اسرائیل کی طرف سے حماس کے کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنک کا سلسلہ


غزہ کی چھوٹی سی پٹی اور اس پر بسنے والے چند لاکھ افراد ہر کچھ عرصہ بعد آگ اور خون میں نہا جاتے ہیں۔ انسانیت کی بھیانک تصویر پیش کرتے فلسطینیوں کے درندہ صفت دشمن اپنے نوکیلے ناخنوں سے لاشے تک نوچ لیتے ہیں۔ غزہ میں رواں سال تین مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک ایک سو بارہ فلسطینی شہید اور تقریباً تیرہ ہزار زخمی ہوئے ہیں اور ان میں شہید ہونے والے تیرہ، اور زخمی ہونے والے اکیس سو بچے ہیں۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر سرحد پر ان کی جانب سے آبائی علاقوں میں لوٹنے کے حق کے لیے کیے جانے والے احتجاج کی وجہ سے کی جا رہی ہیں۔ صہیونیت کی ڈائن، مادر شکم میں سانس لیتے بچوں کو بھی چبا جاتی ہے۔ ایسے حالت میں ہماری قومی اسمبلی میں دبے لفظوں میں اسرائیل کے حق میں بیان آنا شرمناک ہے۔

اسرائیل کی حالیہ وحشیانہ کارروائیوں میں خاص طور پر حماس کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حالیہ مہینوں اسرائیلی فوج کی حماس اور حماس کی ذیلی تنظیموں کے درمیان میں دوطرفہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

کچھ عرصہ قبل اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اسرائیل چند ماہ سے غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس او دیگر فلسطینی مزاحمتی قیادت کو ٹارگٹ کلنک کے ذریعے شہید کرنے پر غور کررہا ہے۔ یقیناً اب یہ بات صد فیصد درست ہوتی نظر آتی ہے۔ اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ 12 نومبر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے آپریشن کے دوران حماس کے ایک مقامی کمانڈر سمیت چھ فلسطینی ہلاک کردیے گئے۔ کہاں ہیں دنیا میں امن کے ٹھیکیدار جو امن کے ایسے عاشق ہیں کہ امن کے نام پر جنگ مسلط کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، کہاں ہیں انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے جو اس نعرے کی آڑ میں کسی ملک کو ہدف بنالیں تو تجارتی پابندیوں سے فضائی حملوں تک سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حماس کمانڈر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس نے گرفتاری دینے کے بجائے شہادت کا تاج پہنے کو ترجیح دی۔

غزہ کی پٹی پر گھر گھر لاشے ہیں، جگہ جگہ تباہی ہے لیکن دنیا کے طاقتوروں کو نہ خون میں نہاتا امن نظر آتا ہے، نہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی دکھائی دیتی ہے۔ غزہ، یہ فلسطین، یہ کیسی عجب جگہ ہے۔ میرے رب اس کرہ عرض پر جہاں مسجدوں میں روزانہ پانچ وقت نماز ادا ہوتی ہے، غزہ کے لوگ ہر روز چھے نمازیں ادا کرتے ہیں اور چھٹی نماز، نماز جنازہ ہوتی ہے۔ حماس کے کچھ شہدا کے نام اپنی تحریر کو روشن کرنے کے لیے لکھ رہی ہوں : نور الدین برکات السلامہ (عمر 37 برس) ، ماجد الموسیٰ القرہ (عمر 23 برس) ، خالد علی القوادیر (عمر 29 برس) ، مصطفی حسن ابو عودہ (عمر 21 برس) ، محمود عطا اللہ مصباح (عمر 25 برس) ، علاء الدین فوذی سیفی (عمر 24 برس) عمر ناجی اور مسلم ابو خاطر (عمر 21 برس) ہیں۔ واضح رہے کہ عز الدین القاسم بریگیڈ کے مجاہد، ماجد الموسیٰ القرہ شہید کی ایک ہفتے قبل ہی شادی ہوئی تھی اور وہ غزہ کی پہرے داری میں مصروف تھے۔

غزہ کا یہ چھوٹا سا مختصر آبادی والا علاقہ ہر کچھ عرصے بعد اپنے خون میں نہا کر اور بھیانک تباہی سے گزر کر ہماری دنیا کے تضادات، منافقت اور بے حسی کا پردہ چاک کردیتا ہے۔ آج بھی غزہ کے مظلوم فلسطینی اپنے خون سے اس دنیا کی یہ حقیقت لکھ رہے ہیں کہ اس دنیا میں طاقت ہی سب کچھ ہے۔ طاقت کے سامنے منطق، دلیل اور اخلاقیات سب سرنگوں ہوجاتی ہیں، ہار جاتی ہیں یا مفاہمت کر لیتی ہیں۔ غزہ کی سر زمین پر بکھری لاشیں انسانی حقوق کے دعویداروں سے انصاف مانگتی ہیں۔

80 ء کی دہائی میں قائم کی گئی تحریک حماس کو اب تک صہیونی ریاست کی طرف سے متعدد بار اسرائیل کی منظم ٹارگٹ کلنگ کا سامنا رہا ہے۔ سنہ 1996 ء میں حماس کے سینیر رہنما انجینیر یحییٰ عیاش، 2004 ء میں عدنان الغول، 2002 ء میں صلاح شحادہ، 2004 ء میں حماس کے بانی الشیخ احمد یاسین، 2004 ء میں ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی اور 2012 ء میں القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد الجعبری کو قاتلانہ حملوں میں شہید کیا گیا۔

غزہ میں جابجا بکھری یہ لاشیں ان دعوے داروں سے پوچھتی ہیں کہ تم تو وہ نرم دل ہو کہ جانوروں کی اذیت پر بھی تڑپ جاتے ہو، ہم جنس پرستوں کو بے حیائی سے روک دیا جائے تو تم ان کے ”حقوق“ کی یہ خلاف ورزی برداشت نہیں کرپاتے، چائلڈ لیبر تمھیں بے کل کردیتی ہے، تو پھر غزہ میں اسرائیل کی طرف سے برسائی جانیوالی آگ میں جلتے جھلستے یہ انسان تمھیں کیوں نظر نہیں آتے؟ کیا تم انہیں انسان نہیں سمجھتے؟ کیا تم انہیں جانور سے بھی کم تر جانتے ہو؟ یہ سوالات امن اور انسانی حقوق کے نعروں کی حقیقت سامنے لے آتے ہیں۔ امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی اس بات کا چیختا ثبوت ہے کہ امریکی صدر صیہونی حکومت کے جرائم میں ان کے برابر کے شریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ حماس جیسی دفاعی تحریکوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے۔

ایک خبر کے مطابق ”اسرائیل کا جاسوسی کا ادارہ موساد دنیا کا وہ واحد جاسوسی کا ادارہ ہے جس کے پاس کیدون نام کا قاتل دستہ موجود ہے۔ کیدون قاتل دستہ حکومتی طور پر دنیا کے مختلف علاقوں خاص طور پر تین ملکوں، فلسطین، لبنان اور اسرائیل میں ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں انجام دیتا ہے۔ درحقیقت کیدون دستہ ان افراد کو قتل کرتا ہے کہ جنھیں پہلے صیہونی حکومت کا جاسوسی کا ادارہ موساد شناخت کرتا ہے اور پھر ان کے نام ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں ڈال دیتا ہے۔ اسرائیل کے اسٹریٹیجک امور کے ماہر رونین پیرگمین نے کیدون کو، اسرائیل کے جاسوسی کے ادارے موساد کے اندر موساد سے تشبیہ دی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ کیدون کے افراد کو ایک نامعلوم مقام پر اغواء، بمباری اور ٹارگٹ کلنگ کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور موساد کے کارکن بھی انہیں نہیں پہچانتے۔ جن شخصیتوں کے نام اسرائیل کی ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں ہیں، انہیں پہلی بار اس لسٹ میں نہیں رکھا گیا ہے بلکہ ایک عرصے سے ان کے نام اس فہرست میں ہیں اور موساد کا قاتل دستہ اب تک انہیں قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے“۔

بیت المقدس کی غاصب حکومت کے غاصبانہ قبضے کو ستّر سال گزر چکے ہیں اور اس دوران وہ دسیوں فلسطینی اور لبنانی سیاستدانوں، کمانڈروں اور سائنس دانوں کو شہید کرچکی ہے۔

روح کانپ اٹھتی ہے۔ اہل غزہ کی حالت دیکھ کر دل میں آتا ہے۔ درحقیقت غزہ کا معرکہ ایک ایسی صورتحال اختیار کر گیا ہے جس نے سب ہی کو بے نقاب کردیا ہے، امن کی دعوے دار عالمی طاقتوں کو بھی اور مسلم ممالک کے حکم رانوں کو بھی۔ وسائل سے مالامال مسلم ممالک جن کی زمینوں پر پیدا ہونیوالے تیل سے عالمی طاقتوں کی معیشت کا پہیا گھومتا ہے، جن کے حکمرانوں کے بینک اکاؤنٹس مغربی ممالک کو اقتصادی طاقت فراہم کرنے کا باعث بنے ہوئے ہیں، جو ایک ارب سے زیادہ آبادی پر محیط ہیں کہ اگر امریکا اور یورپ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیں تو ان صنعتی اور معاشی طاقتوں کی معیشت ہل کے رہ جائے، لیکن یہ ممالک اور ان کے عیش پسند خوفزدہ حکم راں اس معاملے میں دکھاوے کے اقدامات کے علاوہ کچھ کرسکے ہیں نہ کر سکیں گے کیونکہ ان کے ذاتی، گروہی اور نام نہاد قومی مفادات انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے۔

گویا اسرائیل کی درندگی کا طاقت سے جواب دینا تو دور کی بات ہے، مسلم دنیا کے حکمراں ایسے ٹھوس معاشی اقدامات کرنے کی بھی ہمت نہیں رکھتے جو اسرائیل کے سرپرست اور ہم نوا ممالک کو مجبور کردیں کہ وہ اپنے اس پالتو جانور کی زنجیر کھینچ لیں۔ اگر مسلم ممالک صرف اسرائیل کا ساتھ دینے والے ملکوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیں تو چند ہی روز میں صورتحال بدل سکتی ہے، مگر خوف اور خودغرضی ایسا کیوں ہونے دیں گے؟

اس مسئلے کا حل صرف طاقت کا استعمال اور معاشی بائیکاٹ ہی ہوسکتے ہیں، ورنہ جوشیلی تقریریں ہوتی رہی گی، احتجاجی مظاہرے اور جلسے ہوتے رہیں گے، نعرے لگتے رہیں گے، اسرائیلی اور امریکی پرچم جلتے رہیں گے لیکن فلسطینیوں پر ڈھایا جانے والا ظلم روکا نہ جاسکے گا۔ غزہ میں ہر روز قیامت مچتی رہے گی، جنازے اٹھائے جاتے رہیں گے اور بستیاں کی بستیاں تباہ ہوتی رہیں گی۔ اپنے کالم کے آخر میں محمد عثمان جامعی کی ایک نظم دے رہی ہوں، اقوامِ عالم خاص طور پر مسلم ممالک کے حکمراں اور عوام اگر غزہ کے لیے کچھ نہ کرسکیں تو کم ازکم وہ تو کر ہی سکتے ہیں جس کی اس نظم میں اپیل کی گئی ہے۔

”اپیل“

گولی، راکٹ نہ بم بھیجیں
نہ چاول اور گندُم بھیجیں
نہ دینار و درہم بھیجیں
پٹّی نہ کوئی مرہم بھیجیں

نہ حرفِ مذمت کے تحفے
نہ لفظوں کے ماتم بھیجیں
غربائے غزہ کی لاشوں کو
کفنانے کی کچھ صُورت ہو
بس اقوامِ عالم ساری
اپنے اپنے پرچم بھیجیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں