یوٹرن کی سیاست آخر کب تک؟


ملک میں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں تب عوام کے ساتھ سیاستدان بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں مگر مشکل سے سو میں سے دس سیاستدان اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ سیاستدان تو یوٹرن لے لیتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سلسلہ ہمارے ملک میں کتنے وقت سے چل رہا ہے۔ مگر عوام اس امید سے ہوتے ہیں کہ اس مرتبہ جو بھی سیاستدان آئے گا وہ ملک میں خوش حالی لائے گا اور قوم کے ساتھ کئے ہوئے وعدے پورے کرے گا مگر افسوس جو بھی پارٹے کامیاب ہوتی ہے وہ اپنے وعدوں سے یوٹرن لے لیتی ہے۔

اس مرتبہ تبدیلی کے نعرے پر ملک میں کامیاب ہونے والی پارٹی نے بھی اقتدار میں آتے ہی یوٹرن لے لیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں غربت و افلاس کے مارے عوام کئی برسوں سے متواتر مہنگائی کا طوفان برداشت کرتے آ رہے ہیں۔ الیکشن سے پہلے عوام سے مہنگائی ختم کرنے کا واعدہ کیا گیا تھا مگر اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہوا۔ پیٹرول سستا کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر وہ بھی پورا نہیں ہوا۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے تب سے مہنگائی نے عوام کو دن میں تارے دکھا دیے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے ملازمین اور دیگر محکمہ کے ملازمین احتجاج کر رہے ہیں۔ ملک میں زیادہ ٹیکس لگنے کی وجہ سے گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اور ناروا اضافہ کے گیا ہے، جس کے بعد اب بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

عوام کی مشکلات تو حل نہ ہوئیں مگر لوگوں کا سیاسی نظام پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ بے جا ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کے پیش نظر کاروباری افراد کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

پاکستان کی معیشت زراعت پر انحصار کرتی ہے مگر ٹیکس لگنے کی وجہ سے کسان بھی پریشان ہوگیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک کے سیاستدان ملک میں مہنگائی کے بم کو ناکارہ کر سکتے ہیں اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب ہمارے ملک کے جمہوری سیاستدان ایک پیج پر آجائیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دو قسم کے سیاستدان پائے جاتے ہیں، ایک وہ جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور ایک وہ سیاستدان ہیں جو غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ عوام تو صرف الیکشن کے وقت ووٹ دیتی ہے۔ اس امید سے کہ ان کے مسائل حل ہوجائیں گے مگر وہ امید صرف امید ہی رہ جاتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبب سیاستدانوں کا یوٹرن لینا ہے۔ اگر سیاستدان یوٹرن نہ لے اور عوام کے ساتھ کئے ہوئے وعدے پورے کرے تو عوام کا سیاستدانوں پہ بھروسا بڑھ جائے گا۔

کچھ دن پہلے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب رہنما نہیں ہوتا اور جو یوٹرن لینا نہیں جانتا، اس سے بڑا بےوقوف لیڈر کوئی نہیں ہوتا۔ تاریخ میں نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کر تاریخی شکست کھائی۔ نواز شریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا بلکہ جھوٹ بولا تھا۔

عمران خان کے اس بیان کے ردعمل میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ نے کہا تھا کہ عمران خان نے ہٹلر کی مثال دے کر ثابت کیا کہ وہ بھی ہٹلر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد اپوزیشن کے ساتھ ساتھ عوام بھی حیران ہو گئی اور اس طرح ملک ایک مرتبہ پھر یوٹرن پر بحث چھڑ گیا۔ اور آج کل صرف یوٹرن کا بحث چل رہا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت حکومت کو یوٹرن کی بات کرنے سے پہلے تبدیلی کے نعرے کو انجام تک پہنچانا چایئے اور یہ تب ہوگا جب سیاستدان ایوانوں میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے عوام کے اصل مسائل کو بیان کریں۔ ہماری تو حکمرانوں سے صرف ایک ہی گذارش ہے کہ وہ عوام سے کئے ہوئے وعدے پورے کرے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں