فیض میلے کے نام


 

یہاں کسی کی آنکھ اور کسی کے کان بند ہیں

نکل چلو کہ اس گلی کے سب مکان بند ہیں

 

لٹک رہی ہیں سولیوں پہ دور تک سماعتیں

سنا ہے اب کے نے نواز و قصہ خوان بند ہیں

 

لگی ہیں یوں تو ساحلوں پہ کشتیاں قطار سے

مگر ہوا رکی ہے اور بادبان بند ہے

 

خود اپنے ہی حصارِ ذات اور انا کی قید میں

ستم یہ ہے ہمارے جیسے خوش گمان بند ہیں

 

وہ چاشنی جو تھی بیان و حرف میں ،نہیں رہی

وہ سلسلے جو تھے دلوں کے درمیان بند ہیں

 

محبتوں کے شہر اب کے بار تجھ کو کیا ہوا

کہ در کھلے ہوئے ہیں دل کے اور مکان بند ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں