ووٹ کی عزت کی گونج خاموش کیوں ہو گئی؟



میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر نے پاناما کیس میں نااہلی کی سزا کے بعد جی ٹی روڈ سے لاہور تک کا سفر ہزاروں افراد کے قافلے میں “ووٹ کو عزت دو” کے نئے بیانیے کے ساتھ مکمل کیا۔ اسلام آباد سے لاہور کے سفر کے دوران جگہ جگہ ، شہر شہر مریم نے اداروں کو احساس دلایا کہ اگر میرا بندوبست نہ کیا تو تمہارے سارے انتظامات، تمہارے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اس سفر کے چند دن کے دورانیے میں ووٹ کو عزت دو محض ایک نعرے سے ایک واشگاف گونج میں بدل گیا۔ اس سفر میں مریم صفدر نے اپنے والد میاں نواز شریف سے زیادہ جارحانہ لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو اپنے انتخابی سلوگن کے طور پر اتنا مقبول بنادیا کہ مسلم لیگ ن نے اس نعرے کی گونج میں انتخاب لڑا۔ اور ایک کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کرکے ان مقتدر حلقوں کو باور کرایا کہ اگر ووٹ کی عزت اور حرمت کا خیال کیا گیا ہوتا تو آج ملک پر ڈونکی راج نہیں ہوتا۔

انتخابات سے کچھ پہلے میاں صاحب اپنی بیٹی اور داماد سمیت نیب ریفرنس میں سزا وار ٹھہرا کے پابند سلاسل ہوئے اور پھر اسی دوران بیگم کلثوم نواز کے انتقال نے ان کی مشکلات و تکالیف میں مزید اضافہ کردیا۔ میاں صاحب اور مریم صفدر کی پیرول پر رہائی اور پھر بیگم کلثوم کے سوئم کے بعد جیل منتقلی سے لیکر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے تک اچانک ہی ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی گونج تھمتی نظر آئی۔ اس دوران یہ تاثر ابھرنا شروع ہوا کہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کے معاملات طے پا گئے ہیں اور بہت جلد ہی شریف خاندان کے گرفتار افراد رہا ہوکر ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ سے میاں صاحب، مریم، اور کیپٹن صفدر کی سزاؤں کی معطلی کے فیصلے نے ان افواہوں کو مزید تقویت بخشی کہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب نے نظرثانی کی اپیل تو دائر کردی ہے مگر اب بھی یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ سپریم کورٹ سے نااہلی کی سزا کے بعد جس بھرپور طریقے سے عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا گیا وہ بیانیہ کیونکر کانوں کو سنائی نہیں دے رہا۔ حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور عوام کو امید تھی کہ میاں نواز شریف اور مریم اپنے سے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر اپنے کارکنان اور عوام سے فوری طور پر رجوع کریں گے اور اپنے مؤقف اور بیانیے کو مزید مؤثر طریقے سے عوام میں مقبول کرنے اور عمران خان حکومت کے لیئے مشکلات کھڑی کریں گے۔ مگر ایسا ہوا نہیں، دونوں باپ بیٹی کو ایسی چپ لگی ہے کہ جیسے انہیں بولنا ہی نہیں آتا۔

میاں صاحب تو احتساب عدالت میں پیشیوں کے موقع پر نظر بھی آ جاتے ہیں مگر مریم کو تو دیکھنے کو ہی آنکھیں ترس گئی ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا فلک شگاف نعرہ اب صرف فضا میں بھٹکتی ہوئی گونج کی طرح ہی کبھی کبھار سنائی دے جاتا ہے۔ میاں نواز شریف اور مریم کے جارحانہ رویے، ان کے عدلیہ سمیت مقتدر اداروں کے خلاف سخت مہم، ان کے انتہائی مضبوط سیاسی بیانیے کو ملنے والی پذیرائی کے باوجود ان کی عوام سے اس طرح اچانک دوری اور مکمل سیاسی سکوت نے معاملے کی سنگینی کو اور بھی گہرا کردیا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ ان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزاؤں کی معطلی کی اپیل دائر ہونے کے وقت ڈیل اور ڈھیل کی جن افواہوں نے جنم لیا تھا ان میں کچھ تو سچائی رہی ہوگی ورنہ سزاؤں کی معطلی کے بعد تو میاں صاحب کے مؤقف کو مزید تقویت ملی تھی۔ انہیں تو اپنا بیانیاں اور مضبوطی کے ساتھ عوام کے آگے رکھنا چاہئے تھا۔

اس میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی بےوطنی میں رحلت سے اور انکی بیماری کے آخری دنوں میں ان سے دور رہنے کی وجہ سے دونوں باپ بیٹی شدید صدمے میں رہے ہیں مگر اب تو بیگم صاحبہ کا چہلم بھی گذر گیا۔ میاں صاحب کا دھیمہ لہجہ تو ٹھیک ہے مگر مریم کی مکمل خاموشی شکوک وشبہات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ بھی گمان لگایا جا رہا ہے کہ شریف خاندان اپنی سیاست اور پارٹی بچانے کے لئے مزید کسی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے اسی لیئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خاموشی اختیار کی گئی ہوگی۔ ایسے وقت جب مسلم لیگ ن کی قیادت بشمول میاں شہباز شریف، ان کے بیٹوں اور خواجہ برداران کے گرد نیب نے گھیرا تنگ کر دیا ہے، مسلم لیگ ن کی قیادت کرنے اور اپنے کارکنان کو سیاسی طور پر متحرک رکھنے، حکومت کو ٹف ٹائیم دینے کے لیئے مریم جیسی برجستہ، پرجوش اور پر اعتماد رہنما کا ہونا زیادہ ضروری ہے تو وہ ایسے خاموش ہیں جیسے ان کے سر پر کسی نے بندوق تانی ہوئی ہو۔

مریم نواز شریف نے اپنے والد کے ساتھ جس طرح اپنی بقا کی جنگ لڑی اور جس مضبوط بیانیے کو لے کر وہ عوام کے پاس گئیں اس سے ان کا شمار ایکدم سے مسلم لیگ ن کے سب سے زیادہ بااثر، مقبول اور جرئت مند رہنماؤں میں ہونے لگا۔ ایک وقت تو ان کی پارٹی میں موجود کچھ ان کے اپنے ہی مریم کے اس جارحانہ اور مقبولیت حاصل کرتے کردار پر مضطرب نظر آئے۔ یہاں تک کہ مسلم لیگ ن میں اثر رکھنے والے چودہری نثار کو بار بار یہ کہنا پڑا کہ وہ اپنی جونیئر کو اپنا لیڈر کبھی تسلیم نہیں کریں گے، ایسے ہی ملتے جلتے خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے کچھ اور اور رہنما بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں کرتے نظر آئے۔ بہرحال ووٹ کو عزت کا جو بیانیہ لیکر مریم اور میاں نواز شریف عوام میں گئے تھے اسے پذیرائی اور مقبولیت حاصل ضرور ہوئی تھی، اس بیانیے کی گونج گلی گلی، قریہ قریہ، نگر نگر سنائی بھی دیتی رہی مگر اب جب میاں نواز شریف انکی بیٹی اور داماد قید سے آزاد ہیں تو یہ گونج خاموشی میں بدل چکی ہے اور اس کے پیچھے کیا راز چھپا ہے۔ یہ ابھی تک صرف قیاس آرائیوں کی صورت میں ہی گردش کر رہا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ دونوں باپ بیٹی کی آزادی اور پھر لمبی پراسرار خاموشی میں کچھ تو گڑبڑ ضرور ہے ورنہ ووٹ کی عزت کے نعرے کی گونج اتنی آسانی سے تھمنے والی نہ تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں