آتی جو جمہوری نظام کو غیر اسلامی اور ارکان پارلیمنٹ کو شرابی کبابی کہتے ہیں اور جب قادیانی مسئلہ کی بات آتی ہے تو اسی پارلیمنٹ کی رولنگ کا حوالہ دیتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ طے شدہ آئنی باتوں کو نہیں چھیڑنا چاہئے۔ بھائی، 1973 کے متقفہ آئین کو چھیڑ چھیڑ کر مائی ملنگنی بنا دیا گیا لیکن آپ کو صرف یہی بات طے شدہ نظر آئی؟

بھائ لوگو، احمدیوں سے اتنا ڈرنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ ان پہ تبلیغ وغیرہ پابندی عائد کی ہوئی ہے؟۔ اگر ان کے موقف میں کچھ جان ہوتی تو برطانیہ میں ان کے دوتبلیغی ٹی وی چیلنز چل رہے۔ وہاں رہنے والے پاکستانی تو اب تک سب جماعت احمدیہ میں شامل ہوچکے ہوتے۔ جبکہ اعداد وشمار تو یہ کہتے ہیں کہ اب بھی پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

بہرحال، میں حمزہ عباسی کی تائید کرتا ہوں بھلے اس کی جو نیت بھی ہو۔ نئی نسل کے سامنے دوبارہ سوالات رکھے جائیں تاکہ نئے انداز میں ان کو منطقی طور پر مسئلہ سمجھ آئے۔ خدا کی ذات کے منکر ملحدین، ہر دور میں رہے اور ہر دور میں خدا پرستوں نے ان کو شافی جوابات دئے ہیں مگر وہ اب بھی نئے سوالات لے کر آتے ہیں، اور اہل ایمان جوابات دیتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک بار امام ابوحنیٖفہ نے دہریوں سے مناظرہ جیت لیا تو اب دوبارہ اس موضوع کو کیوں چھیڑاجائے؟ حق و باطل کی جنگ، تاقیامت رہے گی، اس میں میدان سے بھاگنا کیا معنی؟

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “حمزہ علی عباسی۔۔۔ جواب حاضر ہے

  • 21-06-2016 at 4:06 pm
    Permalink

    qadiani any sath imtiazi sulook k khud zimadar kesey hn.?? deegar alfaz mn ap un k khilaf imtiaz ko natural aur sahi qarar dey rhy hn???

  • 24-06-2016 at 7:02 pm
    Permalink

    سلیم جاوید صاحب کا لب ولہجہ اورطرزاستدلال عام مذہبی لوگوں سے کافی مختلف ہے۔انہوں نے حمزہ علی عباسی پر لعن طعن کرنے کے بجائے تحمل اور شائستگی سے ان کے سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات بہت خوش آئند ہے کیونکہ ہمارے بہت سے جدید تعلیم یافتہ لوگوں نےبھی اس مسئلہ پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ ‘ جذباتی‘غیرمنطقی اور غیرشائستہ گفتگو کی ہے۔

    سلیم صاحب کی کچھ باتیں محل نظربھی ہیں۔ مثلاً ان کا دعویٰ ہے کہ ’’احمدی حضرات کے مسئلہ پر‘ پاکستان میں دو عشروں سے کشت وخون جاری تھا جس میں ہزاروں جانیں چلی گئ تھیں۔‘‘ اس دعوے کا کوئی ثبوت سلیم صاحب نے نہیں دیا۔ ہزاروں جانیں کس کی گئی تھیں؟ احمدیوں کی یا غیر احمدیوں کی؟ اس کی ذمہ داری کس پر تھی؟

    سلیم صاحب فرماتے ہیں کہ ’’انسانی خون کی ارزانی کو روکنے کے لئےاس وقت کے وزیر اعظم بھٹو اور اپوزیشن لیڈر مفتی محمود نےاس قضیے کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کا سوچا۔ یعنی پارلیمنٹ کے لئے‘اصل موضوع، مذہب نہیں‘ ملکی امن وامان تھا۔‘‘ یہ بہت ہی عجیب وغریب دلیل ہے۔ ’’پرتشدد تحریک کے داعیوں‘‘ کے خلاف ریاست نے کیوں کوئی کارروائی نہ کی؟ اس کے بجائے تشدد کا شکار بننے والے ایک طبقے کی زندگی کیوں اجیرن کردی گئی؟

    صاحب مضمون نگار کہتے ہیں کہ ’’پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ تشدد آمیز رویہ چل رہا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’قادیانیوں پر عرصہ زمین تنگ کر دیا گیا۔‘‘ یہ اعترافات حقیقت پر مبنی ہیں اور ایک عا لم دین کا یہ سب کچھ قبول کرنایقیناًقابل تعریف ہے۔ لیکن ایسا کرتے وقت وہ اپنے اس وعدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے جو انہوں نےمضمون کے شروع میں یہ کہہ کر کیا تھا ’’چونکہ قادیانی حضرات اپنے لئے جماعت احمدیہ کا نام پسند کرتے ہیں، پس ذیل میں ان کو احمدی کہا جائے گا۔‘‘

    فاضل مضمون نگار نے لکھا ہے کہ مسلمانان پاکستان کے اس پرتشدد رویہ پر تنقید کرتے ہوئے، ایک چھوٹا سا اصول پیش نظر رہے تومکمل تصویر سامنے رہے گی۔ ’’وہ اصول یہ کہ کسی کے تھپڑ کے جواب میں اگر اگلا اس کے جبڑے توڑ دے تو اس شدید ردعمل پر قانونی گرفت ہونا ضروری ہے مگر پہلی جرح اسی پہ ہوگی جس نے تھپڑ مارکر ابتدا کی ہے۔ حمزہ عباسی صاحب کو یہ سوال بھی پوچھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے نبی اور اہل بیت کے خلاف تحقیر آمیز کلمات کی ابتدا، کہیں مرزا غلام احمد صاحب نے تو نہیں کی؟‘‘

    میں سلیم صاحب سے اتنی کمزور دلیل کی توقع نہیں کررہا تھا۔ کیا اسی طرح کے الزامات بریلوی حضرات دیوبندیوں پر نہیں لگاتے؟ مولانا احمدرضاخان بریلوی تودیوبندی اکابرین کے خلاف حجاز سے بھی اپنےفتوے کی توثیق کروالائے تھے۔ کیا دیوبندی حضرات تحقیرآمیزکلمات کا الزام اہل تشیع پر نہیں لگاتے؟عرض ہے کہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔

Comments are closed.