کیا مسلمان اخلاقیات میں مغرب سے آگے ہیں؟


مسلمانوں کی تعلیمی بدحالی پر گفتگو ہو رہی ہو تو میری طرح آپ نے بھی بہت سے دوستوں کی زبانی یہ دلیل سنی ہوگی کہ مغرب بھلے ہی مسلم قوم کے مقابلے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہو لیکن مسلمان اخلاقیات میں اس سے کہیں زیادہ آگے ہیں۔ اس دلیل سے میرے دو اختلاف ہیں۔ اول تو یہ کہ سائنس اور تکنیک میں ترقی اور اخلاقیات کی بائینری بنانا غلط ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دو الگ الگ کمالات ہیں۔

سائنسی ترقی اور اخلاقیات کو ایک دوسرے کی ضد کے طور پر پیش کرنے سے یہ تاثر جاتا ہے کہ جدید سائنسی علوم میں پسماندگی کی تلافی اخلاقی اقدار سے ہو سکتی ہے۔ اس لئے پہلی مہربانی تو یہ کیجئے کہ جدید سائنس اور اخلاقیات کو ایک دوسرے کی ضد یا متبادل بناکر مت پیش کیجئے۔ دوسری گذارش یہ ہے کہ ہم سب کو اس بات پر پھر سے غور کرنا چاہیے کہ کیا واقعی مسلم معاشروں میں اخلاقی قدریں اپنی اعلیٰ سطح پر ہیں؟

کیا مسلم محلوں، بستیوں، شہروں اور ممالک میں قتل، اغوا، ڈکیتی اور ریپ ہوتے ہیں؟ اگر نہیں ہوتے تو واقعی آپ اخلاقی اقدار کے معاملے میں مغرب سے آگے ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو اپنی اس رائے پر نظر ثانی کیجئے کہ مسلم معاشرے میں دوسروں کے مقابلے اخلاقی قدریں زیادہ بلند ہوتی ہیں۔ چلئے اس میں اور نرمی کیے دیتے ہیں۔ کسی معاشرے سے جرائم کا سو فیصد ختم ہونا مشکل ہے، اس لئے یہی دیکھ لیجیے کہ مسلم معاشرے میں یہ جرائم مغربی ممالک کے مقابلے میں کتنے گنا زیادہ یا کم ہیں۔

جس دن مسلم محلوں، بستیوں، شہروں اور ممالک سے کم تولنا، جھوٹ بولنا، عورتوں پر بری نظر ڈالنا، جنسی جرائم، ریپ، جیب کاٹنا، نقب لگانا، رشوت لینا، رشوت دینا، جھوٹے گواہ خریدنا، اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کرنا، قتل اور لوٹ مار، زمینوں پر ناجائز قبضے اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے جرائم مٹ جائیں گے یا کم از کم اتنے تھوڑے ہو جائیں گے کہ دوسرے معاشروں کے مقابلے یہ فرق نمایاں طور پر نظر آنے لگے اس دن ہمیں یہ کہنے کا حق ہوگا کہ مسلم معاشرہ مغرب سے اخلاقی طور پر بہتر ہے۔

بات چل نکلی ہے تو ذرا ایک معاملہ اور نمٹاتے چلیں۔ مغربی معاشرے میں اخلاقی جرائم اور مسلم معاشرے میں اخلاقی جرائم دونوں ایک نوعیت کی بات نہیں ہیں۔ مغرب کے بارے میں ہمارا تصور یہ ہے کہ وہ عریانی، فحاشی اور اخلاقی زوال میں غرق قوم ہے۔ اب اگر ایسی قوم میں اخلاقی جرائم پائے جائیں تو کچھ حیرانی نہیں لیکن چونکہ مسلمانوں کی دینی تعلیمات ان خرابیوں کے سخت خلاف ہیں اس لئے مسلم معاشرے میں ان خرابیوں کی ذرا سی بھی موجودگی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ مسلم حلقوں میں مساجد، مدارس، علماء اور واعظین کی دن رات موجودگی اور خدمات کے باوجود بھی ان اخلاقی جرائم کی بڑے پیمانے پر موجودگی بہت کچھ کہتی ہے۔

مسلمانوں میں اخلاقی اقدار کے زوال پر گفتگو کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام کی دعوت میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بڑا دخل رہا ہے۔ پیغمبر اسلام کی اعلان رسالت سے پہلے کی زندگی بتاتی ہے کہ اپنے اخلاق سے انہوں نے صادق اور امین کا خطاب پایا تھا۔ پیغمبر اسلام نے کوہ صفا پر چڑھ کر جب نیچے کھڑے لوگوں سے معلوم کیا کہ اگر میں کہوں کہ پہاڑ کے دوسری جانب سے ایک لشکر چلا آ رہا ہے تو کیا تم یقین کروگے؟

لوگوں کا جواب ایک جیسا تھا کہ ہم نے آپ سے سچ کے سوا کچھ نہیں سنا۔

اتنا ہی نہیں اسلام کی دعوت دینے کے بعد جب پیغمبر پر مکہ کی زمین تنگ ہونے لگی اور ہجرت کے حالات بن گئے تب تک بھی مخالفین کی امانتیں انہیں کے پاس رہیں۔ ہم یہ بات پڑھ کر گزر جاتے ہیں لیکن اس سے نتیجہ نہیں نکالتے کہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود پیغمبر اسلام کی امانتداری پر کتنا یقین تھا کہ لوگوں کو اپنی امانتوں کے بارے میں ذرا بھی تشویش نہیں ہوئی۔ مخالفت کا یہ عالم تھا کہ دارالندوہ میں میٹنگ کرکے پیغمبر اسلام کو قتل کرنے کی سازشیں ہو رہی تھیں اور امین ہونے پر اتنا یقین کہ کبھی فکرمند نہیں ہوئے۔

ہم نے پیغمبر کی سیرت کتنی ہی بار پڑھی اور سنی ہے لیکن کیا ان واقعات سے ہم کوئی نتیجہ نکالتے ہیں؟ کیا اس میں موجود سبق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور کیا اسے اپنے لئے نمونہ عمل بناتے ہیں؟ پیغمبر کے خاکے بنانے والوں کے خلاف شرق سے غرب تک کے مسلمان سڑکوں پر اتر آتے ہیں لیکن اس پر غور نہیں کرتے کہ ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں کتنی ہی بار ان ہدایات اور تعلیمات کو روند کر نکل جاتے ہیں جن کے لئے پیغمبر نے نرم و گرم ہر حالات کا سامنا کیا۔

اخلاق کی ایک بنیادی قدر حق گوئی اور جرائت اظہار بھی ہے۔ سہی کو غلط اور غلط کو سہی قرار دینا بھی ایک اخلاقی جرم ہے۔ اسی طرح برائی کے خلاف آواز اٹھانا اعلیٰ اخلاقیات کا تقاضہ ہے۔ مسلم معاشرے میں یہ اخلاقی قدر کتنی عام ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ سلطنتوں کے دور میں بادشاہوں کے ہر اچھے برے کام کی شرعی تاویل اور جواز فراہم کرنے پر علمی صلاحتیں لٹانے کے واقعات ہم پڑھ چکے ہیں۔ کیسی حیرانی کی بات ہے کہ یہ رویہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں مسلم معاشروں میں پایا جاتا ہے۔

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں یمن میں سعودی عرب اور شام میں ایران کی مداخلت پر ایک شیعہ اور ایک سنی کی بحث کروا دیجئے۔ آپ پائیں گے کہ اپنے فریق کی حرکت کا جواز پیدا کرنے اور سامنے والے فریق کی حرکت کو جرم قرار دینے کے لئے دنیا بھر کی تاویلیں کر دی جائیں گی۔ یہ تو رہا عوام کا حال۔ اب ذرا ان مسلم ممالک پر نظر ڈالیے جہاں بادشاہتیں جلوہ افروز ہیں۔ وہاں کے وہ علماء جو حکومت سے وابستہ ہیں انہوں نے کتنی بار حکومت کو ٹوکا؟

اخلاقیات کے حوالے سے مسلمانوں کی حالت پر پاکستان کے مشہور اسکالر جناب احمد جاوید نے ایک واقعہ کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے فرمایا کہ جب امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ نے کچھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں آنے پر پابندی لگائی تو امریکیوں کی ایک بڑی تعداد دیوار بن گئی۔ لوگوں نے اپنے نام مسلمانوں کے ساتھ درج کرانے کا اعلان کیا، ایئرپورٹ پر پھنسے مسلمانوں کی مدد کے لئے امریکی ڈاکٹر، انجینئر اور حقوق انسانی کارکنان دوڑ پڑے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے۔ جاوید صاحب نے اس واقعہ کا ذکر کرکے سوال کیا کہ پاکستان میں اینٹ بھٹے پر کام کرنے والے عیسائیوں کو جب قتل کیا گیا اس وقت کتنے لوگوں نے مقتول افراد کی حمایت کی؟

بادشاہوں اور حکومتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کو چھوڑ بھی دیا جائے تب بھی کیا مسلم معاشروں میں سماجی برائیوں کے خلاف ہی اتنی شدید آوازیں اٹھیں جتنی اٹھنی چاہیے تھیں؟ کیا آج بھی غریب مسلمان اس فکر میں نہیں گھلتا کہ اس کی جوان بچی کے لئے جہیز کہاں سے فراہم ہوگا؟ مسلمان معاشرے کے کتنے ارباب حل و عقد ہیں جنہوں نے جہیز کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائی؟ کیا مسلم معاشرہ جہیز کے لئے تشدد اور بچیاں پیدا کرنے پر تشدد کی وارداتوں سے پاک ہے؟ سوچنے کی بات ہے کہ اس سب پر بھی ہمیں اپنی اخلاقی قدروں کے بارے میں احساس برتری ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 79 posts and counting.See all posts by malik-ashter